منیر نیاز ی نے کہا تھا:
کتابِ عمر کا ایک اور باب ختم ہوا
شباب ختم ہوا، اک عذاب ختم ہوا
جوانی کا ختم ہو جانا کس کے لیے باعثِ اطمینان ہو سکتا ہے بھلا! لیکن اس کے اپنے تقاضے اور اپنے مطالبے ہیں جو پورے کرنے بہت کٹھن ہوا کرتے ہیں۔ کسی ملک کی سیاست میں انتخابات بھی ایسے ہی کٹھن شباب کی طرح ہیں جس سے گزرنا بھی لازمی ہے اور جس کے تقاضے پورے کرنا بھی آسان نہیں۔ خاص طور پر بنگلادیش جیسے ملک میں جہاں سیاسی شعور اور جذباتیت برصغیر کے ممالک میں سب سے اوپر ہیں۔ سو آج بنگلادیش کے لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عذاب ختم ہوا’ انتخاب ختم ہوا۔ ایک بہت بڑے دن نے بہت بڑے مرحلے سے گزار دیا۔
نتائج پر بات الگ ہے لیکن ایک نتیجہ بہرحال اطمینان بخش ہے’ وہ یہ کہ کسی بڑے خون خرابے’ جانی نقصانات’ تصادم اور ٹکراؤ کے بغیر 12فروری کا دن گزرگیا اور نتائج سامنے آنے کے بعد بھی اب تک ملک بظاہر پُرامن انتقالِ اقتدار کی طرف جا رہا ہے۔ یہ پچھلے 30سالوں میں سب سے پُرامن انتخابات تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نتیجہ ان تمام نتائج پر فوقیت رکھتا ہے جو کسی جماعت کے حق میں یا کسی کے خلاف’ کسی جیت یا شکست کی صورت میں 12فروری کا تحفہ ہیں۔ بی این پی اور جماعت اسلامی اپنے انتخابی اتحادوں کے ساتھ میدان میں تھیں۔ طرح طرح کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں لیکن 13فروری کا سورج طلوع ہوا تو یہ خبر لایا کہ بی این پی نے دو تہائی اکثریت یعنی 212نشستوں کے ساتھ میدان مار لیا ہے۔ جماعت اسلامی اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ 78نشستیں حاصل کر چکی ہے اور مخصوص نشستوں پر فیصلہ بعد میں ہوگا۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ اگلا اقتدار بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کا ہے اور اگلے وزیراعظم طارق رحمان ہوں گے۔
جماعت اسلامی اور اتحادیوں نے بہت سے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا ذکر کیا ہے اور 30حلقوں میں انہیں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق 51نشستوں کے نتائج میں فرق بہت معمولی تھا اور نتائج میں ردوبدل کیا گیا ہے لیکن ایسا عندیہ نہیں ملا کہ 11جماعتی اتحاد ان مطالبات کے لیے سڑکوں پر آنے کا ارادہ رکھتا ہے یا مجموعی انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ بی این پی اور جماعت اسلامی’ دونوں نے فاشزم کے زخم سہے ہوئے ہیں اور وہ کوئی ایسی راہ اختیار نہیں کرنا چاہیں گے جس سے ملک سیاسی خلفشار کا شکار ہو جائے۔ حسینہ واجد کی حکومت ہٹانے کے لئے جماعت اسلامی اور دینی حلقوں کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں لیکن بی این پی بھی جبر کا شکار رہی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے ان نتائج کو مان کر طارق رحمان کو مبارک بادیں دی ہیں۔ شہباز شریف نے انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ پاکستان کیلئے دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کا آنا ٹھیک ہے کیونکہ بی این پی کے سابقہ اقتدار میں پاکستان نسبتاً آسودہ رہا ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ دستوری اور آئینی اصلاحات پر مبنی تجاویز کا جولائی چارٹر بھی ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی تائید حاصل کر چکا ہے۔ بہت بڑی تعداد نے ان اصلاحات کی تائید میں ووٹ ڈالا ہے۔
