امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام کا حق اور مطالبات نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شہر کی موجودہ صورتحال پر طویل جدوجہد کا عندیہ دیتے ہوئے 14فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان کردیا۔
جینے دو کراچی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گل پلازہ سانحے کے بعد عوامی قیادت کی غیر موجودگی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری موقع پر نہیں آئے اور متاثرہ لوگوں کے دکھوں اور غموں کا مداوا نہیں کیا گیا، جس سے شہریوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ شہر کے عوام نے قیادت کے رویے کو بے حسی قرار دے دیا ہے اور گل پلازہ کے متاثرین آج بھی دلاسے اور توجہ کے منتظر ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ کراچی ملک کی 54فیصد ایکسپورٹس فراہم کرتا ہے مگر شہر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پر بھی تنقید کی کہ سانحات میں جلتے ہوئے شہریوں سے اظہار ہمدردی کے لیے وہ کراچی نہیں پہنچے، جبکہ بچوں، ماؤں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کا حق تھا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ شہر کو نہ صوبائی قبضہ قبول ہے نہ وفاقی، کراچی کو اپنی بااختیار حکومت چاہیے۔ آئین مقامی حکومتوں کو اختیارات دیتا ہے مگر اختیارات چھینے جا رہے ہیں اور ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کے ذریعے وسائل پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں بااختیار اور خودمختار شہری حکومت کا نظام دیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ لوکل لیول پر اختیارات منتقل نہ ہونا عوام کے ساتھ تماشا ہے، جبکہ ٹاؤن اور یوسی چیئرمین منتخب ہونے کے باوجود پانی، سیوریج اور کچرے کے اختیارات نہیں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے نظام پر قبضہ کر رکھا ہے اور ایک بھٹو خاندان اور چند وڈیرے پورے سندھ کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ ہاریوں، غریبوں اور شہریوں کے حقوق ایک ساتھ سلب کیے جا رہے ہیں اور یہ قبضے کا نظام اب ختم کرنا پڑے گا۔
انہوں نے شاہراہ فیصل سے تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ یہ جدوجہد اپنی ذات یا جماعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے لیے اختیار حاصل کرنے کے لیے ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ کراچی کو 15ہزار بسوں کی ضرورت ہے مگر موجودہ چند سو بسیں صرف دکھاوا ہیں۔

