مصر سے تعلق رکھنے والے احمد عادل صاحب ہمارے دوست ہیں۔ صاحب علم، متشرع اور حافظ قرآن ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں اور دبئی میں کام کرتے ہیں۔ ان دنوں مجھے دوسری بار روایتِ حفص میں قرآن سنا رہے ہیں۔ عمر ان کی اٹھائیس برس ہے اور چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ ان کی شادی کے حوالے سے ہمارے درمیان گپ شپ چلتی رہتی ہے۔ ایک دن میں نے ہنستے ہوئے پوچھ لیا: اپنی شادی کا کیا ارادہ ہے؟
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا: ارادہ تو ہے مگر ابھی نہیں۔ پہلے بہنوں کی ذمہ داری ہے۔ اور ویسے بھی ابھی تک کوئی ایسی نہیں ملی جو مکمل طور پر مناسب ہو۔
یہ ”مکمل طور پر مناسب” میرے ذہن میں دیر تک گردش کرتا رہا۔ یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کی بھی ایک خاموش سچائی ہے۔ ہم سب کہیں نہ کہیں ایک مکمل انسان کی تلاش میں ہیں۔ ہمیں ایسا شریکِ حیات چاہیے جو ہمیں بغیر کہے سمجھ لے، ہمارے خیالات سے ہم آہنگ ہو، ہمارے مزاج سے میل کھاتا ہو، اور ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ہمارے جیسا محسوس کرے۔ گویا ہم ایک انسان نہیں، بلکہ اپنی ہی ایک تصویر اور وہ بھی بہتر اور بے عیب تلاش کر رہے ہیں۔
محبت اپنی اصل میں ایک خوبصورت امید ہے۔ یہ امید کہ کوئی ہمیں سمجھے گا، قبول کرے گا، اور ہمارے ساتھ زندگی کے سفر کو آسان بنائے گا۔ مگر مسئلہ محبت میں نہیں، بلکہ اس تصور میں ہے جو ہم نے محبت کے نام پر اپنے ذہن میں تراش لیا ہے۔ بہت سے معاشروں میں تاخیرِ نکاح کی ایک بڑی وجہ یہی غیر حقیقی توقعات ہیں۔ اچھے اور مناسب رشتے بھی صرف اس لیے رد کر دیے جاتے ہیں کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے خیالی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ہم ایک ایسے احساس کے منتظر رہتے ہیں جو ہر لمحہ یکساں شدت کے ساتھ قائم رہے، ایک ایسی ہم آہنگی کے خواہاں ہوتے ہیں جو شاید حقیقت میں ممکن ہی نہیں۔ یوں محبت ایک فطری جذبہ رہنے کے بجائے ایک امتحان بن جاتی ہے، اور نکاح ایک آسان راستہ ہونے کے بجائے ایک مشکل مرحلہ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ محبت نہیں، بلکہ ایک ناممکن جذباتی ضمانت تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ایسا رشتہ چاہیے جس میں کبھی مایوسی نہ ہو، ایسا شریک چاہیے جس میں کوئی کمی نہ ہو، اور ایسی زندگی چاہیے جس میں کوئی آزمائش نہ آئے۔ ہم اپنے اس خوف کو اعلی معیار کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ اکثر ایک گہرا اندیشہ ہوتا ہے، یعنی خود کو کسی کے سامنے کھول دینے کا اندیشہ۔ کیونکہ سچی محبت صرف دوسرے کی کمزوریاں ظاہر نہیں کرتی، بلکہ ہماری اپنی کمزوریاں بھی بے نقاب کر دیتی ہے۔
یہ المیہ صرف نکاح سے پہلے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ شادی کے بعد بھی ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ ابتدا کا جذباتی جوش جب وقت کے ساتھ ایک سنجیدہ اور پائیدار رفاقت میں بدلتا ہے تو ہم اسے محبت کی کمی سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ یہ محبت کا فطری ارتقا ہوتا ہے۔ جوش کا سکون میں بدل جانا زوال نہیں، بلکہ پختگی کی علامت ہے۔ اسی حقیقت کو ہمارے اسلاف نے نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا جو اپنی بیوی کو صرف اس لیے طلاق دینا چاہتا تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتا۔ آپ نے اسے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: گھر صرف محبت پر قائم نہیں ہوتے۔ بلکہ نکاح کی بنیاد اور اس کا استحکام باہمی شفقت، رحمت، حقوق کی ادائیگی اور ذمہ داری پر ہوتا ہے۔ گھر محبت کے جذباتی جوش سے نہیں بلکہ حسنِ معاشرت اور بھلے برتا سے قائم رہتے ہیں۔
