پیرس میں شدید گرمی سے 109اموات

عرب میڈیا ذرائع کے مطابق فرانسیسی ایمبولینس سروسز نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت میں شدید گرمی کی لہر کے دوران 24 گھنٹوں کے دوران پیرس میں 109 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سال کے اسی عرصے کے دوران اوسطاً صرف 7 اموات ہوتی ہیں۔

ایمرجنسی سروسز نے واضح کیا کہ اس تعداد میں وہ اموات شامل ہیں جو گھروں یا عوامی شاہراہوں پر ایمبولینس کی مداخلت کے دوران ریکارڈ کی گئیں۔ درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں ہسپتالوں کے اندر ہونے والے کیسز اس میں شمار نہیں ہیں۔

پیرس میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا،جس کی وجہ سے ایمرجنسی سروسز پر غیر معمولی دباؤ پڑا۔

پیرس کے پبلک ہسپتالوں کے ڈیٹا کے مطابق پیرس اور اس کے مضافات میں ایمبولینس مراکز پر گزشتہ ہفتے کے دوران کالز کی تعداد میں 80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جنہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں آنے والے لوگوں کے رش کو غیر معمولی قرار دیا۔

اتوار کی شام تک گرمی کی لہر میں بتدریج کمی کی توقعات کے باوجود فرانس کے 35 محکمے اب بھی ہائی الرٹ کے تحت ہیں اور ممکنہ گرج چمک کے ساتھ طوفان کے خطرات کی وارننگ دی گئی ہے۔ اس گرمی کی لہر کے باعث اسپین میں اب تک 327 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بدلے میں جرمن ماحولیاتی ایجنسی نے شہروں پر زور دیا ہے کہ وہ گرمی کی لہروں کے اثرات کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کریں۔

اسی طرح دیگر یورپی ممالک جیسے اسپین، فرانس اور برطانیہ نے بھی شدید گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس لہر کو براعظم کی تاریخ کی سخت ترین گرمی قرار دیا گیا ہے۔