سندھ اور پنجاب، جو میں نے دیکھا

ہر سال ان دنوں پنجاب جانا ہوتا ہے اور صوبہ سندھ کے بعد پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے کئی شہروں سے گزر ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران بہت سی نئی باتیں پتہ چلتی ہیں اور سوچ وفکر کے کئی نئے دریچے بھی وا ہوتے ہیں۔ قوم پرستی یا عصبیت سے بالاتر ہوکر کچھ پہلو پیش خدمت ہیں۔ سب سے پہلا فرق لوگوں کی سوچ، فکر، طرز عمل اور انداز کا ہوتا ہے۔ پنجاب میں آپ کو دکانیں بہتر حالت، سجی سنوری اور لدی پھندی دکھائی دیتی ہیں۔ سندھ میں خستہ حال، سال خوردہ اور کسمپرسی کی عکاس دکانیں دکھائی دیتی ہیں۔ یہی حال سڑکوں کا بھی ہے۔ پنجاب میں سڑکیں بہت اچھی، صاف ستھری اور رواں دواں دکھائی دیتی ہیں۔ سندھ میں جس کا جہاں دل چاہتا ہے، ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے ایک خوشگوار حیرت اس پر ہورہی ہے کہ سندھ بھر میں نئی سڑکیں تیزی سے تعمیر ہورہی ہیں، راستے بہتر ہورہے ہیں اور سڑکوں کا جال بڑی خوبصورتی اور مہارت سے پھیلایا جارہا ہے۔

اسی سے جڑی ہوئی صورت حال راستے میں پیٹرول پمپس، ریسٹ ایریاز اور مساجد کی ہے۔ سندھ بھر میں اکا دکا جگہ کے علاوہ تمام بڑے بڑے پیٹرول پمپس پر بھی واش رومز صاف ستھرے نہیں ملتے، ریسٹ ایریاز اور خواتین کی مساجد دکھائی نہیں دیتیں۔ اس کے بالمقابل پنجاب میں اکثر پیٹرول پمپس پر صاف ستھری مساجد، واش رومز اور خواتین کے لیے الگ نماز کی جگہ دستیاب ہوتی ہے۔ شاید یہ انتظامی مسئلہ ہو کہ پنجاب میں گورننس کی صورت حال بہرحال بہت اچھی ہے۔ ایک مسئلہ سندھ میں مختلف ٹول پلازوں پر ناکہ لگائے پولیس اہلکاروں کا بھی ہے۔ ان کا مقصد محو سفر کسی بھی شخص کو روکنا اور مختلف حیلوں بہانوں سے پیسے اینٹھنا ہے۔

مختلف مقامات پر گھات لگائے موجود یہ اہلکار انہی گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں جن میں فیملیز دکھائی دیں اور پھر انہیں مختلف انداز سے ڈرا دھمکاکر پیسے نکلواتے ہیں۔ پنجاب میں داخل ہونے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے یا کم از کم ہمیں پنجاب میں کبھی اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایک بڑا فرق جسے سندھ کا پلس پوائنٹ کہہ سکتے ہیں وہ عوام کا رویہ ہے۔ سندھ میں آپ کو ہمدردی، روا داری، احترام اور کسی بھی جگہ رکنے پر کوئی گھورنے والی آنکھ دکھائی نہیں دے گی لیکن پنجاب اس دوڑ میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ پنجاب میں خواتین کو گھورنا ایک عام رواج کی شکل اختیار کرچکا ہے اور یہ مرض اتنا پھیل چکا ہے کہ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا علاج کیا ہوگا اور یہ سلسلہ کہاں رکے گا۔ سندھ کے باسی اس حوالے سے بہت قابل تحسین اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ہر مسافر کو پیٹرول کی قیمت اور معیار سے واسطہ پڑتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں کے تجربات سے ہماری رائے یہ بنی ہے کہ پیٹرول کے معیار اور مقدار میں جتنی گڑ بڑ پنجاب میں دیکھنے کو ملتی ہے، اتنی سندھ میں نہیں ہے۔ سندھ میں ہائی ویز کنارے بنے ہوئے پیٹرول پمپس میں آپ کو مقدار پوری یا پنجاب کی نسبت بہرحال زیادہ ملتی ہے۔ اس کے بالمقابل پنجاب میں پیٹرول پمپس کی مقدار میں ڈنڈی مارنا، پیمانے میں جعل سازی کرنا وغیرہ زیادہ عام ہے۔

کھانے کے مقامات کی بات کریں تو بالعموم صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔ اب تو موٹرویز پر بنے قیام و طعام کے مقامات پر بھی معیاری کھانے نہیں ملتے۔ بڑے ہوٹلز پر ہی رکنا پڑتا ہے۔ موٹر ویز پر بنے ریسٹ ایریاز کا معیار دن بہ دن کمزور ہورہا ہے، جس پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔ ایک بڑی مشکل بہرحال یہ ہے کہ ان ریسٹ ایریاز پر عمومی آمد و رفت ممکن نہیں، ان کے کسٹمرز بہرحال محدود ہیں۔ اس مشکل کا حل قیمتیں بڑھاکر بھی کیا جاسکتا ہے مگر معیار پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن آپ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جائیں تو دل خوشی، اطمینان اور سکون کے پرکیف جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ قدرت اس خطے پر مہربان ہے، موسم کے کئی رنگ اور ہرخطہ قدرت کے بے پاپاں کرم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ معدن، کوہ، دشت، دریا، کھیت، کھلیان سمیت قدرت کے حسن بے پرواہ کے لاکھوں جلوے جن پر فدا ہوا جائے۔ اللہ تعالی اس وطن کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس نعمت کی قدر دانی و شکر گزاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!