جین زی اور جین الفا

قدیم کہاوت ہے: ”زمین ہمیں اپنے بزرگوں سے وراثت میں نہیں ملتی، بلکہ ہم اپنے بچوں سے ادھار لیتے ہیں۔” ماہرین کہتے ہیں کہ ایک نسل کے پاس 25سال ہوتے ہیں۔ ان سالوں میں اس کا کام ختم ہوجاتا ہے اور پھر اگلی نسل کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ ان دنوں ایک بار پھر چرچا ہورہا ہے کہ جنریشن زی اور الفا کو سوالوں کے جواب چاہئیں۔ ان سوالوں کو شاید کوئی اہمیت نہ دے مگر اس سوال کی بازگشت دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔ نئی نسل سوال کررہی ہے اور جواب مانگ رہی ہے۔ اس کے ذہن میں بہت سی گتھیاں ہیں جنہیں سلجھانا ضروری ہے۔

نئی نسل کی تربیت، پچھلی نسل کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ہر شخص اپنی اولاد کا ذمہ دار ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرما دیا کہ کسی باپ نے اس سے اچھا تحفہ اپنی اولاد کو نہیں دیا کہ اس کی اچھی تربیت کر جائے۔ اچھی تربیت کرنے کی بنیاد پر جنت کا وعدہ بھی ہے۔ جو باپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر جائے، وہ اولاد اس کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتی ہے۔ایک اور حدیث میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ دو شخص قابل رشک ہیں،ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اسے بھلائی کے کاموں میں استعمال کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جس نے ایسی اولاد چھوڑی جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔ یہ اس لیے کہ زندگی میں اولاد کو ضرورت ہوتی ہے کہ باپ اس کی تربیت کرے لیکن مرنے کے بعد باپ کو ضرورت ہوتی ہے کہ اولاد اس کے دست دعا بلند کرے۔ یہ بات تو روسو بھی کہہ گیا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کے کھانے اور پہننے کی فکر کررہے ہیں تو صرف ایک تہائی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ ایک والد کی سو فیصد ذمہ داری تبھی پوری ہوگی جب وہ اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کرے گا۔

کہا جارہا ہے کہ جین زی اور الفا کو حکم نہیں دیا جاسکتا، انہیں ”کیا” کی بجائے ”کیوں” بتانا ہوگا۔ اس کا مطلب ہوا کہ والدین کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ گئی۔ اب اپنی اولاد کو سمجھانا اور قائل کرنا والدین کا اہم فرض ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جین الفا اب نئی ڈیوائسز سے سیکھے گی۔ اسے کھیل کھیل میں سمجھانا ہوگا۔ اسے ڈیجیٹل وسائل استعمال کرکے سمجھانا ہوگا۔ گویا والدین کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جین الفا اور زی کے پاس صبر و تحمل کی کمی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو انہیں صبر سکھانا پڑے گا۔ ان میں موجود صبر کی کمی کو دور کرنا ہوگا، کیونکہ صبر کے بغیر دنیا میں کامیابی نہیں ملتی۔ آخرت میں سرخروئی بھی صبر کے مرہون منت ہے۔ بے صبری اقوام کو شکست دینا منٹوں کا کھیل ہوتا ہے۔ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو محنت کی عادی ہوں۔ وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو جدید علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکل چکی ہوں۔ قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جن میں اعتماد پایا جائے۔ ہمیں اپنے بچوں میں محنت، مہارت اور اعتماد پیدا کرنا ہوگی۔ نئی نسل میں خود اعتمادی موجود ہے، اسے کمزور نہ ہونے دیں۔ اسے شکست میں بدلنے نہ دیں۔ اسے سپورٹ کریں اور نوجوانوں کو یقین دلائیں کہ مستقبل انہی کا ہے۔ مگر یہ مستقبل اس وقت تک ہاتھ نہیں آنے والا جب تک اس کے ساتھ ساتھ محنت، تحقیق، ریسرچ اور ریاضت شامل نہیں ہوجاتے۔

شیکسپئر نے کہا تھا: خرابی ستاروں میں نہیں، ہم میں ہے۔ بالکل اسی طرح آج بھی کہا جاسکتا ہے کہ خرابی نئی نسل میں نہیں، ان کی تربیت کرنے والوں میں ہے۔ آج کے والدین بچوں کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ ان کی تربیت پر توجہ نہیں دیتے۔ ان کو سمجھاتے نہیں، نہ اپنے قریب کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نئی نسل خراب ہورہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں: بچوں کو نہ سدھاریے، خود سدھر جائیے، بچے آپ کو دیکھ کر خود بخود سدھر جائیں گے۔ والدین اپنے آپ پر توجہ دینے لگیں اور اپنے کاموں کو سدھار لیں، وہ اخلاق جو بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنے اندر پیدا کرلیں تو معاشرہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ جین زی اور الفا بھی آپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے گی۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا:
ہے یاد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ
دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ
چیتے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش افرنگ
کر بلبل و طاوس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز، طاوس فقط رنگ