آبنائے ہرمز کی بندش، سعودی عرب نے متبادل رستہ تلاش کرلیا

آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سعودی عرب کی مغربی بندرگاہوں کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
اس تناظر میں مغربی سعودی عرب میں واقع ینبوع کی شاہ فہد صنعتی بندرگاہ نے آبنائے ہرمز میں تناؤ کے باعث عالمی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل کی اوسط شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ یہ بندرگاہ سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک متبادل راستہ اور ذخیرہ اندوزی کی بڑی گنجائش فراہم کرتی ہے جس سے پُرتشدد علاقوں سے دور سپلائی کی سکیورٹی کو تقویت ملتی ہے جبکہ مملکت تیل کی منتقلی اور برآمدات کے تسلسل کے لیے ‘ایسٹ ویسٹ’ پائپ لائن پر انحصار کررہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق دیوہیکل تیل بردار بحری جہاز نہرسویز کے راستے ینبوع میں شاہ فہد صنعتی بندرگاہ پہنچ چکے ہیں اور بندرگاہ سے خام تیل لوڈ کرکے یورپ، لاطینی امریکا، امریکا، افریقہ اور ایشیا کی جانب روانگی کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے مشیر جنگ سے نکلنے کے مشورے دینے لگے
خبر کے مطابق تیل اس بندرگاہ تک ‘ایسٹ ویسٹ’ پائپ لائن کے ذریعے پہنچتا ہے جو مشرقی علاقے سے خام تیل ینبوع بندرگاہ منتقل کرتی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ بندرگاہ 40 سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہے لیکن آج سعودی تیل کی برآمدات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اسے مکمل استعداد کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لوڈنگ اور ترسیل کے تمام آپریشنز عالمی سپلائی کے استحکام اور جہاز رانی کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ کوآرڈینیشن اور سلامتی کے معیارات کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں۔
سعودی آرامکو نے اعلان کیا ہے کہ وہ دو دنوں کے اندر ‘ایسٹ ویسٹ’ پائپ لائن کو اس کی مکمل صلاحیت کے ساتھ فعال کر دے گی۔
سعودی عرب اپنے لاکھوں بیرل خام تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبوع بندرگاہ کی طرف منتقل کرنے پر کام کررہا ہے۔ یہ قدم دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کو عالمی منڈیوں میں سپلائی کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد دے گا ، کیونکہ ایرانی جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ بند ہے اور خطے میں تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینک بھر چکے ہیں۔