معاشی استحکام

وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال نے کہا ہے : پاکستانی معیشت میں استحکام آگیا ہے ،نادہندگی کے خطرے سے نکل گئے ہیں۔ انھوں نے 2026ء کو ترقی کا سال قرار دیا ہے۔ مستحکم معیشت سے مراد ایسی معیشت ہے جومضبوط بنیادوں پر قائم ہو، اتار چڑھاؤ کم ہو اور طویل مدتی پائیدار ترقی ممکن ہو۔یعنی معیشت انتہائی افراطِ زَر، بھاری کساد بازاری اور شدید مالیاتی بحران کے بغیر تسلسل کے ساتھ چلتی رہے۔اشیائے صَرف کی قیمتیں مستحکم ہوں،مفادِ عامّہ کی ضروریات یعنی پٹرول، ڈیزل، پانی، بجلی اور گیس وغیرہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں ہوں۔ شہریوں کو معاشی تحفظ، روزگار اوربہتر معیارِ زندگی دستیاب ہو۔کرنسی کی قدراورادائیگیوں کا توازن مستحکم ہواور اتار اور چڑھائو کا شکار نہ ہو۔بین الاقوامی ادائیگیوں کا توازن قائم رہے اورملکی برآمدات اتنی ہوں کہ درآمدات کے واجبات کی بروقت ادائیگی ممکن ہو۔ حکومت کا بجٹ خسارہ قابو میں ہو ، داخلی اور خارجی قرض حد کے اندر رہیں، مقامی اور غیرملکی سرمایہ داروں کا اعتماد قائم ہو۔ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو، ملک کے اندر امن وامان ہو۔ بے امنی اور فساد نہ ہو۔ مجموعی داخلی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ آبادی میں اضافے کے تناسب سے کافی بڑھ کر ہو ۔ داخلی قومی پیداوار سے مراد وہ آمدنی ہے جو زرعی پیداوار (اجناس، پھل ، سبزیوں وغیرہ) ،صنعتی پیداوار ،برسرِزمین اورزمین و سمندر کے نیچے معدنیات ، جنگلات اور حیوانات وغیرہ سے حاصل ہو۔

جب ہم اس معیار پر دیکھتے ہیں تو معاشی استحکام کا دعویٰ مشتبہ نظر آتا ہے، کیونکہ افراطِ زَر بڑھ رہا ہے ، بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ درآمدات کے واجبات برآمدات کے مقابلے میں بڑھ جانے کے سبب توازنِ ادائیگی متاثر ہورہا ہے۔ کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ بھی بڑھتا رہتا ہے۔ مہنگائی کے تناسب سے اجرتوں میں اضافہ نہیں ہورہا ۔عوام کی قوتِ خرید میں کمی کے سبب کساد بازاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ مجموعی قومی محصولات ناکافی ہیں۔ صوبوں کا حصہ نکالنے کے بعد وفاق کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں رہتے کہ دفاع ، داخلی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور وفاقی حکومت کے اخراجات پورے ہوسکیں، اس لیے وفاق پر واجب الادا قرضوں کا تناسب بڑھتا چلا جارہا ہے اوروہ مزید قرضے لینے پر مجبور ہے ۔اس لیے اس کو استحکام سے تعبیر کرنا غیرحقیقت پسندانہ ہے ۔ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ قرضوں کی معیشت سے نکلنے کے دو ہی طریقے ہیں:ایک اخراجات کی حد کو آمدنی کے مطابق رکھنا یعنی چادر کے مطابق پائوں پھیلانا اور دوسرا طریقہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے آمدنی کے ذرائع بڑھانا۔

یہ امر بھی مشتبہ ہے کہ عوام سے جو مختلف ذرائع سے ٹیکس کی جبری وصولی ہوتی ہے،یعنی ہوٹلوں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹوروں کے بِل ، ائیرلائنز کے ٹکٹ ، موبائل کمپنیوں اوریوٹیلیٹی بلوں میں جوٹیکس کی کٹوتی ہوتی ہے،سننے میں آیاہے کہ وہ پوری رقم ایف بی آر کے اکائونٹ میںجمع نہیں ہوتی، بلکہ مُک مکا ہوجاتا ہے اور وصول شدہ ٹیکسوں کامحض ایک حصہ سرکاری خزانے میں جاتا ہے۔ ہمارے حکومتی ذمے داران بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے حالات سازگار ہیں، لیکن جب بیرونی سرمایہ کار دیکھتے ہیں کہ پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال کر دبئی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں تو وہ کیسے مائل ہوں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025-26ء میں اسٹاک ایکسچینج میں غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی کا رجحان ہے۔

