امریکا اسرائیل میں اربوں ڈالراسلحے کی ڈیل طے،غزہ میں مزید31شہید

غزہ/ واشنگٹن/تل ابیب/قاہرہ/پریٹوریا:غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں،ہفتے کو ہونے والے حملوں میں6بچوں سمیت 31فلسطینی شہید ہوگئے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کیے جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنمائوں کو نشانہ بنایا،اس کے علاوہ اسلحے کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایاگیا۔

تاہم ان دعوئوں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے بے بنیاد اور کھوکھلے دعوے امن معاہدے کے ثالثوں،اسرائیل کے ضامنوں او ر پیس کونسل میں شامل تمام فریقین کی توہین ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے بعد سے430مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں یلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے،200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا۔

دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر کے فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دیدی۔محکمہ دفاع کے مطابق امریکا کی جانب سے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان فراہم کیا جائے گا۔

امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے فوجی سازوسامان میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹر اور 1.98 ارب ڈالرکی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔اسرائیل کو نیمرآرمڈ پرسنل کیریئر کے پاور پیکس اور لاجسٹک سپورٹ سمیت دیگر فوجی سازوسامان بھی فراہم کیا جائے گا۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ فروخت اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کی سیکورٹی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی، خاص طور پر اسرائیل کو زمینی افواج کی نقل و حرکت اور آپریشنل استعداد بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

دریں اثناء ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے جب دنیا بھر کے مسلمان اس مقدس مہینے کو اطاعت، عبادت اور خوشیوں کے موسم کے طور پر منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں عین اسی وقت مقبوضہ بیت المقدس میں غاصب صہیونی ریاست کے فوجی اقدامات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ان اقدامات کے باعث القدس گورنری کو ایک کھلی سیکورٹی چھائونی میں تبدیل کیے جانے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کی بھاری نفری کی تعیناتی،رکاوٹوں اور ناکوں کی سختی اور فلسطینی و نمازیوں پر زمین تنگ کرنے کے یہ مناظر محض عارضی سیکورٹی اقدامات نہیں ہیں۔

القدس کے محققین اور مقامی حلقے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ ایک منظم پالیسی ہے جس کا مقصد القدس کو عسکری رنگ دے کر زمین پر نئے حقائق مسلط کرنا اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے جاری سلسلے کو مزید وسعت دینا ہے۔

اس رپورٹ میں ہم قابض اسرائیل کی اس جارحانہ مہم کے خدوخال، اس کے سیاسی و سیکورٹی پہلوئوں اور القدس کے باسیوں کی زندگیوں اور ماہِ رمضان پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں گے۔انسدادِ یہود کاری اتھارٹی کے سربراہ ناصر الہدمی نے کہاکہ قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ چند دنوں کے دوران مقبوضہ القدس میں غیر معمولی فوجی اور سیکورٹی اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔

یہ اقدامات شہر کو ایک کھلی چھائونی میں تبدیل کرنے کی اس منظم پالیسی کا حصہ ہیں جو ماہِ رمضان المبارک کی تیاریوں کے نام پر کی جا رہی ہے۔ناصر الہدمی نے مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ان اقدامات میں القدس کے محلوں، بالخصوص مسجدِ اقصی اور پرانے شہر کے گرد و نواح میں قابض اسرائیل کی خصوصی فورسز اور بارڈر پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی شامل ہے۔

اس کے علاوہ جگہ جگہ عارضی اور مستقل فوجی ناکے لگا دیے گئے ہیں جو فلسطینیوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور انہیں اپنی عبادت گاہوں تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔

علاوہ ازیںاسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو (آج)اتوار یکم فروری کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن جزوی طور پر اور دونوں طرف سے ہوگا جو صرف لوگوں کی محدود نقل و حرکت کے لیے ہوگا اور یہ جنگ بندی کے معاہدے اور سیاسی سطح کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ مصر کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے رہائشیوں کو رفح کراسنگ سے نکلنے اور داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اسرائیل کی طرف سے رہائشیوں کے لیے پیشگی سیکورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد اور یورپی یونین کے مشن کی نگرانی میں آمد و رفت ہوگی ۔

