اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا نیا مرکز

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
اسلام آباد غیرمعمولی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں، سفارتی حلقے، دفاعی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا سب کی نظریں پاکستان کے دارالحکومت پر مرکوز ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ براہِ راست مذاکرات ایک تاریخی مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔
یہ محض ایک ملاقات نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط کشیدگی، بداعتمادی اور تصادم کے ایک باب کو بند کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکا اور ایران کے تعلقات 1979ءکے انقلابِ ایران کے بعد مسلسل تناو کا شکار رہے ہیں۔ پابندیاں، دھمکیاں، پراکسی جنگیں اور اب براہِ راست تصادم کے واقعات اس تعلق کی پہچان بن چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا فریقین کو ایک میز پر لانا بلاشبہ ایک جرات مندانہ، نازک اور تاریخ ساز سفارتی اقدام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اس عمل کو ”اِمپاسبل مشن“ قرار دے رہے ہیں۔ ایک ایسا ہدف جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے مگر اس کی کامیابی دنیا کے طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔تاہم اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایسی بڑی سفارتی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائی ہو اور امباسبل مشن کو پاسبل کرکے دکھایا ہو۔ ماضی میں بھی یہ سرزمین عالمی سیاست کے اہم ترین موڑوں کی خاموش مگر فیصلہ کن گواہ رہی ہے۔
1971ءمیں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا خفیہ دورہ بیجنگ جو اسلام آباد کے ذریعے ممکن ہوا، دراصل امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی کا نقطہ آغاز تھا۔ اس ایک قدم نے نہ صرف سردجنگ کی سیاست کا رخ موڑا بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کو بھی نئی شکل دی۔ اسی سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں رچرڈ نکسن نے چین کا تاریخی دورہ کیا، جو کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ تھا اور جسے عالمی سفارت کاری کا ایک عظیم سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے اور پاکستانی سفارتی کامیابی کی ایک لازوال مثال بھی۔اسی طرح 1980ء کی دہائی میں افغانستان کے تنازع کے حل کے لیے ہونے والے سفارتی عمل میں بھی پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ جنیوا معاہدہ 1988ء اگرچہ سوئٹزرلینڈ میں طے پایا، لیکن اس کی بنیاد رکھنے والی سفارت کاری میں اسلام آباد ایک کلیدی مرکز کے طور پر سامنے آیا۔افغانستان، سوویت یونین اور امریکا کے درمیان پیچیدہ مذاکراتی عمل میں پاکستان نے نہ صرف سہولت کار بلکہ ایک فعال ثالث کا کردار ادا کیا۔ مزیدبرآں اِسلامی سربراہی کانفرنس لاہور 1974ء اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مختلف قیادتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کانفرنس میں مسلم دنیا کی قیادت ایک جگہ جمع ہوئی اور پاکستان ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھرا۔یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ پاکستان بارہا عالمی طاقتوں کے درمیان ایک”پل“ کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مگر آج کا منظرنامہ ان تمام سابقہ مثالوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ، اہمیت کا حامل، نازک اور خطرناک ہے۔
اسلام آباد میں جاری موجودہ سفارتی سرگرمیوں کی تفصیلات بھی اس غیرمعمولی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایرانی وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، پہلے پاکستان پہنچا۔ ان کا استقبال اعلیٰ حکومتی و ریاستی شخصیات نے کیا جبکہ عسکری قیادت کی نمایاں موجودگی نے اس امر کو واضح کر دیا کہ یہ محض ایک سیاسی نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک اور سیکورٹی سطح کا معاملہ ہے۔ چند گھنٹوں بعد امریکی وفد بھی اسلام آباد پہنچا جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کررہے ہیں۔ ان کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے داماد اور رائٹ ہینڈ جارڈکشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف جیسے اہم شخصیات کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اس مذاکراتی عمل کو نہایت سنجیدگی اور کثیر جہتی انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
