غزہ، پولیس گاڑی پرصہیونی حملہ،بوسیدہ عمارت گرگئی،11شہید

غزہ/تل ابیب:غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں قصبہ الزوایدہ کے داخلی راستے پر قابض اسرائیل کے طیاروں کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں پولیس کے 8 افسران اور اہلکار جام شہادت نوش کر گئے۔

وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ وسطی گورنری میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں 8 شہدا اور 14 زخمیوں کو گورنری کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیاکہ قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے الزوایدہ کے قریب پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وسطی گورنری میں مداخلت کار پولیس کے ڈائریکٹر کرنل ایاذ ابو یوسف اپنے 7 ساتھی اہلکاروں سمیت شہید ہو گئے۔

قبل ازیں پیرکی صبح وسطی غزہ میں صہیونی بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت چار شہری شہید ہو گئے ۔دریں اثناء غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے مغربی علاقے مواصی میں گذشتہ شب قابض اسرائیل کی سابقہ بمباری سے متاثرہ ایک عمارت کی دیوار گرنے کے نتیجے میں تین پناہ گزین فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

یہ دیوار پناہ گزینوں کے خیموں پر گری جو اس نئے خطرے کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا ان ہزاروں خاندانوں کو ہے جنہوں نے دشمن کی وحشیانہ بمباری میں اپنے گھروں کی تباہی کے بعد مخدوش عمارتوں یا ان کے گرد و نواح میں پناہ لے رکھی ہے۔

خان یونس گورنری میں شہری دفاع کے عملے نے بتایا کہ انہوں نے الرباط کالج کی عمارت کی دیوار گرنے کے حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ دیوار مواصی کے علاقے میں قائم پناہ گزینوں کے خیموں پر گری تھی جس کے نتیجے میں تین شہری جام شہادت نوش کر گئے جبکہ متعدد دیگر مختلف نوعیت کے زخموں سے دوچار ہوئے ہیں۔

شہری دفاع کے مطابق اس المناک حادثے میں شہید ہونے والوں میں 65 سالہ انتصار عودہ ابو دان، 19 سالہ تسنیم ایاد بربخ اور 5 سالہ معصوم بچہ حسنی رافت حسنی ابو طہ شامل ہیں۔

ادھراسیران میڈیا آفس نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی جیل انتظامیہ کی سرکوب فورسز نے گذشتہ ہفتے کے روز نفحہ صحرائی جیل کے مختلف حصوں پر دھاوا بولا اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران اسیران پر تشدد کیا اور ان کا بہت سا سامان ضبط کر لیا۔

میڈیا آفس نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ ان جابرانہ فورسز نے اسیران کے پاس موجود کھانے پینے کی اشیاء اور پلاسٹک کے برتنوں اور کپوں سمیت ان کی ذاتی ضرورت کی دیگر اشیاء بھی چھین لی ہیں جس سے جیل کے اندر زندگی گزارنے کے حالات مزید دشوار اور ابتر ہو گئے ہیں۔

بیان میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا کہ جیل انتظامیہ نے رمضان المبارک کے آغاز کے بعد پہلی بار اسیران کو جیل کے صحن میں نکلنے کی اجازت دی ہے جبکہ یہ اسیران بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹ کر تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اسرائیل نے کمسن فلسطینی لڑکی پر گاڑی چڑھانے کی ویڈیو بنانے والی امریکی یہودی خاتون کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق جس امریکی یہودی خاتون نے کمسن فلسطینی لڑکی پر گاڑی چڑھانے کی ویڈیو بنائی تھی اسے اب ملک بدر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی یہودی خاتون کا موقف ہے کہ اسرائیلی حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پرخیالات کے اظہار کی وجہ سے ڈی پورٹ کیا جارہا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ امریکی یہودی خاتون نے گاڑی چڑھانے والے اسرائیلی ڈرائیور سے جھگڑا کیا تھا۔

مسلسل سترہویں روز بھی قابض اسرائیل نے نام نہاد ہنگامی حالت کے بہانے مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔ یہ ایک بے مثال اور سنگین قدم ہے جس کے ذریعے ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے قبلہ اول تک پہنچنے سے محروم کر دیا گیا ہے۔