اسرائیلی ہٹ دھرمی ،رفح بارڈرسوا دو سال بعدجزوی بحال

اسلام آباد/غزہ/استنبول:رفح کراسنگ کواتوار کے روزسوا دوسال بعددونوں اطراف سے آزمائشی طور پر کھول دیا گیا۔ یہ اقدام مصر اور یورپی یونین کے نمائندوں کی نگرانی اور قابض اسرائیلی فوج کے رابطہ کار کی شرکت کے ساتھ عمل میں لایا گیا ہے۔

یہ پیش رفت سیز فائر کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی منتقلی اور غزہ کے لیے پیش کردہ امریکی منصوبے کے انتظامات کا حصہ ہے۔ مصری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی سیکورٹی اداروں کے اہلکار علی الصبح العریش شہر پہنچے۔

اسی تناظر میں قابض اسرائیل کے نشریاتی ادارے نے ذکر کیا ہے کہ قابض حکام اگلے چند دنوں میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ارکان کو رفح کراسنگ کے ذریعے قطاع غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے۔

قابض اسرائیل کے میڈیا کے مطابق غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار محدود پیمانے پر آپریشن کے تحت یہ گزرگاہ کھولی گئی ہے۔ مصری حکام نے قابض اسرائیلی فریق کو پہلے مرحلے کے مسافروں کی فہرستیں فراہم کر دی ہیں تاکہ ان کی سیکورٹی جانچ کی جا سکے۔

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ پہلا دن تکنیکی اور لاجسٹک تیاریوں کے لیے مختص کیا گیا ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی کے وفد کی آمد اور آزمائشی طور پر چند زخمیوں کو گزرگاہ سے منتقل کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ روزانہ کتنے فلسطینیوں کو جانے یا واپس آنے کی اجازت ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر صرف ان افراد کو گزرنے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا ہے جن کے جانے پر قابض اسرائیلی حکام کو کوئی اعتراض نہ ہو کیونکہ سیکورٹی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔ تاہم اس مرحلے میں یہ سہولت صرف مقامی باشندوں تک محدود ہوگی اور غیر ملکی صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

توقع ہے کہ باقاعدہ سفر کا آغاز پیر سے ہوگا جس میں روزانہ تقریباً 150 افراد باہر جا سکیں گے جبکہ 50 افراد کی واپسی ممکن ہوگی۔ گزرگاہ کی ابتدائی گنجائش روزانہ 200 مسافروں تک رکھی گئی ہے اور اندازہ ہے کہ جانے والوں کی تعداد واپس آنے والوں سے زیادہ ہوگی۔

دریں اثناء رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں حماس کا کہنا ہے کہ کراسنگ کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے آغاز پر کھولا جانا چاہیے تھا۔ اسرائیل نے اس پورے عرصے میں کراسنگ کو کھولنے میں تاخیر کی اور من مانی طور پر اس کے افتتاح کو پٹی میں آخری اسرائیلی اسیر کی لاش کے حوالے کرنے سے منسلک کیا۔

غزہ میں ہمارے لوگوں کو مکمل آزادی کے ساتھ داخل ہونے اور باہر نکلنے کا حق ہے۔ اس حق کی تمام بین الاقوامی قوانین کی ضمانت دی گئی ہے۔
غزہ کی پٹی سے آنے اور جانے والے مسافروں پر اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ کسی بھی رکاوٹ یا شرائط کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور لوگوں کے اپنے آبائی علاقوں میں داخل ہونے اور جانے کی آزادی سے متعلق تمام قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

ہم ثالثوں اور ضامن ریاستوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کراسنگ پر اسرائیل کے رویے کی نگرانی جاری رکھیں۔

ادھرپاکستان،مصر،اردن،متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ،سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں اور ایسے کسی بھی عمل سے گریز کریں جو موجودہ عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

اتوار کو وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔

بیان میں اسرائیل کے ان اقدامات کو کشیدگی میں اضافے کا باعث قرار دیا گیااور کہا گیا کہ ان سے امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ علاقائی اور بین الاقوامی فریقین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کیلئے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ ان کے نزدیک جنگ بندی کی یہ مسلسل خلاف ورزیاں سیاسی عمل کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور غزہ پٹی میں سیکورٹی اور انسانی صورتحال کے اعتبار سے ایک زیادہ مستحکم مرحلے کی جانب منتقلی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی جاری کوششوں میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل عزم کی ضرورت پر زور دیا۔وزرائے خارجہ نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ اس نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھائیں، انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں اور ایسے کسی بھی عمل سے گریز کریں جو موجودہ عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