مہنگائی کا نیا طوفان

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت ایک بار پھر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر تقریباً 458 روپے فی لیٹر کر دی ہے، جو چند ہی ہفتوں میں ہونے والا دوسرا بڑا اضافہ ہے۔یہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا دھچکا ہے جو پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دے گا۔چند ہفتے پہلے یہی پیٹرول تقریباً 321 روپے فی لیٹر تھا اور اب ساڑھے چار سو سے اوپر جا چکا ہے۔یہ تیز رفتار اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی حالات کے رحم و کرم پر ہے اور داخلی سطح پر کوئی مضبوط حفاظتی نظام موجود نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ایک زنجیر کی طرح پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، سبزی سے لے کر آٹے تک ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ ایک رکشا ڈرائیور، ایک مزدور، ایک چھوٹا دکاندار، سب اس بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ یوں پیٹرول کا بحران دراصل مہنگائی کے ایک نئے طوفان کو جنم دیتا ہے۔یہاں ایک تلخ حقیقت یہ بھی بیان کرتا چلوں کہ ہمارے دکاندار دکانوں میں پڑی مہینوں پڑی اشیاءمہنگی کر دیتے ہیں کہ جناب پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے اور ساتھ ہی حکومت کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔
بہرحال اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ اب تک جو اقدامات سامنے آئے ہیں وہ زیادہ تر وقتی نوعیت کے ہیں۔سبسڈی کا محدود اعلان، اخراجات میں کمی اور عوام کو صبر کی تلقین۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدامات مسئلے کا حل نہیں بلکہ صرف وقتی سہارا ہیں۔ خود حکومتی عہدیدار بھی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ وسائل محدود ہیں اور مکمل سبسڈی جاری رکھنا ممکن نہیں۔اصل مسئلہ پالیسی کا ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے تیل کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کر رہا ہے، خاص طور پر خلیجی ریاستوں پر۔ جب عالمی حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس انحصار کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ، وہ ہے ایران سے تیل کی خریداری۔ ایران ایک ہمسایہ ملک ہے اور دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ موجودہ جنگی صورتحال میں ایران مختلف راستوں سے اپنا تیل فروخت کر رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ سستا تیل حاصل کرے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی بارڈر موجود ہے، جہاں سے تیل کی ترسیل ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بھی ہو تو پاکستان سفارتی سطح پر اپنے جہازوں کے لیے راستہ حاصل کر سکتا ہے۔ اصل مسئلہ راستہ نہیں بلکہ فیصلہ سازی کی جرات ہے۔بدقسمتی سے پاکستان اکثر آئی ایم ایف کے دباو کے تحت فیصلے کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر بار قومی مفاد کو نظر انداز کر کے بیرونی دباو کو ترجیح دینا ضروری ہے؟ اگر ایران سے سستا تیل مل سکتا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیوں نہیں کیا جاتا؟دنیا کے کئی ممالک اپنے مفادات کے لیے متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔ چین، روس اور دیگر ممالک پابندیوں کے باوجود اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر رہے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ملکی وسائل کی حفاظت بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اگر چاہے تو ایک متوازن اور خود مختار پالیسی اختیار کر سکتا ہے، جو نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود کفالت لائے بلکہ عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم کرے۔ تاہم، اس کے لیے حکومت کو داخلی سطح پر سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری گاڑیوں کا استعمال، اور وسائل کا ضیاع عوام کے سامنے اعتماد کی کمی کا باعث بنتے ہیں۔ جب تک حکمران خود مثال قائم نہیں کریں گے، عوام میں کفایت شعاری اور احتیاط کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر ہمیشہ غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ ایک امیر آدمی کے لیے پیٹرول مہنگا ہونا صرف ایک اضافی خرچ ہے، مگر ایک غریب کے لیے یہ زندگی اور روزمرہ کے بنیادی معاملات کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ حکومت کی فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کے بحران کا حل صرف وقتی ریلیف تک محدود نہ رہے۔ ضروری ہے کہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے، جیسے متبادل توانائی کے ذرائع، سولر انرجی، اور بجلی پر مبنی ٹرانسپورٹ سسٹمز کی ترقی۔ اس کے ساتھ ہی، عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے تعلیمی اور سوشل مہمات بھی چلائی جائیں تاکہ لوگ توانائی کے محتاط استعمال کے عادی ہوں۔ موجودہ پیٹرول بحران صرف جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری داخلی کمزوریوں کا بھی عکاس ہے۔ اگر حکومت واقعی اس مسئلے کا حل چاہتی ہے تو اسے وقتی فیصلوں سے نکل کر جرات مندانہ، خود مختار اور عوام دوست پالیسی اپنانا ہوگی۔ کیونکہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ صرف مہنگائی کا طوفان نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسا معاشی بحران بن جائے گا جس میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ عام آدمی ڈوبے گا، اور ملکی ترقی کے خواب بھی دائمی طور پر متاثر ہوں گے۔