معیشت کے استحکام اور مائل بہ ترقی ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ حکومت عوام کے لیے فیض رساں ہو، عوام کے مالی وسائل اور اُن کی قوتِ خریدمیں معتد بہ اضافہ ہو، بازاروں میں معیشت متحرک نظر آئے ، خرید وفروخت کا چلن عام ہو، عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے ، لیکن ہمیں عملاً یہ صورتِ حال نظر نہیں آتی۔ عوام کے ساتھ ایک ستم ظریفی یہ بھی کی گئی ہے کہ اس عرصے میں چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی سمیت وفاقی و صوبائی وزرا اور ارکانِ پارلیمان کے مشاہروں اور مراعات میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کے عالی مرتبت جج صاحبان کے مشاہروں و مراعات اور پینشن میں انتہائی غیرمعمولی اضافہ کیا گیا ہے اور ان مقتدر شخصیات نے اُسے قبول کرنے میں ذرا بھی تردّد نہیں کیا۔ تو یہ بھی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ موجودہ حکومت کے دو سال مکمل ہونے والے ہیں اور ابھی تک عوام کو تسلیاں دی جارہی ہیں کہ مستقبل تابناک ہے ، مگر عوام کے حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہورہی۔ ماضی میں حبیب جالب نے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کہا تھا
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط، وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے، حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب، امیروں کے
ہربلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہلِ وفا کی صورتِ حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی، خلافِ عوام
مشورے ہیں وہی، مشیروں کے
بیڑیاں سامراج کی ہیں، وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے

معاشی استحکام کا ایک بنیادی عنصر سیاسی استحکام اورداخلی وخارجی امن وسلامتی ہے ۔ اس موضوع پر کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، سب کچھ دیوار پہ لکھا ہے ،بس اسے پڑھنے کے لیے عقلِ سلیم اور دیدۂ بینا چاہیے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے دفاعی اور سلامتی کے اداروں کے جوان اور افسران مثالی قربانیاں دے رہے ہیں ، جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں ،لیکن ان کی قربانیوں کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے ایک یکسو اور متحدہ قومی عزم کی ضرورت ہے جو بدقسمتی سے ناپید ہے اور بلوچستان میں حالیہ جھٹکا اہلِ نظر کے چودہ طبق روشن کردیتا ہے۔ اس کا سبق یہ ہے کہ ملک کی سلامتی کو سیاسی وابستگیوں پر ترجیحِ اوّل ملنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ ملک قائم ہے تو سب کے مناصب بھی ہیں، پہچان بھی ہے اوروقارواعتبار بھی ہے، ورنہ کشمیر ، فلسطین ،عراق،یمن ،لبنان، شام، سوڈان، وینزویلا اور صومالیہ وغیرہ کے حالات سب کے سامنے ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا : وفاق سے لے کر صوبوں تک کرپشن کا عفریت پورے ملک کے لیے ایک مسئلہ ہے ۔وزیرِ دفاع کا یہ بیان بھی چشم کشا ہے کہ بلوچستان کی محرومی کا بیانیہ گمراہ کرنے کے لیے ہے۔ انھوں نے بلوچستان کو وفاق کی جانب سے دی ہوئی رقوم کے اعداد وشمار پیش کیے ، مگر برسرِ زمین ان کے اثرات نظر نہیں آرہے ۔ سردار وسائل کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور ملک کے اندر اور ملک سے باہر اپنے عشرت کدے اور کاروباری مراکز قائم کیے ہوئے ہیں ، مگر داخلی امن و سلامتی کے حق میں اور دہشت گردوں کے خلاف وہ کوئی واضح موقف اختیار کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ خواجہ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ علیحدگی پسندوں، جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلروں کا باقاعدہ گٹھ جوڑ ہے اور ان سب کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کا وسیع رقبہ، معدنی وسائل اور بندرگاہیں بھی پاکستان دشمن عالمی قوتوں کی کشش کا باعث ہیں۔ بظاہر معاشی ترقی کے امکانات روشن نظر آتے ہیں، لیکن داخلی وخارجی امن وسلامتی کے بغیر ان وسائل اور امکانات سے فائدہ اٹھاناعملاً ممکن نہیں ہے۔ ہماری رائے میں خواجہ آصف کا بیان محض اُن کی ذاتی سوچ نہیں ہے بلکہ ادارے کا پیغام ہے۔ثاقب عظیم آبادی نے کہا ہے: ”اے روشنی طبع تو بر من بلا شدی”، یعنی بلوچستان کی ترقی کے وسیع امکانات ہی اس ساری شورش کا سبب ہیں۔

اس پس منظر میں جب نوجوانوں کو یہ خواب دکھائے جائیں گے کہ جنت ارضی اُن کی منتظر ہے ، قومی عصبیت کو بھی ابھارا جائے گاتو اُن کا بہکانا اور بھٹکانا آسان ہوجاتا ہے اور بلوچستان اسی صورتِ حال سے دوچار ہے ۔ایسی تحریکات کے قائدین تو اُن قوتوں کے سرمائے سے فیض یاب ہوتے ہیں جو انھیں استعمال کرتی ہیں، لیکن نچلی سطح کے لوگ بعض اوقات اُن کے موقف کو درست سمجھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ان سے جڑ جاتے ہیں اور ہر قربانی کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ اس کا توڑ حکمت و دانش ہی سے کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں بلوچستان کے اسکولوں کے بعض اساتذہ نے بتایا کہ ہمارے لیے اُردو، اسلامیات اور مطالعۂ پاکستان پڑھانا بھی دشوار ہے، کیونکہ تخریبی ذہن اس کی مزاحمت کرتے ہیں اور پاکستانی سوچ کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