قرآنِ مجید جب انسان کا تعارف کراتا ہے تو وہ تعارف نہ خوش کن ہے، نہ خود فریبی میں مبتلا کرنے والا۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان کو اس کی اصل صورت بغیر کسی ملمع اور بغیر کسی رومانویت کے دکھائی جاتی ہے۔
(اکثر شی ء جدلا) سب سے زیادہ جھگڑالو۔
(عجولا) جلد باز، (کفورا) ناشکرا۔ (قتورا) تنگ دل۔
(ضعیفا) کمزور، مگر (ان الاِنسان لیطغی ان رآہ استغنی) تونگری پر آپے سے باہر ہو جانے والا۔
یہ کسی فلسفی کا تجزیہ ہے اور نہ ہی کسی بدبین مفکر کی بددلی ہے، بلکہ خالقِ انسان کا فیصلہ ہے۔ وہ خالق جس نے انسان کو احسنِ تقویم پر پیدا کیا، جسے علم، بیان، اختیار اور خلافت عطا کی اور جس کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرایا۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن انسان کی صلاحیت نہیں، اس کی فطری کمزوری بیان کر رہا ہے۔ انسان میں خیر کی استعداد ضرور ہے، مگر وہ خودبخود نہیں پھوٹتی، اسے ایمان، عملِ صالح اور خدا شناسی کے پانی سے سیراب کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ یہی انسان، جسے آج تہذیب کا ستون کہا جاتا ہے، کل اخلاقی ملبے کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ قرآن کریم کی نظر میں حقیقی اور کامل انسان وہی ہے جو ایمان کے سانچے میں ڈھل کر انسان بنتا ہے۔ اگر ایمان، جواب دہی، آخرت اور خدا کا تصور دل سے نکل جائے تو انسان کے اندر جو کچھ باقی رہتا ہے، وہ قرآن کے الفاظ میں ”ہلوع” بے صبرا ”جزوع” تکلیف پر ہڑ بڑا اٹھنے والا اور ”منوع” بھلائی پہنچنے پر بخیل بن جانے والا ہے۔ اپنی خلقت میں ”ضعیف” انتہائی کمزور ہونے کے باوجود ”کنود” اپنے خالق کا سب سے بڑا ناشکرا ہے۔ آج دنیا جس اخلاقی زوال پر حیران ہے، وہ دراصل کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل فکری انحراف کی پیداوار ہے۔ خاص طور پر مغرب نے جسے لبرل اخلاقیات کا نام دے کر دنیا پر مسلط کیا، اس کی بنیاد ہی خدا سے بے نیازی، وحی سے انکار اور نفس کو معیارِ خیر و شر بنانے پر رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسان کی غیر مشروط مدح سرائی نہیں کرتا۔ قرآن صاف کہتا ہے:
”ان الانسان لفی خسر۔ الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر”
یعنی انسان بذاتِ خود خسارے میں ہے، الا یہ کہ وہ ایمان اور عملِ صالح کے ذریعے اپنی انسانیت کی اصلاح کرتے ہوئے اپنے اثرو رسوخ کے دائرے میں دوسروں کو حق بات اور صبر کی تلقین بھی کرے۔ آج جدید دنیا جس ”انسان دوستی” کا نعرہ لگاتی ہے، وہ دراصل اسی غیر مشروط انسان پر ایمان کا نتیجہ ہے۔ خدا کو زندگی کے مرکز سے نکال دیا گیا، وحی کو فرسودہ قرار دیا گیا، اور نفس کو خیر و شر کا واحد پیمانہ بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اخلاق کوئی مستقل قدر نہ رہا، بلکہ طاقت، مفاد اور خواہش کے تابع ہو گیا۔ تاریخِ انسانی پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت اور زیادہ بے نقاب ہو جاتی ہے۔ پہلا قتل، پہلا حسد، پہلا ظلم، سب انسان ہی کے ہاتھوں ہوا۔ ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو قتل کیا اور لاش کو چھپانا تک نہ جانتا تھا، یہاں تک کہ ایک کوے نے اسے سکھایا کہ اپنے جرم پر مٹی کیسے ڈالی جاتی ہے۔ اس ابتدائی منظر سے لے کر ایٹم بم تک، سفر طویل ضرور ہے، مگر سمت وہی ہے: طاقت ملے تو انسان حد پار کر جاتا ہے۔
آج وہی انسان، جو اخلاقیات کے لیکچر دیتا ہے، ایسی جنگیں ایجاد کر چکا ہے جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے محض اعداد بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایٹم بم ہو یا معاشی پابندیاں، نسلوں کو بھوکا مارنے کی تدبیریں ہوں یا میڈیا کے ذریعے کردار کشی، سب کچھ اسی مہذب انسان کے کارنامے ہیں۔ جانور شکار کرتا ہے تو زندہ رہنے کے لیے، انسان مگر جنگ اس لیے کرتا ہے تاکہ دوسرا زندہ نہ رہ سکے۔ اسی اخلاقی دیوالیہ پن کی ایک علامت ایپسٹین فائلز کی صورت میں سامنے آئی۔ یہ کسی ایک فرد کی بدکاری کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پورے اخلاقی نظام کی فردِ جرم ہے۔ وہ نظام جو آزادی، رضامندی اور انسانی حقوق کے نام پر دنیا کو درس دیتا رہا، مگر خود طاقت، دولت اور شہوت کے گٹھ جوڑ میں معصوم بچوں کی عصمت کو کرنسی بنائے بیٹھا تھا۔ ایپسٹین ایک شخص نہیں، ایک آئینہ ہے، جس میں خدا سے خالی تہذیب اپنا اصل چہرہ دیکھ سکتی ہے، اگر دیکھنے کی ہمت ہو تو۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین مجرم تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وہ ممکن کیسے ہوا؟ وہ اس لیے ممکن ہوا کہ جب انسان خود کو کسی بالا تر جواب دہی سے آزاد سمجھنے لگے تو اس کی خواہشات قانون بن جاتی ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان، حیوان سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔ حیوان اپنی جبلت سے آگے نہیں بڑھتا، مگر انسان عقل اور منصوبہ بندی کے ساتھ ظلم کرتا ہے۔ اسلام اسی لیے انسان کو اس کی اصل پر چھوڑنے کے بجائے اس کی تربیت پر زور دیتا ہے۔ نفسِ انسانی کو قرآن ”امارة بالسوئ” کہتا ہے، وہی نفس جو شیطان کے قید ہونے کے باوجود فساد برپا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں شیاطین قید ہوتے ہیں، مگر انسانی جرائم ختم نہیں ہوتے کیونکہ اصل مسئلہ باہر نہیں، اندر ہے۔
آج معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہر طرف یہی بگڑی ہوئی انسانیت دکھائی دیتی ہے۔ استاد علم کے منصب کو استحصال میں بدل دیتا ہے، ڈاکٹر شفا کے بجائے درندگی دکھاتا ہے، تاجر دھوکے کو کاروباری حکمتِ عملی کہتا ہے، سیاست دان قوم کا خون چوستا ہے، اور مذہب، وطن، خدمت، سب محض لیبل بن جاتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کے لیے کنواں بھی کھودتا ہے اور پھر مسکراتا بھی ہے۔ بڑے چھوٹے کو یوں نگل جاتے ہیں، جیسے سمندر میں بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جانوروں میں یہ سب نہیں۔ چیونٹی اور شہد کی مکھی اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرتی ہیں، کتا وفاداری نبھاتا ہے، گدھا صبر کی مثال بن جاتا ہے۔ مگر انسان، جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے، ایمان کے بغیر ان سب سے نیچے جا گرتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ اگر انسان اپنی انسانیت کو ایمان سے نہ سنوارے تو اس کی انسانیت خود اس کے لیے وبال بن جاتی ہے۔ یہی نکتہ جدید تہذیب کی سمجھ سے باہر ہے۔ وہ انسان کو منزل بنا لیتی ہے، جبکہ اسلام انسان کو مسافر سمجھتا ہے۔ قرآن واضح کہتا ہے: وما خلقت الجِن والِانس الا لِیعبدونِ۔ یہ زندگی ایک راستہ ہے، جس کی ایک غایت ہے۔ جو شخص سفر کے آرام میں کھو جائے اور منزل بھول جائے، وہ دانش مند نہیں، احمق ہے، چاہے اس کے پاس کتنی ہی سہولتیں کیوں نہ ہوں۔ اسی لیے اسلام کے نزدیک وہ تمام اعمال اور ایجادات جو خدا سے کٹے ہوں، سراب ہیں۔ وہ انسان کو وقتی طاقت تو دے سکتے ہیں، مگر اخلاقی بلندی نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا میں شر غالب اور خیر نایاب ہو جاتا ہے۔ سچائی، وفاداری اور دیانت کو ”مثالی اقدار” کہا جاتا ہے، یعنی ایسی چیزیں جو عام نہیں، بلکہ دور کی چیزیں بن چکی ہیں۔ اگر یہ انسان کی فطرت میں راسخ ہوتیں تو ان پر حیرت نہ کی جاتی۔
خلاصہ یہ کہ اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کیا کہلاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس معیار پر خود کو پرکھتا ہے۔ جب انسان اپنے خالق کو پہچان لے، اپنی خواہشات کو اخلاق کی مہار دے، اور اپنے ہر عمل کو جواب دہی کے احساس سے باندھ دے تو وہ واقعی اشرف المخلوقات بن جاتا ہے۔ لیکن جب انسان محض انسان ہونے کے زعم میں خود کو معصوم، خیر کا سرچشمہ اور ہر احتساب سے ماورا سمجھنے لگے تو وہ اسی مقام پر جا کھڑا ہوتا ہے جہاں قرآن نے اس کا تعارف رکھا ہے: شر الدواب۔ تاریخ کی سطریں، انسانی تجربے کی تلخ گواہیاں اور وحیِ الہی کی قطعی شہادت، سب یک زبان ہو کر کہتی ہیں کہ ایمان کے بغیر انسان کا المیہ یہ نہیں کہ وہ انسان نہیں رہتا، بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ وہ انسان بن ہی نہیں پاتا۔

