اسلامی نظامِ سیاست کے خط وخال عصری تناظر میں

دوسری قسط:
اس بنیاد پر میں اگلی بات کرتا ہوں۔ ماضی کے اللہ رب العزت نے جن اچھے حکمرانوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک تاریخ قرآن پاک نے ماضی کی بیان بھی کی ہے۔ مثلاً تورات، انجیل، زبور، قرآن پاک۔ ”ولقد جاء ھم من ربھم الھدیٰ” کے سب سے بڑے مظاہر چار ہیں: تورات ہے، انجیل ہے، زبور ہے، قرآن پاک ہے۔ اللہ رب العزت نے ان کا ذکر کیا۔ یہ اللہ کے احکام، اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحی ، یہ حکم کے لیے تھی۔ ”انا انزلنا التوراة فیھا ھدیً و نور یحکم بھا النبیون” (المائدہ) تورات صرف پڑھنے کی کتاب نہیں تھی، قانون کی کتاب بھی تھی۔ تورات کا ذکر کیا کہ تورات کیا ہے۔ ”یحکم بھا النبیون”۔ انبیاء کرام حکومت کرتے تھے، فیصلے کرتے تھے، بنیاد کیا ہوتی تھی؟ تورات۔ جہاں زبور کا ذکر کیا، زبور نازل ہوئی حضرت داؤد علیہ السلام پر۔ ”یا داود انا جعلناک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق” (ص)۔ زبور کی بنیاد بھی کیا ہے؟ حکومت، قانون۔ انجیل نازل کی، انجیل کا کیا ایجنڈا بیان کیا؟ ”والیحکم اھل الانجیل بمآ انزل اللہ فیہ”۔ تورات کا ایجنڈا بھی حکومت تھا، زبور کا ایجنڈا بھی حکومت تھا، انجیل کا ایجنڈا بھی حکومت تھا۔ یہ تینوں بیان کر کے پھر فرمایا ”انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ” (النسائ) قرآن پاک کا ایجنڈا بھی یہی ہے۔

یہ ہے ھدًی۔ پہلے وحی آتی رہی، پھر کتاب آئی۔ کتاب ایک، دو، تین، پھر صحفِ ابراہیم و موسیٰ، بہت سارے ہیں۔ لیکن میں نے یہ عرض کیا کہ اسلام کا نظامِ اجتماعیت، سیاسی نظام کہہ لیں، کوئی کہہ لیں، اس کی بنیاد وحی الٰہی ہے۔ اسی لیے جب ہم حکومت کی تشکیل کی بات کرتے ہیں، نظام کی بات کرتے ہیں، تو ایک بنیادی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ فائنل اتھارٹی کون ہے؟ سارے سسٹم میں فائنل اتھارٹی کون ہے؟ حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ آج کے نظاموں میں ”حاکمیتِ اعلیٰ” جمہور کی ہے۔ جس کو وہ آخری اتھارٹی، پارلیمنٹ جو فیصلہ کر دے، بذریعہ نمائندے۔ اصل حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ عوام کی۔ بذریعہ کس کے؟ نمائندوں کے۔ عوام جو فیصلہ کر دیں، جو چاہتے ہیں ٹھیک ہے۔ عوام ایک بات کو صحیح سمجھتے ہیں، وہ صحیح ہے۔ غلط سمجھتے ہیں، غلط ہے۔ جائز سمجھتے ہیں، جائز ہے۔ ناجائز سمجھتے ہیں، ناجائز ہے۔ ذریعہ الیکشن ہے۔ تو یہ حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ جمہوریت کا معنی کیا ہے؟ عوام کی حکومت، عوام پر حکومت، عوام کے ذریعے حکومت۔ ہمارے ہاں نہیں ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کی ہے۔ ہدایات اس کی ہیں۔ ”اما یاتینکم منی ھدًی”۔ اللہ کہہ رہا ہے ایجنڈا میں دوں گا، تم اپنی مرضی نہیں کرو گے۔ تو اسلام کے نظامِ حکومت اور نظامِ سیاست کی بنیاد کس پر ہے؟ اللہ کی حاکمیت پر۔ عوام کی حاکمیت نہیں۔ یہ ہماری بنیاد ہے۔

اس وقت ہمارے ہاں تین نظام عام ہیں، چار نظام سمجھ لیں۔ ایک تو بادشاہت ہے۔ بادشاہت، طاقتور خاندان جس نے قبضہ کر لیا ہے وہ بادشاہ ہے اور اس کی حکومت ہے۔ اس میں نہ ووٹ، نہ وحی، نہ کچھ نہ کچھ۔ طاقتور نے قبضہ کر لیا، جو انہوں نے چاہا، صحیح چاہا ہے تو صحیح ہے، غلط چاہا ہے تو غلط، لیکن جو انہوں نے چاہا ہے۔ بادشاہ کی صوابدید کا نام قانون ہے۔ ہم نے بھی ہزار سال کی ہے۔ یہ مغل بادشاہت تھی۔ ہزار بارہ سو سال ہم نے بھی کی ہے۔ یہ الگ بات ہے ہم چونکہ مسلمان تھے، ہم ترجیح اسلام کو دیتے تھے، لیکن بہرحال فیصلے کی اتھارٹی تو بادشاہ ہے۔ دوسرا پارلیمنٹ۔ ہمارے ہاں عالمِ اسلام میں تین نظام ہیں معروضی صورتحال میں۔ ایک تو بادشاہت ہے۔ سعودی عرب میں بادشاہت ہے۔ شاہی خاندان۔ امرِ مَلکی۔ وہاں آخری درجہ کیا ہے؟ امرِ مَلکی۔ بادشاہ کا حکم ہے جناب۔ بس خلاص، ہر چیز ختم۔ وہاں سب سے فائنل چیز کیا ہے؟ امرِ ملکی، بادشاہ کا آرڈر ہے جی، ٹھیک ہے۔ اور بادشاہ کون ہو گا؟ ابا جی، یا بیٹا جی، یا بھائی جان، یا بھتیجا جی۔ ایک خاندان کے افراد بادشاہ چلے آ رہے ہیں۔ سو سال سے وہی چلا آ رہا ہے۔

