وحدتِ دین نہ کہ وحدتِ ادیان

گزشتہ سے پیوستہ:
اسلام میں ”ابراہیمیہ” کے نام سے یا کسی اور نام سے مختلف مذاہب کے معجون مرکب اور ملغوبہ کا کوئی تصور نہیں ہے؛ مگر افسوس کہ بعض عرب قائدین نے اپنی نا اہلی اور ناسمجھی کی وجہ سے اس تصور کو قبول کرنے میں احمقانہ پیش قدمی کی ہے۔ مصر کے سابق صدر انور السادات نے اسی جذبہ کے تحت سینا کے علاقہ میں ”مجمع الادیان” بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ اصطلاح اس وقت اور زیادہ مشہور ہوئی اور عالمی سطح پر اس کا آوازہ بلند ہونے لگا، جب 2020ء میں امریکاکے زیر سر پرستی عرب امارات اور بحرین کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنے کی بات سامنے آئی اور ستمبر 2020ء میں وہائٹ ہاؤس میں اُس معاہدہ پر دستخط ہوا، جس کو امریکی صدر ٹرمپ نے ”ابراھام معاہدہ” کا نام دیا، اور اسی کا ایک مظہر یہ کہ عرب امارات کی راجدھانی ابوظہبی میں ”ابراھیمہ ہاؤس” کا افتتاح ہوا، جس میں مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہیں اکھٹے طور پر بنائی گئیں۔ مغرب میں ایک خاص سازش کے تحت یہ خلافِ واقعہ اور ناقابلِ قبول تصور پیش کیا گیا ہے اور افسوس کہ عالم عرب نے اپنی بے بسی، نافہمی اور مغرب کی خوشامد میں اس اصطلاح کو قبول کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ دراصل وحدتِ ادیان کی ایک عالمگیر کوشش ہے، اس کی ابتدا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب تین قوموں سے ہوا ہے؛ لیکن اندیشہ ہے کہ بتدریج اس میں دیگر بڑے مذاہب خاص کر ہندو اور بودھ دھرموں کو بھی شامل کر لیا جائے۔

”مذہب” بنیادی طور پر تین عناصر کو شامل ہوتا ہے: عقیدہ، شریعت اور اخلاق۔ اخلاقی تعلیمات تمام ہی مذاہب میں ملتی جلتی ہیں، ہر مذہب میں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک، بڑوں کے ساتھ احترام، چھوٹوں کے ساتھ شفقت، ماں باپ کی خدمت، پڑوسیوں کے ساتھ بہتر سلوک، اسی طرح صفائی ستھرائی کی تعلیم دی گئی ہے؛ البتہ اس سلسلہ میں اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے اخلاقی تعلیم کو پورے ایک نظام کی شکل میں پیش کیا ہے؛ تاکہ لوگوں کے لیے اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے، جیسے رشتہ داروں کے ساتھ حُسن سلوک، مذاہب کی ایک مشترک تعلیم ہے لیکن اسلام نے نفقہ اور وراثت کا قانون اور مختلف رشتہ داروں کے حقوق متعین کر کے اس کی متعین صورت مقرر کر دی ہے۔ صفائی ستھرائی کو ہر مذہب میں پسند کیا گیا ہے لیکن اسلام نے اس کے لیے استنجا، وضو غسل، نماز ادا کرنے کے لیے لباس اور جگہ کی صفائی کے تفصیلی احکام دیے ہیں۔ اخلاقی پہلوؤں کو جب قانون کے دائرے میں لے آیا جاتا ہے، تو ان پر عمل آسان ہو جاتا ہے اور ہر شخص ان کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

عقیدہ کے معاملہ میں اسلام مکمل طور پر عقیدۂ توحید کا داعی ہے اور مسلمان ہونے کے لیے توحید کا اقرار کافی نہیں ہے بلکہ شرک سے برأت کا اظہار بھی ضروری ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: انی برئی مما تشرکون (انعام) اب غور کیا جائے کہ جو مذہب ایک خدا کو مانتا ہے اور جس مذہب میں تین تین خدا مانے گئے ہوں، یا خدا کے اختیارات بندوں کے ہاتھ میں دے دیے گئے ہوں، یا جس میں خدا کی مخلوق کو یہاں تک کہ انسان سے کم درجہ کی مخلوق کو بھی خدا قرار دیا گیا ہو، وہ کیسے ایک ہو سکتے ہیں؟

جہاں تک شریعت کی بات ہے تو اسلام میں حلال وحرام پسندیدہ اور ناپسندیدہ افعال کی ایک پوری فہرست ہے، جو امور جائز ہیں ان میں کوئی فرض ہے اور کوئی واجب۔ جو امور ناجائز ہیں، ان میں کوئی حرام ہے اور کوئی مکروہ۔ جب کہ موجودہ یہودیت اور عیسائیت نے اپنے آپ کو شریعت کے احکام سے پوری طرح آزاد کر لیا ہے۔ سود کو یہودیت اور عیسائیت میں بھی حرام قرار دیا گیا ہے؛ مگر آج پوری مغربی دنیا سود اور قمار میں نہ صرف مبتلا ہے؛ بلکہ اس کی داعی ہے۔ زنا کے حرام ہونے پر تورات اور قرآن مجید دونوں کا اتفاق ہے؛ لیکن آج عیسائی دنیا میں زنا کی حرمت کا کوئی تصور نہیں بلکہ ایسے خیالات کو دقیانوسیت سمجھا جاتا ہے۔ تو ایسے مذاہب کو ”ایک” کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہی رنگ سرخ بھی کہلائے اور سفید بھی۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس لیے وحدت ادیان یا مغرب کے نام نہاد مذہب ”ابراہیمیہ” دینِ حق کو حقانیت سے محروم کرنے کی ایک گہری اور شاطرانہ سازش تو ہو سکتی ہے؛ لیکن کسی بھی صاحب عقل کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔

