لندن:نئی تحقیقات میں دنیا میں بڑے اور تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ایک نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرہ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں۔
سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان چٹانوں میں طویل عرصے سے جمع ہونے والا دبائو مستقبل میں شدید زلزلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی سمیٹ رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر نہایت اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کا باعث بن سکتا ہے۔
سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ نتائج فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ موثر بناسکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس بظاہر غیر مرئی فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیلات حاصل کیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں زلزلہ جاتی خطرات اور زمین کی گہرائی میں متحرک قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔
سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ15سے 20کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تنا ئوبرداشت کر رہا ہے۔ اگر یہ جمع شدہ دبائو اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا طاقتور زلزلہ آسکتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں پیش آئی تھی۔