پاکستان میں ہمیں کیا درپیش آئی صورتحال جب پاکستان بنا۔ ہمارا ہزار بارہ سو سال کا دور تو بادشاہت کا ہے۔ طاقت ہمارے پاس تھی۔ مغلوں کے پاس تھی، تغلق کے پاس تھی، ایبک کے پاس تھی، محمود غزنوی کے پاس تھی۔ طاقت ہمارے پاس تھی، ہم نے ہزار بارہ سو سال نے حکومت کی ہے۔ پاکستان جب بنا تو ہمیں ایک عجیب مسئلہ پیش آگیا کہ پاکستان کا نظامِ حکومت کیا ہو گا۔ میں اسے پاکستان کے جمہور علماء کے اجتہادی فیصلوں میں شمار کیا کرتا ہوں۔ دو بنیادی فیصلے ہم نے کیے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے اہلِ علم کو دو مسئلے بڑے سنگین پیش آ گئے تھے:

(١) ایک یہ کہ اگر تو سعودیہ کی طرح بادشاہت کرنی ہے تو پھر قائد اعظم کا خاندان موجود ہے۔ ایک آپشن یہ تھا۔ نیا ملک تھا۔ بادشاہت ہے تو بادشاہت کس کی ہو گی پھر؟ قائد اعظم کی۔ ان کی بہن بھی تھی اور خاندان بھی تھا۔ اچھا، اگر جمہوریت کرنی ہے تو پھر پاکستان بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ پاکستان کے سیاسی نظام اجتماعی نظام کی بنیاد کیا ہو گی، اس پر دو تین سال بحث ہوتی رہی کہ کیا کرنا ہے۔ متعارف نظام دو ہیں: یا بادشاہت، یا جمہوریت۔ وہ بھی شریعت اجازت نہیں دیتی، یہ بھی نہیں دیتی۔ تو ہم نے پھر ایک درمیانہ راستہ نکالا۔ یہ پاکستان کے علمائے کرام کا، تمام مکاتبِ فکر کے، یہ اللہ کی مہربانی ہوئی کہ ہم پہ سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ ان کا اسلام الگ الگ ہے، لیکن علماء نے، سب نے، جو بھی تھے، مل کر اسلام ایک ہے ہمارا۔ تین بنیادیں طے کیں ہم نے۔ یہ جمہور علمائے پاکستان کا پہلا اجتماعی اجتہادی فیصلہ تھا۔ تین بنیادیں طے کیں:

ہمارے دستور میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ ،حاکمیتِ مطلقہ کس کی ہے؟ اللہ کی۔ اس کے بعد حکومت کا حق کس کو ہے؟ یہاں ہم نے ایک قدم بڑھایا کہ حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے۔ یہ دوسرا اصول ہے۔ تیسرا اصول یہ طے ہوا کہ حکمران قرآن و سنت کے پابند ہوں گے۔ اس کو کہتے ہیں ”قراردادِ مقاصد”۔ تین اصول ہیں: حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ حقِ حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے۔ اور ریاست، حکومت اور پارلیمنٹ پابند ہیں قرآن و سنت کے۔ یہ ہمارے ہاں ترتیب اختیار کی گئی۔ تمام مسائل کا اجتماعی حل نکالا گیا۔ اور قراردادِ مقاصد کی بنیاد پر پاکستان ایک اسلامی ریاست دستوری طور پہ کہلاتا ہے اور دستور کی حد تک ہے بھی۔ عملاً ہم جو بھی ہیں۔ دستوری بنیادیں تینوں ٹھیک ہیں اور عملاً؟ میں اس کو تعبیر کیا کرتا ہوں کہ ایک آدمی کلمہ پڑھ لے، بس کلمہ پڑھ لیا ہے، پڑھتا رہتا ہے، باقی سب کچھ اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ ہم وہ مسلمان ہیں۔ جب تک قراردادِ مقاصد دستور کی بنیاد ہے، ہم ایک اسلامی ریاست تو اصولاً ہیں۔ کلمہ پڑھا ہوا ہے ہم نے اور اب بھی پڑھتے رہتے ہیں لیکن عملاً جو کچھ بھی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ایک فیصلہ ہم نے یہ کیا۔ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائ، کسی کو پیچھے نہیں رہنے دیا۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ، جماعت اسلامی، سب کا متفقہ فیصلہ یہ تین بنیادیں ہیں اور یہ دستور کی بنیاد بھی ہے۔(جاری ہے)