دوسری قسط:
قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہلِ کتاب کے ساتھ مکالمے کی بات کی: یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمة سوائِِ بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ (آل عمران) اہل کتاب کو، یہود و نصاری کو دعوت دی تو اس کے اصول بتائے کہ ان کو دعوت دو الی کلمة سواء بیننا وبینکم پر۔ آج کی زبان میں اسے قدرِ مشترک کہتے ہیں۔ جو چیزیں ان کے اور ہمارے درمیان مشترک ہیں، ان پہ پہلے دعوت دو اور قدرِ مشترک کی دو باتیں بیان کیں:
الا نشرک بہ شیئا۔ اللہ کے ساتھ شریک نہ کریں۔ آسمانی مذاہب، جن کی بنیاد کسی نہ کسی وحی پر ہے، توحید ان کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔
اور دوسری بات ولایتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ۔ انسان پر انسان کی خدائی نہیں، لوگوں پر لوگوں کی خدائی نہیں، اللہ کی خدائی پر۔ اسلام کے نظام کی بنیاد ہی یہ ہے۔ اللہ کے احکام جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آئے ہیں، ان کو نافذ کرنا۔ اسلام میں حکمران حاکم نہیں کہلاتا، خلیفہ کہلاتا ہے۔ اور وہ خلیفہ ہے پیغمبر کا۔ پیغمبر علیہ الصلوٰة والسلام نے جو ہدایات دی ہیں ان کو نافذ کرنا، ان کا ماحول قائم کرنا، یہ خلافت کا موضوع ہے۔
اس پر بخاری شریف کی ایک روایت بھی عرض کرنا چاہوں گا۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ حاتم طائی کے بیٹے ہیں۔ حاتم طائی اپنے قبیلے سمیت عیسائی ہو گئے تھے۔ اس زمانے میں رائج الوقت مذہب عیسائیت تھا، کوئی حق قبول کرتا تو عیسائیت قبول کرتا تھا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے پہلے حق قبول کرنے کا مطلب عیسائیت قبول کرنا ہوتا تھا۔ حاتم طائی کا پورا قبیلہ عیسائی ہوگیا۔ حاتم طائی تو فوت ہو گئے تھے۔ عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کی بہن حضرت سفانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ یہ وہی خاتون ہیں جن کے بارے میں ہمارے خطبائے کرام ایک واقعہ بڑے تسلسل سے بیان کرتے ہیں کہ حضور تشریف فرما تھے، ایک خاتون آئی، معزز خاتون تھی، ننگے سر تھی، حضور نے اپنی چادر ان کے سر پہ دی۔ کسی نے پوچھا، یا رسول اللہ، یہ تو کافر کی بیٹی ہے۔ تو فرمایا بیٹی بیٹی ہوتی ہے خواہ کافر کی ہو۔ یہ سفانہ ہیں۔ جب یہ قیدی بن کے آئی تھیں بنو طے کے فتح ہونے کے بعد، عدی اور سفانہ دونوں آئے تھے، تو سفانہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سر پر حضور نے چادر دی تھی۔
عدی بن حاتم عیسائی سے مسلمان ہوئے اور مسلمان ہو کر جب قرآن پاک پڑھا تو ایک آیت پر ان کا ذہن الجھ گیا۔ اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم (التوبہ) کہ احبار اور رہبان کو انہوں نے خدا بنا لیا تھا۔ مسیح ابن مریم علیہا السلام کو تو بنایا ہی تھا، احبار اور رہبان یعنی علما اور مشائخ کو بھی انہوں نے ارباب بنا لیا تھا، رب بنا لیا تھا۔ عدی بن حاتم سوچ میں پڑ گئے کہ ہم تو اپنے احبار اور رہبان کو ارباب کا درجہ نہیں دیتے تھے۔ تو وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ بخاری کی روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا اشکال پیش کیا کہ یا رسول اللہ قرآن پاک ہمارے بارے میں یہ کہتا ہے: اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم۔ ہم نے تو اپنے احبار اور رہبان کو کبھی ارباب کا درجہ نہیں دیا۔ تو یہ قرآن پاک نے ہمارے بارے میں کیا ارشاد فرما دیا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کیا تمہارے ہاں احبار اور رہبان کو حلال حرام میں فیصلہ دینے کا حق تھا کہ حلال کو حرام قرار دے دیں اور حرام کو حلال قرار دے دیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ یہ تو تھا۔ فرمایا، یہی معنی ہے اربابا من دون اللہ کا۔ حلال حرام کی اتھارٹی اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ کسی اور کو اتھارٹی ماننا اس کو رب ماننا ہے۔
