کیا ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں؟

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات میں ناکامی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر محدود فضائی حملوں پر غور شروع کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اور ان کے قریبی مشیر مختلف عسکری اور سفارتی آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں محدود نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی بھی شامل ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
امریکی اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا محدود کارروائی سے مذاکرات میں تعطل ختم کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ اقدام کا مقصد بڑے پیمانے پر جنگ سے گریز کرتے ہوئے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیںمذاکرات بے نتیجہ ختم، مشرقِ وسطیٰ میں اب کیا ہوگا؟
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ محدود حملے صرف مخصوص فوجی تنصیبات یا اسٹریٹجک اہداف تک محدود رہیں تاکہ کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے۔
تاہم بعض مشیران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی خطے میں تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق انتظامیہ اس معاملے پر اتحادی ممالک سے مشاورت بھی کر رہی ہے، جبکہ سفارتی چینلز کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا اور حالات کے مطابق مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