سانحہ گل پلازہ کی انکوائری میں چونکا دینے والے حقائق سامنے آ گئے ہیں۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو میزنائن، فرسٹ اور سیکنڈ فلور کی سی سی ٹی وی ویڈیوز دستیاب نہ ہو سکیں، تاہم انکوائری کمیٹی نے آگ لگنے کے ابتدائی 20 منٹ کی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں، جنہیں مقدمے اور تفتیش کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ، ملکی تاریخ میں پہلی بار جاں بحق 12افراد کی باقیات کی شناخت جدید طریقے سے کرلی گئی
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ رات ساڑھے دس بجے لگی، لیکن اس کے باوجود دکانیں کم از کم آدھے گھنٹے تک کھلی رہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں گیارہ بجے تک دکانداروں اور گاہکوں کو پلازہ کے اندر موجود دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر شہریوں کو نکالنے کے بجائے پانی کا چھڑکاؤ شروع کر دیا۔ اس دوران بیشتر افراد پلازہ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم 25 سے 30 افراد دبئی کراکری شاپ میں موجود رہے۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ دبئی کراکری شاپ کے دکانداروں نے وہاں موجود افراد کو باہر نکلنے سے روکا اور انہیں یہ کہہ کر مطمئن کیا کہ آگ بجھ جائے گی اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔
ریسکیو میں مدد کرنے والے ایک دکاندار کے مطابق اس نے تقریباً 150 گاہکوں کو محفوظ راستہ دکھایا، لیکن دبئی کراکری شاپ میں موجود افراد کو جانے کی اجازت نہ دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق انہی 30 کے قریب افراد کی باقیات بعد ازاں دبئی کراکری شاپ سے برآمد ہوئیں، جو سانحے کی سنگینی اور غفلت کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔

