مشرق وسطیٰ میں جاری صورت حال اور ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں اہم مسلم ممالک ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر اسلام آباد میں ایک خصوصی ملاقات کی جس میں بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل اور مذاکرات کو درست طریقۂ کار جبکہ جنگ کو مزید مسائل کا سبب قرار دیا گیا۔ اس ملاقات سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سے بھی مواصلاتی رابطے کے ذریعے گفتگو کی اور خیر سگالی کا پیغام پہنچایا جس پر ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیں اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ سے بھی پاکستان کے موقف پر گفت و شنید کی گئی۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ صورت حال میں مسلم امہ کا اتحاد مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ انھوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکا دونوں متحارب ممالک امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کے مؤید ہیں۔ پاکستان کی ان کوششوں کے بالمقابل بعض عرب ریاستوں کی جانب سے اس وقت ایران کے خلاف جنگ کے ممکنہ اعلان کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران میں شدت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی منظر نامے پر غالب جنگ کے ماحول میں مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے امن کے قیام کی خاطر پاکستان کی کوششیں اور اہم مسلم ممالک کی ان کاوشوں میں شمولیت اور باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اگر پاکستان کی یہ جدوجہد اپنے مقاصد اور اہداف کے مطابق بڑھ پائی تو یقینی طور پر یہ ایک تاریخی پیش رفت ہوگی جس کے غیر معمولی نتائج مسلم ممالک کی باہمی دفاعی و اقتصادی شراکت داری کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ امن کے لیے پاکستان کی جدوجہد اس قدر واضح ہے کہ ایران اور امریکا دونوں ہی اس کے معترف ہیں جبکہ ترکیہ اور سعودیہ باہمی اختلافات کے باوجود پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں شریک ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والی اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا بنیادی مقصد دنیا کو اس جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانا تھا جس کے سنگین نتائج عالمی کساد بازاری، شدید گرانی اور توانائی کے مراکز کی تباہی کی صورت میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ بنیادی طورپر ایران پر مسلط کردہ جارحیت دراصل انسانیت کے عالمی مجرم نیتن یاہو اور امریکی تاریخ کے غیر ذمہ دار ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تزویراتی تضادات، احمقانہ ضد، ریاستی انا اور سیاسی مفادات کا عکس ہے۔ یوں تو اسرائیل کو تو ایک ریاست کہنا ہی غلط ہے، کیوں کہ مسلم امہ کے تناظر میں یہ محض دہشت گردی کا ایک عالمی مرکز ہی ہے جس کی سرپرستی امریکا کر رہا ہے، البتہ خود امریکی ریاست کی قوت و طاقت ایسے افراد کے ہاتھو ں میں ہے جوکہ قول وفعل کے تضادات، الفاظ کی ہیر پھیر، عالمی سفارتی آداب اور ریاستوں کے مابین طے شدہ قوانین کی خلاف ورزی اور وعدہ خلافی جیسی اخلاقی گراوٹ اور معصوم بچوں کی عصمت دری جیسے غیر انسانی جرائم میں مبتلا ہیں لہٰذا ان کے لیے عام انسانوں کو درپیش مشکلات ایک ثانوی درجے کا معاملہ ہو سکتا ہے لیکن مسلم ممالک کے حکمرانوں کے لیے انسانی جانوں کا تحفظ ایک بنیادی قدر اور ان پر عائد ہونے والے اہم ترین فرائض کا حصہ ہے لہٰذا پاکستان اپنے برادر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر امن کے لیے جو کاوشیں کر رہا ہے، وہ محض سیاسی مفادات، تزویراتی ضروریات اور طاقت کے بدلتے عالمی توازن میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھنے کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ بنیادی شرعی ذمہ داری بھی ہے۔ پاکستانی قوم کے لیے یہ فخر اور شکر کا لمحہ ہے کہ اس مشکل وقت میں پاکستان مسلم دنیا کی قیادت کررہا ہے۔
اس وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جارحیت کا تسلسل جاری ہے۔ ایران کے اہم دفاعی اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن جواب میں اسرائیل کے علاوہ عرب ممالک میں موجود امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچانے کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔ ایران کی جوابی کارروائیاں دراصل امریکی صدر کے ان دعوؤں کی عملی ترید ہیں جوکہ وہ اب تک اپنے عوام کے سامنے ایران کی شکست کے حوالے سے کرتے چلے آئے ہیں۔ جھنجلاہٹ کا شکار امریکی صدر ٹرمپ جو جنگ کے نتیجے میں اپنے عوام کی ناراضی کا سامنا کر رہے ہیں، تضاد بیانی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی امن کوششوں کی تعریف کی جا رہی ہے تو دوسرے ہی سانس میں وہ بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں جس سے امن کی بجائے جنگ میں مزید شدت پیدا ہونے اور نتیجے میں عالمی معاشی بحران برپا ہونے کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں جیسا کہ تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ سطح کا اضافہ اس کی ایک جھلک ہے۔ امریکی صدر کی تضاد بیانی ظاہر کرتی ہے کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی محض ایک ڈرامہ ہی ہے، اس جنگ کا اصل مقصد ایرانی تیل پر تسلط حاصل کرنا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کو یہ راستہ انسانیت کے عالمی مجرم نیتن یاہو نے دکھایا جو اس وقت خود بھی کرپشن اور سیاسی سطح پر اپنے عوام کی طرف سے شدید تذلیل کا سامنا کر رہا ہے جبکہ ایسے مجرمانہ کردار کے حامل شخص کی پالیسی پر چلنے کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی امریکا بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔
دنیا کی طاقت ور ریاستوں کے کلیدی عہدوں پر مجرمانہ کردار رکھنے والے افراد کی موجودگی دنیا کو ایک ہمہ گیر فساد کی جانب دھکیل رہی ہے جس کا تدارک مسلم ممالک کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ دنیا کو فساد سے محفوظ رکھنے، امن وسلامتی کے ماحول کو قائم کرنے اور عام انسانوں کو شر و فساد سے بچانے کے لیے مسلم ریاستوں کو دفاعی، اقتصادی اور معاشی حوالوں سے مضبوط بنیادوں پر باہمی شراکت سے کام لینا چاہیے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ ملاقات اس تاریخی پیش رفت کے لیے ایک سنگ میل ہو سکتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی یہ کاوشیں نہایت قابلِ قدر ہیں اور بالخصوص وزیر اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر اور ان کے تمام رفقاء اور معاونین امن و سلامتی کے قیام کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں، قوی امید ہے کہ ان کے مثبت اور قابلِ قدر نتائج جلد ہی ظہور پذیر ہوں گے۔

