امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا مقصد ایران کی حکومت کو شدید کمزور کرنا ہے۔اپنے ایک بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا جلد ایران سے نکل جائے گا، امریکا اپنے زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران جنگ کو کچھ اور عرصے تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کا مقصد ایران کی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ امریکی نائب صدر نے مزیدکہا کہ اس تنازع سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، یہ قیمتیں جلد کم ہو جائیں گی۔ دوسری طرف اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیے اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جنگ روکنے کے حوالے سے اہم میٹنگ ہوئی ہے، جس میں اس جنگ کو ختم کرنے اور اس کے اثرات سے دنیا اور بالخصوص مشرق وسطی کو بچانے کیلئے اہم تجاویز پر غور کیا گیا۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مسلط کی گئی جنگ کو ایک ماہ بیت چکا ہے اور اس ایک ماہ نے عالمی ضمیر، بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدارتینوں کو ایک کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ یہ جنگ کسی ٹھوس ثبوت، جواز اور دلیل کے بغیر شروع نہیں کی گئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری بھی حاصل نہیں۔ یوں یہ جنگ عالمی نظام کے لئے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ اس جنگ کے آغاز کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور اسرائیلی قیادت نے جو اہداف مقرر کیے تھے، ان میں ایران میں رژیم چینج اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا شامل تھا، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود یہ اہداف نہ صرف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ایران نہ صرف اپنے دفاع میں ڈٹا ہوا ہے بلکہ اس کے جوابی حملوں نے اس جنگ کو ایک وسیع تر علاقائی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ ساتھ ہی رژیم چینج کا مقصد بھی محض خواب و خیال بن کر رہ گیا ہے۔ امریکی صدر کو اس ناکامی نے شدید خفت میں ڈال دیا ہے، جس کا اظہار وہ آئے دن سوشل میڈیا پر بے سروپا طنز و تحقیر اور بلند بانگ جھوٹے دعوؤں کے ساتھ کرنے میں مصروف ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیائی حرکتوں کے ذریعے دراصل اس تلخ حقیقت سے نظریں چرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایران میں بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود مقاصد میں ناکامی کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس جنگ کی سب سے نمایاں ”کامیابی” اگر کوئی ہے تو وہ تباہی ہے، ایک ہمہ گیر، اندھی اور بے رحم تباہی۔ ایران کے مختلف شہر، صنعتی مراکز اور بنیادی ڈھانچے امریکا اور اسرائیل کی اندھا دھند بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ انسانی المیہ اپنی بدترین شکل اختیار کر چکا ہے، مگر اس کے باوجود ٹرمپ اور نیتن یاہو کا جنگی جنون تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ دوسری جانب ایران کے جوابی حملوں نے خلیج کے خطے کو بھی شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے عالمی معیشت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دنیا کی بڑی تیل گزرگاہوں میں شامل اس اہم آبی راستے میں کسی بھی رکاوٹ کا مطلب پوری دنیا کے لئے توانائی کا بحران ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیردونوں طرح کے ممالک پر یکساں طور پر پڑ رہے ہیں۔ توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ ایک اور خاموش مگر خطرناک بحران بھی سر اٹھا رہا ہے، وہ ہے ادویات کی قلت۔ عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث زندگی بچانے والی ادویات کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں یہ بحران انسانی جانوں کیلئے ایک اور بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ان تمام حالات کے درمیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان امید افزا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ امریکا اپنے بیشتر فوجی مقاصد حاصل کرچکا ہے اور جلد اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کرے گا، ایک مثبت اشارہ ہے اور اس بات کا مظہر ہے کہ امریکی حکام کو بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ ایک بھیانک غلطی کے مرتکب ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ میں جے ڈی وینس کو ایک نسبتاً محتاط اور جنگ مخالف آواز سمجھا جاتا ہے۔ ان کا سفارتی محاذ پر آگے آنا اس بات کا عندیہ ہے کہ شاید امریکی پالیسی ساز حلقوں میں اس جنگ کے نتائج پر سنجیدگی سے غور شروع ہو چکا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو اسے فوری اور مؤثر اقدامات میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں اس جنگ کے خلاف عوامی ردعمل بھی قابلِ توجہ ہے۔ امریکا اور اسرائیل سمیت مختلف ممالک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جو اس جنگ کو غیر قانونی، غیر اخلاقی اور انسانیت کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ یہ مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی ضمیر ابھی زندہ ہے اور انسانیت مکمل طور پر بے حس نہیں ہوئی۔ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہلواتا ہے، مگر اس کا موجودہ صدر جمہوری اصولوں کی بجائے آمرانہ طور طریقوں پر کاربند ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے لئے امریکی کانگریس، سینیٹ اور اقوام متحدہ سب کو بائی پاس کیا اور نیتن یاہو کے مشورے پر جنگ کا آغاز کرکے پوری دنیا کو آج آزمائش میں ڈال رکھا ہے، ایسے میں امریکی عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ سڑکوں پر آکر ٹرمپ کی اس خطرناک فسطائیت کے خلاف احتجاج کریں۔
اس پس منظر میں اسلام آباد میں ہونے والا پاکستان، ترکیے، سعودیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اہمیت کا حامل ہے۔ اس اجلاس میں جنگ کے خاتمے اور خطے کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے سنجیدہ تجاویز پر غور کیا گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ آج دنیا کو اسلحے کی نہیں بلکہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ اختلافات کو بات چیت، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ نیت خالص اور ارادہ مضبوط ہو۔ اگر اس جنگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ایک ایسی تباہی، جس کے سامنے موجودہ بحران بھی معمولی محسوس ہوگا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی قیادت ہوش کے ناخن لے، جنگ بندی کو یقینی بنائے اور ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھے جہاں امن، استحکام اور خوشحالی ہر انسان کا مقدر ہو۔ ہماری دعا ہے کہ دنیا اس نازک موڑ پر مشترکہ اور درست فیصلے کرے اور انسانیت کو ایک اور بڑے المیے سے بچا لیا جائے۔ اس کے لئے دنیا کو اب امریکی آمریت کے خلاف ہمت کرکے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔

