پاکستان نے کرشمہ کر دِکھایا، اسے ماننا چاہیے!

منگل اور بدھ کی درمیانی رات وزیراعظم شہباز شریف کے ٹویٹ نے نہ صرف خطے پر وارد ہونے والی ایک خوفناک جنگ روک دی بلکہ اس سے پاکستان دنیا بھر میں ایک اہم، نمایاں اور باوقار سفارتی پلئیر کے طور پر ابھرا ہے۔ درحقیقت یہ صرف ایک ٹویٹ نہیں بلکہ پاکستان کی ”پاور ڈپلومیسی” تھی۔ انڈیا اور کسی حد تک اسرائیل کے سوا دنیا بھر کے میڈیا اور سفارتی، سیاسی حلقوں میں اسے سراہا گیا، اس کا اعتراف کیا گیا۔ ایک ممتاز بھارتی صحافی سے میری چیٹ ہوئی تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا، ان سے انگریزی چیٹ کا اُردو ترجمہ دے رہا ہوں، ان کا کہنا تھا: ”یہ پاکستانی سفارت کاری کے لیے کئی برسوں بعد ایک بڑا اور غیرمعمولی لمحہ ہے۔ طویل عرصے سے پاکستان کو زیادہ تر محض ری ایکٹ کرنے یا ردِعمل دینے والی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا رہا، مگر یہ پیش رفت اعلیٰ سطح کی فعال سفارت کاری کی طرف واپسی کا اشارہ دیتی ہے۔ یہ لمحہ اہمیت کے اعتبار سے 1970ء میں ہنری کسنجر کے ذریعے امریکا چین تعلقات کا رابطہ کرانے سے بھی بڑا ہے۔ (یاد رہے کہ تب یحییٰ خان کی حکومت نے امریکی حکومت کا چین سے رابطہ کرایا اور پھر نکسن نے چین کا دورہ بھی کیا۔)” اگرچہ بنیادی تصور میں مماثلت موجود ہے مگر تب جنگ نہیں ہو رہی تھی اور صرف امریکا یا چین کو فائدہ پہنچا مگر اس بار امریکا، چین، سعودی عرب، ایران، روس، عرب دنیا سب ہی ریلیکس اور خوش ہوئے ہیں۔ اگر یہ سفارتی کوشش برقرار رہتی ہے اور ٹھوس نتائج دیتی ہے تو یہ عالمی سطح پر پاکستان کی ایک سنجیدہ اور موثر سفارتی قوت کے طور پر واپسی کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 2015ء کے بعد سے نریندر مودی کی حکومت کی پالیسی پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے پر مرکوز رہی ہے۔ یہ کوئی راز نہیں اور مودی خود بھی اسے متعدد مواقع پر بیان کرچکے ہیں۔ تاہم حالیہ غیرمعمولی پیش رفت نے اس بیانیے کو عملاً چیلنج کردیا ہے۔ دراصل پاکستان نے بیک وقت کئی چیزیں اسٹیبلش کی ہیں۔ ان پر نظر ڈالتے ہیں۔

٭”جغرافیائی مجبوری” کو ”سفارتی طاقت” میں بدلنا
پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد بھی پاکستان کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑنا تھا (ممکنہ مہاجرین اور سیکیورٹی کی صورت میں)۔ پاکستان نے اپنی اس مجبوری کو ”طاقت” بنایا اور دنیا کو باور کرایا کہ ”اگر پاکستان پر بوجھ پڑا تو اس کا اثر پورے مغرب تک جائے گا”۔ اسی منطق نے ٹرمپ کو بات سننے پر مجبور کیا۔

٭”اسلام آباد” بحیثیت نیا عالمی مرکز
ایک طویل عرصے بعد اسلام آباد، جنیوا یا دوحہ کی طرح ایک ”نیوٹرل گراؤنڈ” کے طور پر ابھرا ہے۔ دس اپریل یعنی کل ہونے والے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ امریکا کو پاکستان کی سیکیورٹی اور میزبانی پر بھروسہ ہے۔ ایران کو پاکستان کی نیت اور غیرجانبداری پر یقین ہے۔ یہ ”اعتماد کا ووٹ” پاکستانی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔

٭عالمی معیشت کا ”محافظ”
اگر آبنائے ہرمز بند رہتی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ڈیڈھ سو ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی تھیں، جس سے یورپ اور امریکا میں مہنگائی کا طوفان آ جاتا۔ پاکستان نے جنگ بندی کرا کے خود کو صرف ایک علاقائی ملک کے طور پر نہیں بلکہ ”عالمی معاشی استحکام کے ضامن” کے طور پر پیش کیا ہے۔ اب دنیا (خاص طور پر مغرب) پاکستان کو ایک ”مسئلہ” نہیں بلکہ ”حل” کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

٭چین اور امریکا کے درمیان ”متوازن توازن”
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان نے یہ سب کچھ امریکا کے قریب رہتے ہوئے کیا، لیکن چین کو ناراض کیے بغیر۔ چین خود ایران کا بڑا حمایتی ہے اور پاکستان نے چینی قیادت کو اعتماد میں لے کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کے مفادات کو ایک ہی میز پر لا سکتا ہے۔ یہ توازن برقرار رکھنا کسی بھی ملک کے لیے سفارتی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔

اِس پورے معاملے میں انڈین میڈیا، تجزیہ کار خاص کر پرو بی جے پی حلقے شدید تلملائے اور جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس ٹویٹ کا مذاق اڑایا ہے جس میں صدر ٹرمپ اور ایران دونوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ جب یہ ٹویٹ پہلی بار کیا گیا تو اس میں اوپر ڈرافٹ برائے پاکستانی وزیراعظم کے الفاظ لکھے رہ گئے جنہیں بعد میں ایڈٹ کر دیا گیا۔ انڈین میڈیا جیسے این ڈی ٹی وی، اکنامک ٹائمز، انڈیا ٹو ڈے وغیرہ اور ان کا سوشل میڈیا شور مچا رہا ہے کہ یہ ٹویٹ دراصل امریکیوں نے ڈرافٹ کرکے شہباز شریف کو بھیجا تھا جو اس نے کر دیا اور پاکستان نے محض ایک پیغام کنندہ کا کردار ادا کیا، پاکستان کٹھ پتلی ہے وغیرہ وغیرہ۔ انڈین تنقید بے وزن اور بلاوجہ ہے۔ اس لیے کہ اس پورے معاملے میں ثالثی کر ہی پاکستان رہا تھا۔ کیا پاکستان نے اسلام آباد میں ترک، سعودی عرب، مصری اور ایرانی وزرا خارجہ کو جمع کرکے مذاکرات نہیں کرائے؟ کیا پاکستان ہی پچھلے تین چار ہفتوں سے مسلسل امریکا اور ایران کے درمیان واحد رابطے کا کام نہیں کر رہا؟ کیا پاکستان مسلسل ایرانیوں سے رابطے میں نہیں رہا اور انہیں مختلف امن تجاویز نہیں دیتا رہا؟ کیا پاکستانی قیادت ہی بار بار سعودیوں سے اِن ٹچ نہیں رہی، انہیں مسلسل تحمل سے کام لینے کا نہیں کہتی رہی؟ کیا پاکستانی وزیرخارجہ چین جا کر نہیں ملے تھے اور اس کے بعد پاک چینی مشترکہ اعلامیہ میں وہی باتیں کہی گئی ہیں جن کی بنیاد پر اب صلح ہوئی یعنی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا۔ کیا ایسا نہیں ہوتا رہا؟

اگر یہ سب درست ہے تو ظاہر ہے پاکستان ہی ثالث، سفارت کار، رابطہ کار تھا۔ پاکستان ہی سے ہر چیز ڈسکس ہونی تھی۔ دنیا بھر میں ایسے باضابطہ ٹویٹ اور اپیل سے پہلے بہت کچھ پس پردہ ہوتا ہے۔ کئی جگہوں پر رابطے ہوئے ہوں گے، ابتدائی ڈرافٹ وہاں گئے ہوں گے، امریکیوں سے بھی اور ایرانیوں سے بھی مسلسل رابطہ رہا ہوگا، چینیوں کو آن بورڈ رکھا گیا ہوگا۔ جو ٹیم یہ سب کام کر رہی ہوگی اُس نے مختلف ڈرافٹ لکھے ہوں گے، بار بار انہیں تبدیل بھی کیا ہوگا۔ چاہے وہ اسلام آباد میں فارن آفس کی ٹیم ہو، اس نے بھی ایک ڈرافٹ پاکستانی وزیراعظم کے لیے، ایک امریکیوں کے لیے، ایک ایرانیوں کے لیے اور ممکن ہے ایک سعودی عرب کے لیے اور یقینی طور پر ایک چینیوں کے لیے بھی لکھا ہوگا۔ ایسا نہیں کہ یہ ٹویٹ امریکیوں سے آ گیا اور شہباز شریف نے بس اسے پوسٹ کر دیا۔ ایسا نہیں ہوتا بھائی۔ یہ ماڈرن ڈپلومیٹک ورلڈ ہے، یہاں پر کمیونکیشن کی جہت میں اور مسلسل اور بار بار ہوتی ہے۔

یہ بات البتہ سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستانی کامیابی اور پاکستانی وزیراعظم کی کامیابی پر انڈینز تو پریشان ہوں چلو سمجھ آتا ہے، مگر پاکستان میں ایک سیاسی حلقے کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ پاکستان کی کامیابی ہے شہبازشریف یا ن لیگ کی نہیں۔ اسے انجوائے کریں، سیلیبریٹ کریں، آج سیاسی اختلاف سائڈ پر کر دیں۔ درحقیقت اس پورے معاملے میں پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی اہمیت ڈالروں یا قرضوں سے نہیں بلکہ اس کی اس صلاحیت سے ہے کہ جب دنیا بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہو تو اسلام آباد ہی وہ جگہ ہے جہاں امن کی شمع جلائی جا سکتی ہے۔