دینِ حق کو اس کی سچائی سے محروم کرنے کے لیے ایسی کوششیں ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں، جب اہل مکہ نے اسلام کے ننھے منے پودے کو اکھاڑنے کی ہزار کوششیں کیں اور ناکام و نامرا د رہے تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ملے جلے مذہب کو ماننے کی پیش کش کی کہ ہم بھی آپ کے خدا کی عبادت کر لیں اور آپ بھی ہمارے بتوں کی پوجا میں شامل ہو جائیں؛ لیکن قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ صاف اعلان کرا دیا کہ میں تمہارے باطل معبودوں کی عبادت نہیں کر سکتا: لا اعبد ما تعبدون (الکافرون) اسی طرح مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، اس نے اپنے متبعین کی ایک بڑی جماعت تیار کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہلایا کہ ہم لوگ نبوت کو آپس میں تقسیم کر لیں آدھے لوگ آپ کو نبی تسلیم کریں اور آدھے مجھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مسترد فرما دیا تو جنگ یمامہ کا واقعہ پیش آیا، جس میں بارہ ہزار صحابہ شہید ہوئے، جن میں سات سو حافظ قرآن تھے۔ اسی حادثہ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر قرآن مجید کو جمع کرنے کا خیال پیدا ہوا، جو عہد نبوی کے تمام غزوات میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی مجموعی تعداد 255سے زیادہ ہے۔

اس طرح کی کوششیں کئی بار کی گئی ہیں، جن میں مغل دور میں اکبر کے ”دین الٰہی” نے بھی بہت شہرہ حاصل کیا، اکبر چاہتا تھا کہ اسلام اور ہندو مت کو ملا کر ایک ملا جلا مذہب تشکیل دیا جائے، اس کے لیے اس نے بعض گمراہ نام نہاد مسلمان مولویوں اور ہندو مذہب کے واقف کاروں سے مدد حاصل کی، اور اس نئے مذہب کو ”دین الٰہی” کا نام دیا، شیخ احمد سرہندی نے اس کے خلاف سخت مزاحمت کی، جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈالا اور اس سازش کو ناکام بنایا، یہی ان کا سب سے بڑا تجدیدی کام تھا، جس کی وجہ سے وہ ”مجدد الف ثانی” کہلائے۔

بعد میں بھی خاص کر 1947ء سے پہلے اور اس کے بعد بعض قائدین کی طرف سے اس طرح کی باتیں کہی گئیں اور خواہش کی گئی کہ مسلمان ہندو مذہب کے بعض نظریات کو قبول کر لیں، اور برادران وطن اسلام کی بعض حقیقتوں کو قبول کر لیں۔ ظاہر ہے یہ بات مسلمانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی، دونوں مذاہب کے درمیان اتنا تضاد ہے کہ ہندو مذہبی قائدین کے لیے بھی اس کو قبول کرنا ممکن نہیں تھا؛ چنانچہ اگرچہ اکا دکا لوگوں نے اس نظریہ کی تائید کی، یہاں تک کہ 1947ء سے پہلے جو آخری مردم شماری ہوئی، اس میں بعض حضرات نے مذہب کے خانہ میں اپنے لیے ”محمدی ہندو” کی تعبیر استعمال کی؛ لیکن اس تصور کو فروغ حاصل نہیں ہو سکا۔

اگر اس کوشش کا مقصد اہل مذاہب کے درمیان اتفاق اور رواداری کا ماحول پیدا کرنا ہو تو اس کا راستہ وہ ہے، جو قرآن مجید نے بتایا ہے کہ ہر قوم اپنے مذہبی تصورات اور مذہبی احکام پر قائم رہے، اور جیسے وہ خود اپنے مذہب پر عمل کرے، دوسرے اہل مذاہب کے لیے بھی اس حق کو تسلیم کرے کہ وہ بھی اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھیں اور اپنے مذہب کے مقرر کئے ہوئے قانونِ زندگی پر عمل کریں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں: لکم دینکم ولی دین (الکافرون) باہم اخوت اور امن وامان کا حل یہی ہے کہ ہر آدمی اپنے مذہب پر عمل کرے اور دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک کرے، ہر ایک کی جان ومال، عزت وآبرو، مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے۔ قرآن مجید میں بارہا ان حقوق کو کھول کھول کر بیان فرمایا گیا ہے اور رواداری، تحمل اور حُسن سلوک کی دعوت دی گئی ہے، مسلمانوں کو ایسے فتنوں کے بارے میں با شعور رہنا چاہئے اور ایسے دام میں آنے سے خود کو محفوظ رکھنا چاہئے، اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے عالم اسلام کی بھی حفاظت فرمائے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھی۔