بالکل اسی طریقہ کار کی طرح جو جنوری 2025ء میں لاگو کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ مصر سے غزہ کی پٹی میں رہائشیوں کی واپسی صرف مصری ہم آہنگی کے ساتھ ان لوگوں کے لیے ممکن ہوگی جنہوں نے جنگ کے دوران غزہ چھوڑا تھا اور یہ بھی اسرائیل سے پہلے سے سیکورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد ہوگا۔

مزید برآں رفح کراسنگ پر شناخت اور ابتدائی جانچ کے طریقہ کار یورپی یونین کے مشن کی جانب سے انجام دیے جائیں گے۔ اس راہداری پر اضافی جانچ اور شناخت کا عمل اسرائیلی فوج کے کنٹرول والے علاقے میں سیکورٹی سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا۔

ادھرمقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں ہفتے کو صہیونی ریاست کے زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کی نصرت کے عالمی دن کے موقع پرفلسطینی اسیران کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔

نابلس، الخلیل اور طولکرم میں اسیران کے اہل خانہ کی ایک بڑی تعداد نے ان یکجہتی مظاہروں میں شرکت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حرکت میں آئے اور قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی جانیں بچائے۔

قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ رات اور ہفتے کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں جس کے دوران متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاریوں کی اس تازہ مہم کا مرکز بنیادی طور پر قلقیلیہ کا علاقہ رہا۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے متفرق حصوں میں کارروائیوں کے دوران 18 شہریوں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

جنین گورنری میں قابض افواج نے جبل ابو ظہیر کے علاقے پر دھاوا بول کر نوجوان لڑکی منار فایق مسمار کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا جبکہ اسی شہر سے ایک نوجوان ابراہیم ابو الشامی کو بھی حراست میں لیا گیا۔قلقیلیہ گورنری میں قابض دشمن نے قلقیلی کے مشرق میں واقع قصبے عزون پر دھاوا بولا اور متعدد شہریوں کو گرفتار کیا۔

گرفتار کئے جانے اوالوں میں موسیٰ اللبدہ، عماد موسیٰ اللبدہ، احمد حسین ابو نضال، عصام رشید رضوان، حذیف حسام رضوان،سمیر شبیطہ،محمد فواز شبیطہ،یاسین عماد شبیطہ،مہدی العابد،مالک شبیطہ ابو زعل اور زیاد عماد علامہ شامل ہیں۔

علاوہ ازیں قابض اسرائیلی دستوں نے نابلس کے جنوب میں واقع گائوں مادما پر دھاوا بولا اور عام شہریوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور مکینوں کو ہراساں کیا۔قابض دشمن کی یہ جارحانہ مہم طولکرم کے مشرق میں واقع نور شمس مخیم کے محلہ المحجر تک بھی جا پہنچی جہاں قابض فوجیوں نے بلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ کی اور خوف و ہراس پھیلایا۔

شہر اریحا میں قابض افواج نے شارع القدس اور عقبہ جبر مخیم کے سامنے واقع بلدیہ ہائوسنگ اسکیم پر دھاوا بولا۔جنین میں قابض افواج نے ابن سینا ہسپتال کے گرد و نواح کا محاصرہ کیا اور ایک نوجوان کو اس کے گھر کے محاصرے کے بعد گرفتار کر لیا۔

رام اللہ میں قابض افواج نے شہر کے شمال میں واقع قصبوں کفر عین اور بیت ریما جبکہ مغرب میں واقع قصبے کفر نعم پر دھاوا بولا۔طوباس شہر میں قابض اسرائیلی فوج نے تیاسیر اور طمون کے قصبوں میں کارروائی کی اور محلہ الحدیقہ میں فلسطینی شہریوں کے گھروں میں تلاشی کے نام پر غارت گری مچائی۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ نے اسرائیلی سفارتکار کو 72 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔ جنوبی افریقی وزارت خارجہ کے مطابق جنوبی افریقہ نے اسرائیلی سفارتخانے کے ناظم الامور ایریل سیڈمین کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی سفارت کار سفارتی آداب کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے وہ جنوب افریقی صدر کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم چلا رہے تھے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل سے آئندہ سفارتی اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