صحت مند قوم، توانا پوزیشن

اقوام کی تقدیر محض وسائل، صنعت یا سیاست سے نہیں بدلتی بلکہ اس کے پیچھے ایک صحت مند اور توانا قوم کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اگر تندرستی کو ہزار نعمت کہا گیا ہے تو یہ محض ایک جملہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ بیمار جسموں اور پژمردہ ذہنوں کے ساتھ ترقی کا خواب دیکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے۔

اسی حقیقت کے پیشِ نظر ہر سال 7اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن World Health Organization کے قیام (1948ئ) کی یاد دلاتا ہے جبکہ 1950ء سے اسے باقاعدہ عالمی سطح پر منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد محض تقاریب منعقد کرنا نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور صحت جیسے بنیادی حق کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ سال 2026ء کا عالمی پیغامTogether for Healt Stand with Scienceایک بھرپور اور بامعنی صدا ہے۔ اس سلوگن میں عصرِ حاضر کا پورا فلسفہ سمٹ آیا ہے۔ آج جب دنیا نت نئی بیماریوں اور وباؤں کی زد میں ہے تو اس کا واحد حل اجتماعی شعور اور سائنسی تحقیق سے وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ کورونا وبا نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ جہاں سائنس کو اپنایا گیا وہاں امید کے چراغ روشن رہے اور جہاں توہمات نے جگہ بنائی وہاں اندھیرے گہرے ہوتے گئے۔

بدقسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صحت کا شعبہ اب بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ آبادی میں بے ہنگم اضافہ، محدود وسائل، مہنگی ادویات اور ناکافی طبی سہولیات نے عام آدمی کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ اگرچہ صحت سہولت کارڈ جیسے اقدامات نے امید کی کرن ضرور دکھائی تھی جس کی افادیت محدود پیمانے پر اب بھی جاری ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ایک تلخ تصویر پیش کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بنیادی مراکز صحت ادویات اور عملے سے محروم ہیں جبکہ بڑے شہروں کے ہسپتال مریضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارے ہاں صحت کے بجٹ کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ قومی ترجیحات میں صحت کو وہ مقام حاصل نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔ اگر قوم کو واقعی مضبوط بنانا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ صحت کے شعبے کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح بنائے، بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے اور سہولیات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔

یہ پہلو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے کہ جدید دور نے انسانی صحت کو دو بڑے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک طرف ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور بے چینی نے خاموشی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو دوسری طرف فاسٹ فوڈ، سُستی اور ورزش سے دوری نے جسمانی بیماریوں کو عام کر دیا ہے۔ شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض اب کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ ہر گھر کی کہانی بن چکے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسموگ، آلودہ پانی اور ناقص صفائی نے سانس اور معدے کی بیماریوں کو وبا کی شکل دے دی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم بیماریوں کا علاج کم اور ان کی پیداوار زیادہ کر رہے ہیں۔ متوازن غذا، روزانہ ورزش، مناسب نیند، صاف پانی کا استعمال اور صفائی کا خیال رکھ کر ہم خود کو بڑی بیماریوں سے بچا سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور دلچسپ مگر خطرناک رجحان بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ گرمیوں میں یخ ٹھنڈے مشروبات اور یخ پانی کا بے تحاشہ استعمال فیشن بن چکا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ہم گرم گرم کھانے کے ساتھ ٹھنڈی بوتلیں یا یخ ٹھنڈا پانی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارا یہی عمل ہمارے معدے کو تباہ کر کے بے شمار بیماریوں کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔ دنیا کی کئی ترقی یافتہ اقوام سادہ یا نیم گرم پانی کو ترجیح دیتی ہیں۔ شاید دنیا کے مقابلے میں الٹ عمل کرنا اور معکوس طرزِ زندگی اختیار کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادات ہی صحت کے بڑے فرق پیدا کرتی ہیں۔

عالمی یومِ صحت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک صحت مند قوم کی تشکیل کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ حکومت کو وسائل فراہم کرنے ہوں گے، میڈیا کو شعور بیدار کرنا ہوگا، تعلیمی اداروں کو صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہوگا اور عوام کو اپنی عادات میں تبدیلی لانی ہوگی۔ کھیلوں کے میدان آباد کرنا ہوں گے، سیر اور ورزش کے کلچر کو سختی سے اپنانا ہو گا۔ یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ عالمی یومِ صحت محض ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ اپنے آپ سے عہد، اپنی قوم سے عہد اور اپنی آنے والی نسلوں سے عہد۔ ایک بیمار قوم کبھی ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اگر ہم واقعی ایک روشن مستقبل کے خواہاں ہیں تو ہمیں صحت کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