جب قرآن پاک نے یہ کہا ولایتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ۔ قدرِ مشترک کیا ہے مسلمانوں اور اہلِ کتاب میں؟ پہلی بات کہ الا نشرک بہ شیئا۔ دوسری بات ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ۔ ایک دوسرے کو خدائی اختیارات یا حکمرانی کے اختیارات نہ دیے جائیں۔ یہ ہمارے درمیان قدرِ مشترک ہے۔
اور اسی وجہ سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا سیاسی نظام ایک حدیث میں دو جملوں میں ارشاد فرمایا ہے۔ بخاری کی روایت ہے۔ فرمایا کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیائ۔ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کرتے تھے۔ کلما ھلک نبی خلفہ نبی۔ ایک نبی فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی آجاتا۔ نبوت جاری تھی، بھائی پیغمبر، باپ پیغمبر، بیٹا پیغمبر، بھتیجا پیغمبر، خسر پیغمبر، داماد پیغمبر، تسلسل جاری تھا، ایک پیغمبر جاتا تو دوسرا آجاتا۔ تو سیاست کی بنیاد پیغمبر کی وحی ہوتی تھی، پیغمبر کی تعلیمات ہوتی تھیں۔ ساتھ ہی فرمایا کہ انہ لا نبی بعدی، میرے بعد نبی کوئی نہیں آئے گا۔ تو سوال یہ پیدا ہوگیا کہ سیاست کا نظام کیسے چلے گا؟ فرمایا فسیکون بعدی خلفاء میرے بعد خلفا ہوں گے۔ یعنی حضور اصول کا اعلان کر رہے ہیں کہ پہلے سیاست، حکمرانی، اجتماعی نظام نبوت کی بنیاد پہ چلا کرتا تھا، اب خلافت پر چلے گا۔
یہ خلافت کیا ہے؟ میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ جو خلیفة المسلمین ہے وہ کس کا خلیفہ ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ اللہ کا خلیفہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ کا خلیفہ ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق تھے، جہاں سے خلافت کا آغاز ہوا، اس سے پہلے تو نبوت کا سلسلہ تھا۔ خلافت کا آغاز یہاں سے ہوا تو ان کا ٹائٹل کیا تھا؟ خلیفہ رسول اللہ۔ حضرت صدیق اکبر رضی کو ایک موقع پر کہا گیا، قاضی ابویعلی نے الاحکام السلطانی میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص آیا: السلام علیک یا خلیفة اللہ۔ حضرت صدیق اکبر سے کہا کہ اللہ کے خلیفہ، آپ کو سلام ہو۔ فرمایا، لست بخلیفة اللہ، انا خلیفة رسول اللہ۔ میں اللہ کا خلیفہ نہیں ہوں بھئی، اللہ کے رسول کا خلیفہ ہوں۔ بہت بڑی بات فرمائی۔ اللہ کا خلیفہ پوپ تھا، پوپ کے پاس اسی لیے اختیارات بھی تھے یا اگر اللہ کا خلیفہ کی اصطلاح پر کوئی پورا اترتا ہے تو وہ اہلِ تشیع کے امام ہیں، وہ چونکہ اہل تشیع کے عقیدے کے مطابق معصوم ہیں، اللہ کے نائب ہیں لیکن ہمارے ہاں جو خلافت کا تصور ہے، حضرت صدیق اکبر سے شروع ہونے والی خلافت، وہ خلیفة اللہ نہیں ہے، وہ خلیفة رسول اللہ ہے۔ آپ خط و کتابت پڑھ لیں۔ وہ جب بھی اپنی طرف سے خط لکھتے تھے: من خلیفة رسول اللہ۔ ان کو جو خطوط آتے تھے: الی خلیفة رسول اللہ۔
اس میں دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ان کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے تو ان کو لوگوں نے خطاب کرنا شروع کیا: یا خلیفة خلیفةف رسول اللہ۔ بعض خطوط بھی موجود ہیں اس پر، مکاتیب بھی۔ حضرت عمر کو الجھن ہوتی تھی اس پر کہ تیسرے خلیفہ کا کیا بنے گا جو خلیفة خلیفة خلیفة رسول اللہ کہلائے گا اور آگے کیا سلسلہ چلے گا۔ تو امیرالمومنین کا لفظ سب سے پہلے بولا گیا ہے جب خالد بن ولید اور عمرو بن العاص مصر سے واپس آئے، حضرت عمر سے ملاقات ہوئی تو ان میں سے کسی نے کہا، عمرو بن العاص یا خالد بن ولید نے: السلام علیک یا امیر المومنین۔ حضرت عمر چونکے۔ پہلی دفعہ کہا گیا تھا۔ پوچھا، کہا کہا؟ وہ پریشان ہو گئے۔ کہا، گھبرا نہیں، ٹھیک کہا تم نے۔ یا امیر المومنین۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہم مومنین ہیں، آپ ہمارے امیر ہیں۔ فرمایا، بس یہی کہا کرو آج کے بعد۔ چنانچہ اس وقت سے امیر المومنین کی اصطلاح چلی آ رہی ہے۔ (جاری ہے)