یہ چند جملے ہمارے موجودہ رویوں کے لیے ایک مکمل رہنمائی رکھتے ہیں۔ ہم نے نکاح کو محض جذباتی تسکین کا ذریعہ سمجھ لیا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک ذمہ داری، ایک عہد، اور ایک مسلسل کوشش کا نام ہے۔ مزید یہ کہ سوشل میڈیا نے محبت کا ایک ایسا چمکدار مگر غیر حقیقی تصور ہمارے سامنے رکھ دیا ہے جس نے ہماری توقعات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ ہم دوسروں کی زندگی کے چند منتخب خوبصورت لمحات دیکھ کر اپنی حقیقت کا موازنہ کرتے ہیں اور اسے کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً نہ ہمیں موجودہ رشتوں میں اطمینان ملتا ہے، نہ نئے رشتوں میں فیصلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یوں مسئلہ رشتوں کی کمی نہیں، بلکہ توقعات کی زیادتی ہے۔ میرے مصری دوست کی کہانی بھی اسی اجتماعی کیفیت کی ایک جھلک ہے۔ ایک نیک، باصلاحیت اور ذمہ دار نوجوان، مگر وہ بھی ”صحیح وقت” یا ”مکمل انتخاب” کے انتظار میں ہے۔ اس کا صبر اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، مگر اس کے الفاظ میں چھپی یہ خواہش بہت سے معاشروں کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم حقیقت کے بجائے ایک تصور کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا، اور نہ ہی کوئی رشتہ ابتدا ہی سے کامل ہوتا ہے۔ رشتے وقت، برداشت اور باہمی کوشش سے پختہ ہوتے ہیں۔ محبت مکمل ہم آہنگی کا نام نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود ساتھ چلنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہ دکھ سے بچنے کا وعدہ نہیں، بلکہ دکھ کو مل کر سہنے کا حوصلہ ہے۔ جو لوگ ایک بے عیب رشتے کے منتظر رہتے ہیں، وہ اکثر اسی انتظار میں عمر گزار دیتے ہیں۔ یا رشتے کی تاخیر انہیں مناسب ہمسفر تو عطا کر دیتی ہے، مگر اس کی قیمت اسے کچھ اور نعمتوں کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ کبھی اولاد کی محرومی، کبھی جسم کی کمزوری، اور کبھی وہ تھکن جو پرورشِ نسل کا بوجھ اٹھانے سے قاصر رہتی ہے۔ اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ صرف احساس کافی ہے، وہ زندگی کی حقیقتوں کے سامنے اس احساس کو بدلتا دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محبت کو ایک فطری جذبہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ شعور اور ذمہ داری کو بھی شامل کریں۔ نکاح کو آسان بنائیں، توقعات کو حقیقت پسندانہ رکھیں، اور رشتوں کو وقت دیں کہ وہ اپنی اصل خوبصورتی میں ڈھل سکیں۔ امید یقینا خوبصورت ہے مگر اگر اس کے ساتھ پختگی نہ ہو تو یہی امید ایک فریب بھی بن سکتی ہے۔ اور جہاں تک بات ہے محبت کی تو محبت کا اصل معیار اس کی ابتدا کا جوش نہیں، بلکہ اس کی بقا ہے کہ ہم اسے کتنی سمجھ داری، برداشت اور ذمہ داری کے ساتھ نبھا پاتے ہیں۔