میں 6جنوری سے 17جنوری تک بنگلادیش کے مختلف شہروں میں رہا اور ان نتائج کے بعد میرے ذہن میں ڈھاکہ کا ریسٹورنٹ منیجر شجو’ اتار’ ڈھاکہ میں سائیکل پر سبزی بیچنے والے بزرگ اطہر علی اور چٹاگانگ کی نصرت نوری کے چہرے گھوم رہے ہیں۔ یہ سب جماعت اسلامی کے حامی تھے اور انہیں جماعت کی کامیابی اور اقتدار سنبھال لینے کا بہت یقین تھا۔ اسی طرح ڈھاکہ یونیورسٹی کے نذرل’ امینہ’ فریا اور ڈھاکہ کے بنگلہ بازار میں سائیکل رکشہ چلانے والے شکیب کے پُرجوش جملے بھی تازہ ہو رہے ہیں۔ یہ سب بی این پی کے سپورٹرز تھے۔ میں نے ”بنگلہ بہار کا دن” کے نام سے 29جنوری کو اپنا کالم اور تجزیہ پیش کیا تھا۔ اس کا درج ذیل پیراگراف ان نتائج کے بعد دوبارہ شامل کرتا ہوں۔
”میرے خیال میں انتخابات میں چند نکات بہت اہم ہوں گے اور نتائج کا انحصار بھی انہی پر ہوگا۔ اول تو غیر ملکی قوتوں (خصوصاً بھارت) کی ترجیح کیا ہوگی اور وہ اس کیلئے کیا کوششیں کریں گی۔ بظاہر یہ قوتیں اسلامی ذہن کے لوگوں کو برسر اقتدار نہیں دیکھنا چاہیں گی۔ دوم یہ کہ بنگلادیش کی اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار ہوگا؟ کیا اسے ووٹرز کے نتائج قبول ہوں گے یا اسے اپنی مرضی کے نتائج چاہئیں، البتہ ایک بھرپور عوامی لہر کے ہوتے ہوئے نتائج کی تبدیلی اتنی آسان نہیں ہو گی۔ تیسرا بڑا عنصر ان بیس لاکھ سرکاری ملازمین کا ہے جنہیں عوامی لیگ نے چن چن کر اپنے زمانوں میں ملازمتوں پر لگایا تھا اور بہت سی اہم پوسٹیں اب بھی ان کے پاس ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو یکدم بدل دینا ممکن نہیں’ اس لیے سرکاری عملہ اب بھی وہی ہے۔ یہ افراد من پسند نتائج کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں”۔
اب جبکہ بنگلادیش الیکشن کے نتائج آ چکے اور اگلی حکومت کا فیصلہ ہو چکا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس پیراگراف میں ذکر کردہ تمام قوتوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہوگا۔ میرے خیال میں عومی رائے میں اتنا فرق نہیں تھا جتنا نشستوں میں فرق نظر آیا۔ الیکشن سے پہلے کے تمام سروے سخت مقابلہ بتاتے تھے’ بی این پی کی فوقیت سب سرویز میں تھی لیکن دو تہائی اکثریت کسی نے بھی ظاہر نہیں کی تھی۔ بنگلادیش کے گلی محلوں میں بھی کوئی ان نتائج کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ اس لیے یہ مبصرین کیلئے بھی غیر متوقع ہیں اور رائے دہندگان یعنی ووٹرز کے لیے بھی۔ یہ الگ بات ہے کہ تمام تر عدم اطمینان کے باوجود جماعت اسلامی (اتحاد) نے کسی بھی ملک میں تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ اور سب سے زیادہ 77نشستیں حاصل کی ہیں’ اور بنگلادیش میں دوسری بڑی طاقت بن کر ابھری ہے، البتہ اس وقت مجھے شمس الحق اور محفوظ نامی دو نوجوان یاد آرہے ہیں۔ یہ عمدہ سیاسی شعور کے مالک نوجوان تھے اور نوجوانوں کی نئی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کو سپورٹ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم جو بھی کچھ کر لیں’ بی این پی ہی اگلی حکومت بنائے گی۔ بات واضح ہے کہ طارق رحمن کو گرین سگنل ملا ہے تو وہ سترہ سال بعد بنگلادیش اترا ہے۔ اسے جو سرکاری پروٹوکول دیا گیا ہے وہی نشاندہی کرتا ہے کہ فیصلہ کس کے حق میں کیا گیا ہے۔ کٹر اسلام پسند قوتوں کا اقتدار سنبھالنا بہت سی بیرونی طاقتوں کے لیے تشویش کا سبب ہوگا جبکہ بی این پی کا حکومت میں آنا خطے کے تمام ممالک کی ترجیح ہے۔ بی این پی سے معاملات کرنا بھارت کے لیے بھی نسبتاً آسان ہوگا۔ وہ پہلے بھی ملک کا اقتدار سنبھال چکی ہے اور ان کا بین الاقوامی طاقتوں کو تجربہ ہے”۔
میرے کانوں میں محفوظ کے جملے گونج رہے ہیں کہ ”مہر بند بیلٹ بکس میں جو کاغذ ڈالے جائیں گے’ وہی کاغذ برآمد نہیں ہوں گے۔ گن کر ڈالے جانے والے ووٹ حتمی گنتی میں نہیں آئیں گے۔ یہ جادوگری ہے جناب جادوگری۔ وہ رومال ڈبے پر ڈالے گا’ چھو منتر پڑھ کر رومال ہٹائے گا تو یہ ڈبہ نہیں کوئی اور ڈبہ نکلے گا”۔ میں محفوظ کو کیسے بتاتا کہ بنگال کا جادو مشہور ہے لیکن آپ نے پاکستانی جادوگر نہیں دیکھے۔ محفوظ کی بات سچ نکلی ہے یا بنگلادیش کے نتائج حقیقی ہیں’ یہ فیصلہ کون کرے؟

