بنگلادیش کے عام انتخابات، مذہبی جماعتیں بھی کامیابی کیلئے پُرامید

رپورٹ: علی ہلال
بنگلادیش میں 12 فروری کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ یہ انتخابات بنگلادیش کی تاریخ میں اہم ترین سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ بھارتی حمایت یافتہ اور متنازع ترین سمجھی جانے والی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی معزولی کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔
اس سے قبل بنگلادیش میں 7 جنوری 2024ء کو ہونے والے گزشتہ انتخابات کا بڑی اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا جن کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کامیاب ہوئی تھی۔لیکن اس مرتبہ نہ صرف بنگلادیشی انتخابات میں حسینہ واجد معزول ہوکر ملک سے باہر ہیں بلکہ ان کی عوامی لیگ پر بھی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے۔ 22 جنوری کو عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ یہ انتخابات 2024ء میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ ان انتخابات میں 12 فروری کو 300 پارلیمانی حلقوں کے نمائندے منتخب کیے جائیں گے جن میں سے 298 نشستوں پر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے مجموعی طور پر 1972 امیدوار مدِمقابل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے عہدیدار اختراحمد کے مطابق ملک بھر میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز کو حقِ رائے دہی حاصل ہوگا۔
انتخابات کی نگرانی عبوری حکومت کررہی ہے جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمدیونس کررہے ہیں۔ انہوں نے شیخ حسینہ کی معزولی کے چند ہی دن بعد عبوری حکومت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ شیخ حسینہ گزشتہ 15 برس سے مسلسل اقتدار میں رہیں۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے دارالحکومت ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں انتخابی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ انتخابات بنگلادیش کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیے جارہے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ایک سیاسی انقلاب کے بعد ہورہے ہیں بلکہ ایک عبوری حکومت کے تحت منعقد کیے جارہے ہیں۔ ان انتخابات میں ووٹرز مجوزہ سیاسی اصلاحات پر بھی اپنی رائے دیں گے۔ مجوزہ اصلاحاتی منصوبے میں وسیع آئینی تبدیلیاں شامل ہیں جن میں دو ایوانی پارلیمنٹ کا قیام، انتظامیہ کے اختیارات میں کمی، عدلیہ اور انتخابی اداروں کی خودمختاری کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ عبوری حکومت نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا ہے تاہم اس پر سوالات اس وقت اٹھے جب حکومت نے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی جماعت، عوامی لیگ، پر انتخابی عمل میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال پر بھی خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پُرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ عرب میڈیا بھی بہت انہماک کے ساتھ بنگلادیش کے عام انتخابات کو کوریج کررہا ہے۔ بنگلا دیش کی اسلامی ممالک میں ایک اہمیت ہے اور اس کے ساتھ ایک تاریخ جڑی ہوئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) جس کی قیادت سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کرتی تھیں (جو گزشتہ ماہ 30 تاریخ کو انتقال کرگئیں)، کو انتخابات میں سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جارہا ہے۔ بی این پی 10 جماعتی اتحاد کے ساتھ انتخابی معرکے میں سب سے موثر ترین پارٹی کے طور پر میدان میں موجود ہے۔ پارٹی کے موجودہ چیئرمین اور خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ عوامی لیگ جو ماضی میں بی این پی کی سب سے بڑی حریف رہی، مئی 2025ء میں عبوری حکومت کی جانب سے اس کی سرگرمیوں پر پابندی کے بعد انتخابی دوڑ سے باہر ہوچکی ہے۔ شیخ حسینہ جو اس وقت جلاوطنی میں ہیں، پر 2024ء کے احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان مظاہروں میں تقریباً 1400 افراد جاںبحق ہوئے تھے۔ نومبر 2025ء میں ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق فروری میں ہونے والے انتخابات کے دوران ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 9 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
بنگلادیش کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ انتخابی تجزیوں کے مطابق جماعت اسلامی عام انتخابات میں اب تک کی اپنی مضبوط ترین انتخابی کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں ہے۔ جماعتِ اسلامی (جے آئی بی) 11 جماعتی اتحاد کے ساتھ دوسری بڑی طاقت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کرنے والی زیادہ تر وہی جماعتیں ہیں جنہوں نے حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی تقریباً 17 برس بعد اپنے پہلے قومی انتخابی عمل میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بعد دوسرے نمبر پر رہ سکتی ہے۔ بنگلادیش میں ایک عشرے سے زائد عرصے تک پابندی کا شکار رہنے والی مذہبی و سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے قائدین نے آئندہ انتخابات کے بعد ممکنہ طور پر وجود میں آنے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ جماعت اسلامی 175 ملین کی آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک میں مرکزی دھارے کی سیاست میں واپسی کی کوشش کررہی ہے۔
معزولی کے بعد شیخ حسینہ اِس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور آئندہ ہونے والے انتخابات کی سخت مذمت کرچکی ہیں، خصوصاً اس وجہ سے کہ ان کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے ماضی میں عوامی لیگ کو ووٹ دینے والے شہریوں کو انتخابی مخمصے سے دوچار کردیا ہے کہ وہ اس بار کس سیاسی آپشن کا انتخاب کریں۔ حسینہ واجد کے بیانات پر بنگلادیش میں سخت پابندی عائد ہے تاہم بھارتی حکومت نے انہیں کھلی آزادی دے رکھی ہے۔ گزشتہ ماہ ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں شیخ حسینہ نے بنگلادیش کی موجودہ حکومت پر تنقید کی تھی جس پر بنگلادیش کی وزارتِ خارجہ نے بھارت میں شیخ حسینہ کو عوامی خطاب کی اجازت دیے جانے پر ”حیرت اور شدید صدمے“ کا اظہار کیا۔ وزارت نے واضح کیا کہ بنگلادیش کے اندر شیخ حسینہ کی تقاریر اور بیانات کو ذرائع ابلاغ پر نشر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ایک ہمسایہ ملک کے دارالحکومت میں ایسی تقریب کے انعقاد کی اجازت دینا اور ایک ”اجتماعی قاتلہ“ کو نفرت انگیز خطاب کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا بنگلادیشی عوام اور حکومت کی کھلی توہین کے مترادف ہے۔