آپ دیں مجھ کو تسلی مثلِ حنانہ حضورﷺ!

وہ مدینہ کی ایک خاموش دوپہر تھی۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ستونوں میں ایک تنا کھڑا تھا؛ سادہ، بے نام، مگر قسمت کا تاج اُس کے سر تھا کہ اُس سے محبوبِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ اس خشک لکڑی نے کتنی بار رحمت کی بارش کو اپنے وجود پر اُترتے محسوس کیا ہوگا۔ اُس کے ریشوں میں دُرود کی خوشبو بس گئی تھی، اُس کے اندر شاید وحی کے لفظوں کی گونج ٹھہر گئی تھی۔ پھر ایک دن منبر بن گیا… اور محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اُس تنے سے جدا ہو گئے۔ وہ تنا جو کبھی قربِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرارت سے مہکتا تھا، یکایک جدائی کی سردی میں کانپ اُٹھا۔
اور پھر وہ ہوا جس نے تاریخ کو رُلا دیا … ایک خشک لکڑی سے سسکیوں کی آواز آئی۔ وہ رو رہا تھا… ایسا رو رہا تھا جیسے صدیوں کا ہجر اُس کے اندر ٹوٹ پڑا ہو۔ مسجد میں بیٹھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حیران تھے، مگر اُس رونے کی اصل وجہ تو عاشق جانتا ہے کہ:… قرب چھن جائے تو پتھر بھی بول اُٹھتے ہیں… اور پھر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اُترے۔ آپ علیہ السلام نے اُس تنے کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ جیسے ماں روتے بچے کو سینے سے لگا لیتی ہے۔ وہ آغوش… وہ لمس، وہ تسلی… سسکیاں تھم گئیں، ہچکیاں رُک گئیں اور وہ تنا سکون میں ڈوب گیا۔آہ! سوچتا ہوں کاش میرا دل بھی وہی تنا ہوتا جو آپ کے سینے سے لگ کر قرار پا جاتا۔ کاش! میرے آنسو بھی اسی طرح تھم جاتے، جب آپ اپنے دستِ شفقت سے انہیں پونچھ دیتے۔ یانبی صلی اللہ علیہ وسلم! ہجر کے اِس زمانے میں میرا دل بھی ‘حنانہ’ کی طرح روتا ہے، روح بھی جدائی کے زخم سے کراہتی ہے، نگاہیں بھی اُس لمس کی متلاشی ہیں جس نے ایک خشک لکڑی کو بھی زندہ کردیا تھا۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ بھی مجھ کو تسلی دیں مثلِ حنانہ! کہ میرا دل بھی اسی تنے کی طرح آپ کے ذکر میں سسکتا ہے، آپ کی یاد میں بھیگتا ہے… اور آپ کی آغوشِ رحمت کا طلبگار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حبشہ سے اُحد تک کا سفرِ وفا
آقا! جب بھی ‘حنانہ’ کا قصہ یاد کرتا ہوں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، یہ سوچ کر کہ ایک لکڑی کو تو آپ نے دِلاسا دیا تھا، اب ہمیں بھی تسلی دے دیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دل بس یہی دعا کرتا ہے: قیامت کے دن اگر حشر کی گرمی میں روح بے چین ہو، تو حضور! ہمیں بھی اسی طرح اپنے قریب بلا لیجئے گا جیسے آپ نے حنانہ کو سینے سے لگایا تھا، تاکہ یہ روتا ہوا دِل بھی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوکر قرار پاجائے…!!