ایران جنگ کس طرف جا رہی ہے؟

ایران اور امریکا/اسرائیل جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس میں یہ فیصلہ ہوگا کہ جنگ میں کون جیتا، کون ہارا اور کس کو کیا ملا؟ابھی تک ایران نے کمال مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ دو باتوں میں ایرانیوں نے خود کو منوا لیا ہے۔ بڑی شجاعت اور دلیری کے ساتھ انہوں نے اتنی بڑی جنگی قوت کے بے پناہ حملوں کا مقابلہ کیا اور بطور قوم جڑے اور ڈٹے رہے۔ ان میں اختلاف یا تقسیم نظر نہیں آئی۔ حتی کہ امریکی کوشش کر رہے تھے کہ ایرانی کرد، ایرانی آزری کمیونٹی یا ایرانی بلوچوں کو موجودہ ایرانی رجیم کے خلاف کھڑا کر دیں،ان کی یہ کوشش ناکام ہوئی۔ ایرانی قوم یکجا رہی ہے۔
ایران کی دوسری بڑی کامیابی ان کی عمدہ عسکری حکمت عملی رہی۔ انہوں نے حملے سے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ موزیک اسٹریٹجی کے تحت دفاع کرنا ہے۔ موزیک مختلف ٹکڑوں سے بنی تصویر کو کہتے ہیں۔ ایران نے مختلف ٹکڑوں میں غیر مرکزی کمان کے تحت دفاع کا سوچا ۔ایران کے اکتیس صوبے ہیں، انہوں نے انہیں اکتیس یونٹوں میں تقسیم کر کے ہر یونٹ میں الگ سے اسلحہ، میزائل، ڈرونز وغیرہ سٹور کر دیے، پاسداران انقلاب کے مقامی یونٹس اور بسیج فورس کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں اور مقامی کمانڈروں کو بااختیار کر دیا۔اس کے ساتھ ساتھ فوج اور پاسداران میں ہر اہم عہدے کے تین تین چار چار متبادل بھی تیار کر کے بتا دیے گئے کہ فلاں کے بعد فلاں ذمہ داری سنبھالے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی، اسرائیلی اپنی پوری انٹیلی جنس لگا کر کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں اور اسی شام نیا اس کی جگہ پر آ جاتا ہے۔ یوں ایرانی مزاحمت جاری ہے۔ یہ ماڈری ملٹری وارفیئر میں ایک نئی اور شاندار مثال قائم ہوئی ہے۔
جہاں تک امریکا کا تعلق ہے، اس کی بے پناہ جنگی قوت ، وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ایران کے پاس کچھ بھی نہیں۔ ایک طرح سے یہ یک طرفہ مقابلہ تھا۔ اس کے باوجود امریکا اپنے ایجنڈے اور اہداف کو حاصل نہیں کر سکا۔ وہ رجیم چینج کرنا چاہتے تھے، منہ کی کھانا پڑی۔ وہ ایرانی میزائل اور ڈرون پھینکنے کی صلاحیت اور ان کے ذخیرے ابھی تک ختم نہیں کر سکے۔ مسلسل بمباری سے ایران کا خاصا نقصان تو ہوا ہے، مگر وہ آج بھی میزائل پھینکنے، ڈرون وار کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہ ایک لحاظ سے امریکا کی شکست ہے۔
دوسرا سب سے بڑا امریکی نقصان یہ ہوا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی اور امریکا تمام تر اپنی بحری قوت کے باوجود پچھلے تین ہفتوں سے اسے کھلوا نہیں سکا۔ ایران ہی کا راج چل رہا ہے اور اس سے اجازت لیے بغیر کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا۔ امریکا کے لیے اس سے زیادہ رسوا کن اور کیا ہوگا؟ یہ بھی پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ امریکی اڈے ہر جگہ نشانہ بنے، اس کے ناقابل تسخیر بحری بیڑے کو بھی نقصان پہنچا۔
دراصل امریکی، اسرائیلی حملہ ایک بدترین ملٹری ایڈونچر تھا، کسی مناسب پلاننگ اور متبادل پلان سے عاری۔ خوفناک قسم کی مس کیلکولیشن کی گئی تھی۔ امریکی بالکل ہی اندازہ نہیں لگا پائے تھے کہ ایرانی عوام کیا ریسپانس دیں گے یا ایرانی رجیم اتنا ٹف فائٹ کرے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ امریکی تاریخ کے نالائق ترین، غبی العقل اور نہایت غیر متوازن شخصیت کے مالک، نفسیاتی مریض ٹائپ صدر کی وائٹ ہاوس میں موجودگی ہے۔
آپ خود سوچیں کہ کوئی امریکی صدر اتنا بڑا حملہ کرنے جا رہا ہے تو اسے پہلے یورپ اور نیٹو کو ساتھ ملانا چاہیے تھا۔ بہت آسان تھا کہ یوکرائن کے معاملے پر یورپ خاص کر برطانیہ، فرانس، جرمنی وغیرہ کو خوش رکھتا تاکہ ایرانی حملے میں وہ ساتھ دیتے۔ صدر ٹرمپ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ پہلی بار نیٹو ٹوٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ امریکی صدر نے تو نیٹو کو صاف جواب دے دیا ہے، مگر یورپی ممالک اس سے پہلے ہی امریکا کو ٹکا سا جواب دے چکے ہیں۔
یہ ہے اب تک کا حاصل وصول ۔ امریکا کو جنگ میں فضائی برتری تو ملی، مگر اس کےاہداف پورے نہیں ہوئے۔ ایران ڈٹا ہوا ہے، مگر اس کا نقصان بہت ہوچکا۔ اگلے چند دن اب طے کریں گے کہ جنگ کا اینڈ کیسے ہو؟صدر ٹرمپ اشارہ دے چکے ہیں کہ دو سے تین ہفتے میں وہ جنگ سے باہر آجائیں گے، مگر ٹرمپ نے یہ بھی صاف کہا ہے،”اس دوران ہم ایران پر سخت اور شدید ترین حملے کریں گے۔ اگلے دو یا تین ہفتوں میں ایران کو امریکی فوجیں سختی سے نشانہ لگاتے ہوئے واپس پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گی۔“ٹرمپ کی اس تقریر کا عالمی مارکیٹ میں شدید ردعمل آیا ہے۔ تیل مہنگا ہوا، سٹاک مارکیٹیں نیچے گری ہیں۔ ہر ایک کو اندازہ ہو رہا ہے کہ آنے والے دن زیادہ مشکل اور کڑے ہوں گے۔ پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ ہونا ناگزیر نظر آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہوگا؟
اقوی امکانات ہیں کہ امریکا اب کی بار ایران کے پاور سٹیشنز کو نشانہ بنائے، آئل مراکز خاص کر ریفائنریز کو بھی ہٹ کر سکتا ہے۔ خارگ جزیرے پر قبضے کی باتیں ہوتی رہی ہیں، امریکا نے پچھلے چند دنوں میں زمینی دستے بھیجنے کی آپشن کا اشارہ بھی کیا، مگر ٹرمپ کی تازہ تقریر میں یہ نہیں کہا گیا۔ تاہم یہ خدشہ ہے کہ وہ خارگ پر شدید ترین بمباری کر کے وہاں سب کچھ تباہ کر دے۔ یہ ایک بدترین منظرنامہ ہوگا۔خدشہ یہ ہے کہ ایران جوابی ردعمل میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ریاستوں کو نشانہ نہ بنائے۔ ماضی میں وہ عرب ریاستوں میں امریکی بیسز کو نشانہ بنا چکا ہے، مگر اب وہ آئل مراکز کو بھی ہٹ کر سکتا ہے، پاور سٹیشنز یا خدانخواستہ واٹر پلانٹس کو۔ اس سے بہت بڑا بحران پیدا ہوجائے گا اور ایران عرب جنگ چھڑ جائے گی۔امریکا اور اسرائیل کی یہ شدید خواہش لگ رہی ہے کہ ایران اور عرب ریاستیں آپس میں الجھ جائیں اور وہ خود جنگ سے نکل کر صرف تماشا دیکھیں۔ صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی سینیٹر لنزے گراہم تو بار بارسعودی عرب کو طعنے دے رہے ہیں، سخت الفاظ استعمال کر رہے ہیں کہ سعودی اس جنگ میں شامل کیوں نہیں ہو رہے؟ ویسے ایران نے ان تمام عرب ریاستوں پر حملے کئے ہیں، مگر انہوں نے تحمل سے کام لیا اور ابھی تک جواب نہیں دیا۔
اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں سعودی دفاعی نظام نے ستاون میزائل اور ایک ہزار چھ ڈرون گرائے ہیں۔ جی ایک ہزار ڈرون۔ جبکہ کویت پر ایران نے تین سو بیلسٹک میزائل اور چھ سو سے زائد ڈرون پھینکے۔ قطر پر ایران نے دو سو چھ میزائل، نوے ڈرونز اور دو جنگی طیاروں سے حملے کئے ہیں جن سے قطر کے ایل این جی پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا اور اربوں ڈالر سے زیادہ ری پیئر کرانے پر خرچ کرنے پڑیں گے۔ متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا، اس پر چار سو سے زیادہ میزائل اور دو ہزار کے قریب ڈرون پھینکے گئے، اسی طرح بحرین نے بھی ایران کے پونے دو سو میزائل اور تین چار سو ڈرون گرائے۔ عرب ریاستوں پر کئے گئے حملے مجموعی طور پر اسرائیل پر داغے گئے میزائلوں، ڈرونز سے زیادہ ہیں۔
لگے ہاتھوں یہ بھی دیکھ لیں کہ ایران پر ہونے والے نوے پچانوے فیصد کے قریب حملے عرب ریاستوں میں امریکی بیسز سے نہیں ہور ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے بہت سے علاقوں پر بمباری بی ٹو امریکی طیاروں نے کی ہے۔ یہ طیارے براہ راست امریکا سے آتے ہیں اور واپس بھی امریکا ہی جاتے ہیں۔ ایران میں بعض ٹارگٹس کو بی ون بی لانسر یا پھر بی باون طیارے نشانہ بناتے ہیں، یہ دونوں برطانیہ سے ٹیک آف کرتے ہیں۔امریکا کا مشہور ایف بائیس ریپٹرطیارہ اور چند ایک دیگر امریکی فائٹر طیارے اسرائیل میں مستقل طور پر ہیں اور یہ زیادہ تر ریفیولرز کے ساتھ حفاظت کے طور پر ساتھ رہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں عودہ ایئربیس کو امریکی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایک امریکی بڑا کیریئر جہاز عمان اور یمن کے قریب کہیں سمندر میں موجود ہے۔ ایران پر حملہ کرنے والے ایف 35، ایف 18 اور ہاک آئی اواکس طیارے وہیں سے آتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں زیادہ تر ریفیولرز ایواکس، اے 10 اور ایف 16 تعینات ہیں جن کا ایران پر حملوں میں مرکزی کردار نہیں۔
اس لیے ایران کو چاہیے کہ وہ امریکی /اسرائیلی چال میں پھنسنے سے گریز کرے۔ عرب ممالک کا اس جنگ میں کوئی کردار نہیں، وہ امریکا کو اڈے برسوں پہلے سے دے چکے ہیں اور اب عین جنگ کے دنوں میں کسی سپرپاور سے یوں اڈے خالی کرانا آسان کیا شاید ممکن بھی نہیں۔ ایران کے اصل دشمن اسرائیل اور امریکا ہیں، وہ ان کی طرف ہی اپنے اہداف بنائے اور خطے میں جنگ کو پھیلائے نہیں۔ اس سے ایران کے لیے مشکلات بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔ اللہ کرے ایرانی قیادت دانشمندی سے کام لے اور عرب ممالک کو نشانہ نہ بنائے کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان کو کم از کم سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ یہ ہماری مجبوری ہے اور ایسا نہ چاہتے ہوئے کرنا ہی پڑے گا۔