مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے لگی ہے جس کے نتیجے میں امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد امریکا میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر تقریباً 3.32 ڈالر فی گیلن جبکہ ڈیزل کی قیمت 4.33 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ کئی مہینوں کی بلندترین سطح سمجھی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام تیار رہیں، پٹرول مہنگا کرنے کے بعد حکومت کا مزید سخت فیصلوں کا عندیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل کے باعث تیل کی عالمی رسد متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
عالمی ماہرین توانائی کے مطابق اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا سمیت دنیا بھر میں اشیائے خورونوش اور نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

