ہرمز: ایک نام، دو کہانیاں

زمین کے دو ٹکڑوں کے درمیان یا دو براعظموں کے درمیان ایک تنگ آبی گزرگاہ، یا دو سمندروں کو ملانے والے راستہ کو “آبنائے” کہا جاتا ہے جسے عربی زبان میں”مضیق” کہتے ہیں۔آج کل جنگی تناؤ کے باعث شہ سرخیوں میں رہنے والی اہم آبی گزرگاہ “آبنائے ہرمز” بھی انہی میں سے ایک ہے۔ آئیے اس کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو محض پانی کے راستے نہیں ہوتے، بلکہ وقت، طاقت اور تہذیبوں کے سنگم بن جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ ایک تنگ سا سمندری راستہ، مگر اس کے نام کے پیچھے صدیوں پر پھیلی کہانیاں سانس لیتی ہیں۔

آبنائے ہرمز آج عالمی معیشت کی شہ رگ کہلاتی ہے، مگر اس کے نام کی اصل ایک معما ہے جس پر تاریخ، اساطیر اور لسانیات تینوں اپنی اپنی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ایک رائے ہمیں قرونِ وسطیٰ کی ایک طاقتور تجارتی ریاست، مملکتِ ہرمز کی طرف لے جاتی ہے۔ مؤرخین کے مطابق یہ ریاست دسویں صدی عیسوی میں ایرانی ساحل پر قائم ہوئی، بعد ازاں حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس نے اپنا مرکز جزیرہ ہرمز منتقل کر لیا۔ ( ابن بطوطہ، الرحلة)یہ ریاست صدیوں تک مشرقی تجارت کی کنجی بنی رہی، یہاں تک کہ اسے “ہندوستان کی چابی” کہا جانے لگا۔ اگر یہ تعبیر درست مانی جائے تو آبنائے ہرمز کا نام ایک ایسے مرکز سے جڑتا ہے جس نے کبھی عالمی تجارت کی نبض کو اپنے ہاتھ میں رکھا تھا۔

دوسری طرف ایک اور نظریہ ہمیں اس سے کہیں قدیم زمانے میں لے جاتا ہے، جہاں فارسی تہذیب کے مذہبی اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق ”ہرمز” دراصل “اہورامزدا” کے نام کا عربی تلفظ ہے، یعنی وہی ہستی جسے زرتشتی عقیدے میں خیر اور حکمت کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ نسبت درست ہو تو یہ نام محض جغرافیہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی یادگار بھی بن جاتا ہے۔تاریخ کا مگر یہاں ایک اور رخ بھی ہے۔ ایک ایسا “ہرمز” جو جگہ نہیں، ایک انسان تھا۔اسلامی تاریخ میں “ہرمز” ایک ساسانی سپہ سالار کے طور پر سامنے آتا ہے، جو الہبلة کا حاکم تھا اور ساسانی سلطنت کا نمائندہ۔ وہ فارسی اشرافیہ کے اس طبقے سے تعلق رکھتا تھا جسے ”اساورہ” کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی شان و شوکت کا اندازہ اس کے سر کے تاج سے لگایا جاتا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ درہم بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ اس نوع کی روایات میں مبالغہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔یہی ہرمز عرب سرزمین کی طرف سے ساسانی دفاع کی پہلی دیوار سمجھا جاتا تھا، مگر تاریخ نے اس کے لیے ایک اور انجام لکھ رکھا تھا۔

سنہ 12 ہجری میں “کاظمہ” قدیم عراق اور موجودہ کویت کے تاریخی علاقہ کے میدان میں معرکہ ذات السلاسل میں اس کا سامنامشہور صحابی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ اس معرکے کو “ذات السلاسل” اس لیے کہا جاتا ہے کہ روایت کے مطابق ہرمز نے اپنے سپاہیوں کو زنجیروں سے باندھ دیا تھا تاکہ وہ میدان چھوڑ کر فرار نہ ہو سکیں۔ مبارزت کے آغاز میں ہرمز نے ایک چال بھی چلی۔ اس نے خفیہ طور پر تیر اندازوں اور گھڑ سواروں کو تیار رکھا تھا تاکہ موقع پا کر خالد بن ولید پر اچانک حملہ کیا جا سکے۔جب دونوں کمانڈروں میں تصادم ہوا تو ہرمز کے جوانوں نے اچانک حملہ کیا، لیکن مسلمانوں کے ہیرو الققاع بن عمرو التمیمی نے حکم کا انتظار کیے بغیر بجلی کی طرح چارج کیا اور حملہ آوروں کو مار ڈالا، جبکہ خالد بن و لید نے اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے ہرمز کا سر قلم کر دیا۔( ابن کثیر وغیرہ)ہرمز کی موت فارس کے حوصلے کے لیے ایک تباہ کن دھچکا تھا، جس سے مسلمانوں کی زبردست فتح ہوئی اور ساسانی سلطنت کے زوال کی راہ ہموار ہوئی۔آبنائے ہرمز کے نام کے ساتھ یوں دو کہانیاں جڑی ہوئی ہیں: ایک “ہرمز” بطور مقام، اور دوسرا “ہرمز” بطور انسان۔

اگر آبنائے کا نام اس جگہ کے حوالے سے ہے، تو یہ اس کا ایک قدیم جغرافیائی اور تاریخی نام ہے جو سلطنتوں اور داستانوں سے وابستہ ہے۔ لیکن اگر اس کا نام ہرمز نامی کسی رہبر کی نسبت سے رکھا گیا ہو، تو یہ ساسانی استکبار کی اس علامت کی یاد دلاتا ہے جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی عسکری بصیرت کے سامنے مٹ کر رہ گئی تھی۔ ایک پہلو میں تجارت، تہذیب اور اساطیر کے رنگ جھلکتے ہیں، جبکہ دوسرے میں طاقت، غرور اور تکبر کے انجام کی عبرت ناک تصویر نمایاں ہوتی ہے۔