نازک دور اور نزاکت

اپوزیشن کے ایک رکنِ سینیٹ کا کہنا ہے 75سال سے سن رہے ہیں ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ رکن سینیٹ اگر چہ 75سال کے نہیں، لیکن پون صدی یعنی اپنی پیدائش سے ایک ڈیڑھ دہائی پہلے سے یہ دہائی سنتے آرہے ہیں، یقینا یہ ان کی کرامت ہے اور اکیلے اپوزیشن رکن کی کرامت نہیں ، ان کی دیکھا دیکھی ہزاروں لوگ یہی کہتے سنے جارہے ہیں اور یہ روایت چل پڑی ہے نو عمر لڑکے لڑکیاں بھی ایسے مواقع پر یہی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ یہاں 60، 70سال سے یہی ہوتا آرہا ہے، وہی سنی سنائی کا مزاج۔ جہاں تک بات ہے نازک موڑ اور نازک مزاجی تو ملک و نازک موڑ مزاج پر پون صدی سے دیکھنے والے حضرات و خواتین کی خدمت میں عرض ہے :خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے
ہمارے ملک کو اللہ میاں نے حسن سے نوازا ہے، یہ حسن کئی طرح اور کئی اقسام کا ہے، ملک حسین ہے تو عوام خواص سبھی حسین، حکمران تو مہا حسین، ا س لیے نزاکت بھی پیدائشی ہے، نزاکت حسن کی وجہ سے اور نازک موڑ نزاکت کے مرہون منت۔ اور بھلا کیا چاہیے!!
٭٭٭
خبر سامنے آئی ہے کہ بازار، دکانیں مارکیٹ ، بڑے اسٹور، شادی ہال اور مارکیٹیں بند کرنے کے اوقات ری شیڈول کیے گئے ہیں۔ 8بجے سے لیکر 10بجے تک کے اوقات جاری کیے گئے، اس فیصلے میں کراچی سمیت سندھ شامل نہیں ہے۔ سندھ خصوصاً کراچی کا تو خیر سے باوا آدم ہی نرالا ہے لیکن باقی ملک کے اعلانات سے بھی توانائی بچانے اور کفایت شعاری کا کوئی خاص جذبہ سامنے نہیں آیا، آج کل شام ساڑھے چھ پونے سات بجے روشنیاں جل اٹھتی ہیں۔ گویا کم سے کم ڈیڑھ گھنٹہ تو کروڑوں بلب جلیں گے، پنکھے اور دوسری مشینیں اس کے علاوہ ہیں، 9بجے اور دس بجے تک کا تو اعلان کیا گیا ہے۔ ہمارے دیس میں اعلان پر عمل صرف ڈنڈا ہی کروا سکتا ہے لیکن قائد اعظم کو دیکھ کر قانون نافذ کرنے والوں کے ڈنڈے کو بھی رحم آجاتا ہے۔ بیگ ڈور مذاکرات اور بیک چینل فوائد اٹھانے میں بھی ہماری قوم دنیا بھر میں نمبر ون رکھتی ہے۔
دکانوں، مارکیٹوں کے لیے 6بجے وقت ہونا چاہیے اور ہوٹلوں، شادی ہالوں کے لیے آٹھ بجے کا۔ دفاتر سرکاری ہوں یا نجی اوقات کار 8سے تین بجے تک رکھے جائیں، اے سی کے استعمال پر پابندی لگ سکے تو سبحان اللہ ورنہ ایسا نظام جاری کیا جانا چاہیے کہ 11بجے سے پہلے اے سی چل نہ سکیں اور 3بجے بند ہو جائیں۔ جب تک ہماری سرکار سیدھی نہیں ہوتی رعایا اور عوام بھلا کیوں سیدھے ہونے لگے، حکمران پیٹ پہ پتھر بے شک نہ باندھیں لیکن اپنی عیاشی پہ قابو پائیں۔ رسیا قوم کے رسیا حکمرانوں کو چاہیے کفایت شعاری اور بچت کا آغاز کھانے سے کریں، گھر ہو یا دفتر، دعوت ہو یا گھر کا کھانا، ایک وقت میں ایک اور زیادہ سے زیادہ دو طرح کا کھانا دستر خوان پہ نظر نہیں آنا چاہیے۔
