کراچی:سندھ ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت حکومت سانحہ گل پلازہ کی خود انکوائری کروا سکتی ہے۔ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری کیلئے حکومت سندھ کے خط پر سندھ ہائیکورٹ نے خط کا جواب حکومت سندھ کو ارسال کردیا۔
سندھ ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے جوڈیشل انکوائری کے معیارات طے کردئیے ہیں۔ سابق جج یاقانونی ماہر پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں۔
دریں اثناء سانحہ کی ابتدائی رپورٹ عدالت میں میں جمع کرادی گئی ۔جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق سانحہ کی ایف آئی آر 23 جنوری کو ایس ایچ او نبی بخش کی مدعیت میں درج ہوئی۔مقدمہ زیر دفعہ 337/322 ت پ (1) 427/436/11 کے تحت درج کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رات ساڑھے 10بجے آگ لگنے کی اطلاع ملی۔گل پلازہ پہنچے توشدید آگ لگی ہوئی تھی بھگدڑمچی ہوئی تھی۔آگ تیزی سے پھیل چکی تھی اور بہت سارے لوگ پھنسے ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق آگ سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دھوئیں سے بہت لوگ متاثرہوئے۔آگ رات 10بجکر15منٹ پرگراؤنڈ فلورکی دکان193میں لگی۔نیو توکل فلاوراینڈ گفٹ شاپ میں لگنے والی آگ پورے پلازہ میں پھیل گئی۔آگ لگنے اور جھلسنے سے 71افراد جاں بحق ہوئے۔مرنیوالے20افراد کی شناخت ہوچکی ہے۔ابتدائی رپورٹ میں شناخت ہونیوالے 20 افراد کے نام بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔آگ بجھانے اور ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے مناسب انتظامات نہیں تھے۔وقوعہ کے وقت گل پلازہ کے کئی گیٹ بند تھے۔گل پلازہ میں ایمرجنسی اخراج کے راستے نہیں تھے۔گل پلازہ کی بجلی بند ہونے کے باعث شدید مشکلات سامنے آئیں۔
حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ فائر فائٹرز کے پاس حفاظتی سامان اور مطلوبہ تربیت و مہارت موجود نہیں تھی ۔ غیر محفوظ برقی وائرنگ، ایئر کنڈیشنرز اور کھلے پائپوں نے صورتِ حال کو سنگین بنادیا، فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں نمایاں تاخیر ہوئی، لوگوں کو نکالنے کے لیے لوہے کی راڈز کو کاٹنے کے لیے آلات موجود نہیں تھے،ہجوم کو قابو میں رکھنے اور علاقے کو گھیرے میں لینے سے متعلق پولیس کے اقدامات موثر نہیں تھے۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ عمارت میں موجود خارجی راستے بند تھے یا تجاوزات قائم ہوچکی تھیں۔ سیڑھیوں کی چوڑائی کم کی گئی، دروازوں کی تعداد 18 سے کم کر کے 13 کر دی گئی۔رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ تمام ہائی رسک عمارتوں کا فوری آڈٹ کروایا جائے ، خلاف ورزی پر جرمانے، جزوی بندش یا سیل کرنے کی کارروائی کی جائے۔

