تیل کی قیمتیں اور موثر سفارت کاری کی ضرورت

جب پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو شہر کی سانس مہنگی ہوکر رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 10فیصد اضافہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15سے 25فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس مرتبہ جب عید میں چند روز رہ گئے تھے حکومت نے پردیسی مزدوروں کا بھی خیال نہ کیا کہ انہیں اس عید کے موقع پر پہلے کی نسبت 25سے 30فیصد زائد کرایے پر صرف کرنا پڑا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ آبنائے ہرمز سے تیل نہیں آرہا۔ حالانکہ پاکستان کے لیے راستے ابھی تک کھلے ہیں۔ لیکن آئی ایم ایف تو ان سب باتوں سے بے نیاز یا لا تعلق تھا۔ اس گویا ایک بہانہ ہاتھ آگیا کہ پاکستان کی معیشت کو کمزور کیا جائے۔ مہنگائی کو طاقتور عفریت کی شکل دی جائے۔ لہٰذا حکم صادر ہوا کہ پیٹرول کی قیمت میں فوری اضافہ کیا جائے۔ بس کیا تھا راتوں رات ہم نے دیکھا 55روپے فی لٹر کا اضافہ ہو چکا تھا۔ فائدہ ان پیٹرول پمپ والوں کا ہوا جن کے پاس پہلے سے پیٹرول کا ذخیرہ موجود تھا۔ اس کے فوری اثرات یہ مرتب ہوئے کہ بقول کراچی کے تاجروں کے گودام میں 70فیصدمال پڑا کہ پڑا رہ گیا، کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ساتھ ہر چیز کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ عید کی خریداری ہی نہ کرسکے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ حالیہ جنگ سے شدید متاثر ہے۔ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اتارچڑھاؤ جاری ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بدستور غیرمستحکم ہے۔ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر جو کبھی معیشت کا سہارا تھیں، اب غیریقینی کا شکار ہیں اور دیگر کئی باتیں جیسے آبنائے ہرمز کے مدوجزر مل کر پاکستان میں ایک خطرناک معاشی طوفان برپا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ترسیلات زر میں مزید کمی کے امکانات ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود آئی ایم ایف کے مطالبات میں کوئی کمی نہیں آتی۔ حالانکہ یہ جنگ کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں تو آئی ایم ایف کو پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ نرمی اور رعایت کا معاملہ کرنا چاہیے۔ امریکا ایران جنگ کے بیچ پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان سعودی عرب سے تیل خرید کر آبنائے ہر مز سے اپنے جہاز بحفاظت نکال لانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ تادم تحریر پاکستان میں تیل کی قیمتیں دوبارہ نہیں بڑھیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کے مطالبے پرجو پہلا اضافہ کیا تھا، اس کے ذریعے اتنی آمدنی حاصل ہوگئی کہ جلد مزید اضافے کی ضرورت نہیں رہی۔ اگرچہ حکومت دعوی کر رہی ہے کہ تیل کی قیمتیں نہ بڑھاکر وہ کھربوں روپے کا خسارہ برداشت کر رہی ہے، شاید اس خسارے سے مراد مزید آمدنی نہ ہونا ہے جوکہ آئی ایم ایف کی گائیڈ لائن کے مطابق کمائی جاسکتی تھی۔

ہمیں اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ پاکستان کی معاشی نجات مغربی اداروں کی غلامی میں نہیں۔ تیکنیکی اعتبار سے پاکستان عید کے بعد تک مرحلے وار قیمتوں میں اضافہ کرتا تو شاید عوام کی عید کی خوشیاں غارت نہ ہوتیں۔ کیونکہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ ہر ہفتے قیمت کا تعین کیا جائے گا۔ اور اس دوران سفارتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب اور ایران سے ڈیل کرلی جاتی تو جس طرح صرف کراچی کے تاجروں کے گوداموں میں 70فیصد مال بن بکے پڑا رہ گیا، اسی طرح کی صورت حال ملک بھر میں کم خریداری کی رہی، یہ سب شاید نہ ہوتا۔ کیونکہ مافیاز، ذخیرہ اندوزوں، بلیک مارکیٹ کرنے والوں نے مال مہنگا ہونے کے تعین کے ساتھ اشیائے خورونوش حتیٰ کہ ادویات تک کی قلت پیدا کر دی اور عید کے موقع پر کرایوں میں ہوش ربا اضافہ کردیا گیا۔ ان سب باتوں کے باعث اب مہنگائی میں مزید اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ معیشت میں ایک بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ حکومت سفارتی رابطے استعمال کرتے ہوئے اپنے جغرافیائی برادرانہ تعلقات کو استعمال کرتی، سعودی عرب اور ایران کی طرف سے تسلی کو آئی ایم ایف کے سامنے ڈھال کے طور پر پیش کرتی تو آئی ایم ایف کے سامنے حکومت کی بار گینگ پاور بڑھ جاتی۔ آئی ایم ایف نے اتنے دن مذاکرات کیے اور معاہدہ کیے بغیر رختِ سفر باندھ لیا۔ چند دن موثر سفارت کاری میں صرف کرتے، آئی ایم ایف کو تسلی کرا دیتے تو کم ازکم عوام کی عید کی خوشیاں توآئی ایم ایف کی بھینٹ نہ چڑھتیں۔ ہمیں ملک میں تیل کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے مستحکم اور موثر سفارت کاری کرنی چاہیے۔