پاکستانی حکام نے انتہائی محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے دونوں وفود کے لیے الگ الگ ملاقاتوں کا شیڈول ترتیب دیا ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی پہلے ایرانی قیادت سے ملاقات رکھی گئی اور اس کے بعد امریکی وفد سے علیحدہ بات چیت کی ترتیب مقرر ہوئی۔ یہ طریقہ کار اس حساس مرحلے میں اعتمادسازی، توازن اور سفارتی نزاکت کو برقرار رکھنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات 2015ء کے ایران جوہری معاہدے کے بعد پہلی بڑی براہِ راست پیش رفت ہوسکتے ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر رابطے بالواسطہ ذرائع سے ہوتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پیش رفت نہ صرف غیرمعمولی ہے بلکہ تاریخ ساز بھی ہے۔ ان مذاکرات کا ایجنڈا نہایت پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہے۔ ایک طرف امریکا ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، اپنے اثاثوں کی بحالی اور علاقائی خودمختاری کے اعتراف کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان متضاد مفادات کے درمیان کسی مشترکہ نکتے تک پہنچنا بظاہر آسان نہیں۔ تاہم پاکستان نے ایک ”تیسری دستاویز“ بھی پیش کی ہے جس میں جانبین کے مفادات کا خیال رکھ کر ایک درمیانی راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ مزیدبرآں خطے کی مجموعی صورتحال بھی اس عمل کو متاثر کررہی ہے۔ لبنان، خلیج اور دیگر علاقوں میں جاری کشیدگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ یہ مذاکرات ایک وسیع تر جغرافیائی اور سیاسی تناظر کا حصہ ہیں۔
اگر ان عوامل کو قابو میں نہ رکھا گیا تو یہ کسی بھی وقت اس سفارتی عمل کو سبوتاژ کرسکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بیانات جن میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا گیا، اس عمل کی نزاکت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ ایک طرف مذاکرات کی میز سجائی جارہی ہے تو دوسری طرف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بھی موجود ہیں، یہی تضاد اس پورے عمل کو مشکل اور چیلنجنگ بناتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں نے پس پردہ سفارتی روابط، سیکورٹی انتظامات اور اعتمادسازی کے اقدامات کے ذریعے اس عمل کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان صرف میزبان نہیں بلکہ ایک فعال ثالث اور اعتماد ساز قوت کے طور پر سامنے آیا ہے۔اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہایت دُوررس ہوں گے۔ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے، عالمی توانائی کی منڈیاں مستحکم ہوسکتی ہیں اور پاکستان کی سفارتی حیثیت میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ عمل ناکام ہوتا ہے تو خدشہ ہے کہ خطہ ایک بار پھر شدید تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
تاہم مبصرین کے مطابق یہ عمل نہایت پیچیدہ ہے اور اس کے نتائج کا دارومدار آنے والے چند دنوں کی پیش رفت پر ہوگا۔ خاص کر اسرائیل اسے سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس نے رات لبنان پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا مگر صبح پھر بمباری شروع کردی ہے۔ اس وقت بھی لبنان کے مختلف علاقون پر بمباری جاری ہے جس سے متعدد افراد شہید و زخمی ہوگئے اور کئی رہائشی عمارتیں ملیامیٹ ہوگئیں۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے اسرائیل کو لگام دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں امریکا ہی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر وہ واقعی مذاکرات میں مخلص ہے تو اسے اپنے بغل بچہ اسرائیل کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ اسلام آباد میں جاری یہ سفارتی سرگرمیاں دراصل ایک بڑے امتحان کی مانند ہیں۔ ایک ایسا امتحان جس میں پاکستان کی سفارتی مہارت، قیادت کی بصیرت اور ریاستی اداروں کی ہم آہنگی سب کچھ آزمایا جائے گا۔ یہ صرف ایک مذاکراتی عمل نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک اُمید بھی ہے۔ پاکستان کے محب وطن عوام کو حق تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہونا چاہیے کہ وہ وطنِ عزیز کو اس مشکل اور نازک سفارتی مشن میں سرخرو فرمائے، پاکستان کی قیادت کو حکمت، بصیرت اور استقامت عطا کرے اور اس کوشش کو خطے، عالمِ اسلام اور پوری دنیا کے لیے پائیدار امن و استحکام کا ذریعہ بنا دے۔ آمین!