٭٭٭
یوں تو ہم لوگ ایمر جنسی اور ہنگامی حالات کا قومی مزاج رکھتے ہیں، ہر شخص ہر وقت ٹینشن میں لگتا ہے، فارغ سے فارغ بندہ بھی مصروف نظر آتا ہے۔ ایسے افراد حضرات کو مشکل اور ہنگامی حالات میں پریشان نہیں ہونا چاہیے، کام کی صلاحیت بھر پور ہونی چاہیے لیکن یہاں صورتحال بڑی عجیب و غریب ہے۔ کوئی محکمہ کوئی شعبہ کوئی کام طریقے سلیقے سے بروقت کر نہیں سکتا یا شاید کرنا نہیں چاہتا۔ مثال کے طور پرگیس بندش کے اوقات اہل کراچی کے لیے جو گزشتہ روز جاری کیے گئے وہ دیکھنے پڑھنے سننے میں کچھ معقول معقول سے لگتے ہیں لیکن شاید ہی کسی علاقے میں ان اوقات پر عمل ہو رہا ہو۔ چولہا کھولیں تو بس شوں شاں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، گیس کا دور دور تک پتا نہیں ہوتا اور اگر گیس ہو تو اس میں تپش موم بتی تو کیا اگر بتی جتنی بھی نہیں ہوتی۔ ایسی تپش میں پکا کھانا گرم بھی نہیں ہو سکتا کھانا پکنا اور چائے بننا تو دور کی بات ہے۔
ایک تو قیمتوں میں اضافہ ، پھر لوڈشیڈنگ، حکومت اپنی مرضی کے اوقات جاری کرتی ہے لیکن ان اوقات کی پابندی کرنا مذاق سمجھتی ہے۔ ایسے میں لوگ جھنجھلانے میں حق بجانب ہوتے ہیں لیکن اس جھنجھلاہٹ سے گھروں میں جو تو تو میں میں ہوتی ہے وہ پہلے تو تکار پھر مار دھاڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ حکومتی ترجمان اور ترجمانیاں ٹی وی پر جب وضاحت دیتے ہیں تو وہ وضاحت کم گھڑونچے اور شگوفے زیادہ لگتے ہیں۔
٭٭٭
سائبر فراڈ میں غیر معمولی اضافے کی خبریں آرہی ہیں، اس کے لیے وٹس ایپ ہیک کیے جاتے ہیں، لوگوں کو اپنے پیاروں کی آواز میں میسج ملتے ہیں، کبھی کال ملتی ہے، موبائل کی سم پر میسج اور کال تو خیر زمانے سے جاری ہیں، ہر بنک، ہر ادارہ بارہا اشتہار چلاتا تنبیہ کرتا ہے کہ ہوشیار، خصوصاً او ٹی پی نامی بلا سے بچنی کی ہدایت اپنی نازک، ذاتی اور خصوصی معمولات کسی نامہربان مہربان کو جاری کرنے سے منع کیا جاتا ہے لیکن فراڈ کرنے والے عجب کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بھولے تو بھولے، پڑھے لکھے ماہر بھی عجیب و غریب طریقوں سے دھوکا کھا اور لٹ جاتے ہیں۔ آئے دن خبریں گردش کر رہی ہیں۔ لاکھوں بچتے ہوں گے لیکن ہزاروں پھسلتے ہیں اور ایسے پھسلتے ہیں کہ مدتیں یاد رکھتے ہیں۔ یہ ماہرین ایسے جگاڑ کو ایسے سلیقے قرینے اور ملی بھگت سے ایسے استعمال کرتے ہیں شیطان بھی اش اش کر اٹھاتا ہے۔ کبھی کبھی لوگوں کو ان کے بنک ان کی کمپنی ادارے سے ہی کال آجاتی ہے اور لوگ جھٹ سے اپنے سارے خفیہ راز کھول بیٹھتے ہیں، تبھی پتا چلتا ہے اکاؤنٹ کا، مال اڑن چھو ہوگیا اور بے چارے صرف ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