حالیہ عرصے میں کورٹیزول انٹرنیٹ پر گفتگو کا مرکز بن گیا ہے اور سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق ٹرینڈز میں نمایاں طور پر شامل رہا۔گزشتہ چند ہفتوں اور دنوں کے دوران متعدد سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے کورٹیزول کی طویل مدت تک بلند سطح کے مختلف علامات سے خبردار کیا۔
ان کے مطابق ان علامات میں رات تین بجے جاگ جانا، چہرے پر سوجن یا جسے ”کورٹیزول فیس” کہا جاتا ہے اور پیٹ کے گرد چربی کا جمع ہونا شامل ہے۔اس کے ساتھ ہی کئی افراد نے ایسے غذائی نظام اور ورزشیں بھی تجویز کیں۔ جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ہارمون کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
غذائی مکمّلات اور انفلوئنسرز کے مشورے
لیکن کیا واقعی کورٹیزول کو قابو میں رکھنے کے لیے آپ کو انفلوئنسرز کے مشوروں اور غذائی مکمّلات کی ضرورت ہے؟ڈاکٹروں اور ماہرین کے نزدیک یہ معاملہ ایک جعلی ٹرینڈ سے زیادہ کچھ نہیں، بلکہ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے درست ہونے کے امکانات نہایت کم ہیں۔
ماہرین نے اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ کورٹیزول کو فوراً ایک ”برُا ہارمون” سمجھ لینا درست نہیں، جیسا کہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا۔
یہ زندگی کو برقرار رکھتا ہے… اور اس کی حقیقی خرابیاں نایاب ہیں
ماہرین نے وضاحت کی کہ کورٹیزول ایک بنیادی ہارمون ہے ،جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گردوں کے اوپر موجود ایڈرینل غدود سے خارج ہوتا ہے اور ان کئی ہارمونز میں شامل ہے ۔یہ ہارمون سوزش، مدافعتی نظام، میٹابولزم، بلڈ پریشر اور جسم کے کئی دیگر افعال پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق کورٹیزول جسم اور ماحول کی حالت کے لیے نہایت حساس ہوتا ہے۔ یہ صبح بیدار ہونے پر بڑھتا ہے، رات کو سونے سے پہلے کم ہو جاتا ہے اور بیماری یا ذہنی دباؤ کی حالت میں بھی اس کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔
اسی حوالے سے جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرِ غدود ڈاکٹر روبرٹو سالفاتوری کا کہنا ہے:ہمارے جسم میں کورٹیزول کی سطح لمحہ بہ لمحہ منظم ہوتی ہے… یہ بے حد حساس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت کم ہوتا ہے کہ کسی شخص میں صرف کورٹیزول کی وجہ سے کوئی عارضہ پیدا ہو۔ اگر کورٹیزول کی سطح مستقل طور پر کم ہو تو ایڈرینل غدود کی کمزوری کی تشخیص کی جاتی ہے، جن میں ایڈیسن بیماری بھی شامل ہے، جو ایک خودکار مدافعتی مرض ہے۔
کورٹیزول کا ٹیسٹ
جہاں تک کُشنگ سنڈروم کا تعلق ہے، تو یہ کورٹیزول کی حد سے زیادہ بلند سطح کے باعث ہوتا ہے اور عموماً اس کی وجہ ایڈرینل یا پٹیوٹری غدود میں موجود رسولیاں ہوتی ہیں، جو اکثر غیر سرطانی ہوتی ہیں۔ اس کا علاج ادویات سرجری یا دونوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کورٹیزول کا ٹیسٹ کرانے سے پہلے مریض کو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کورٹیزول کے زیادہ یا کم ہونے کی علامات بہت وسیع ہیں اور اکثر دیگر بیماریوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔
ایڈرینل غدود کی کمزوری تھکن بغیر وجہ وزن میں کمی کم بلڈ پریشر اور بھوک کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔جبکہ کُشنگ سنڈروم وزن میں اضافے، ہائی بلڈ پریشر، ہڈیوں کی کمزوری، چہرے اور پیٹ میں چربی کے جمع ہونے، خواتین میں زائد بالوں کی افزائش، نیند کے مسائل اور دیگر علامات کا باعث بن سکتا ہے۔ڈاکٹروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ درست تشخیص کے لیے وقت، متعدد ٹیسٹ اور مریض کی مجموعی صحت کی گہری سمجھ ضروری ہوتی ہے۔
ہیوسٹن سے تعلق رکھنے والی ماہرِ غدد ڈاکٹر کیٹی گوٹنبرگ نے کہا:کورٹیزول کی تشریح میں بہت باریک نکات شامل ہوتے ہیں… اسی لیے مجھے تشویش ہوتی ہے کہ مریض بغیر طبی نگرانی کے خود ہی ٹیسٹ کروانے لگتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ کیا گیا کورٹیزول کا بلڈ ٹیسٹ اکثر لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا، بلکہ غیر ضروری پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
جڑی بوٹیاں (اشواغاندا) اور میگنیشیم
ماہرینِ غدود نے واضح کیا کہ کورٹیزول کے زیادہ یا کم ہونے کے لیے ایسی کوئی ثابت شدہ دوا موجود نہیں جو بغیر نسخے کے فروخت کی جاتی ہو، اگرچہ بعض لوگ اشواغاندا اور میگنیشیم جیسے مکمّلات کو کورٹیزول کم کرنے والا قرار دیتے ہیں۔
ڈاکٹر جیمس فائنڈلنگ نے کہا کہ دائمی طور پر بلند کورٹیزول پر تشویش قابلِ فہم ہے، مگر اس کے علاج کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
انہوں نے غیر منظم مکمّلات کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا:یہ مصنوعات بے ضرر نہیں ہوتیں۔”ان کا کہنا تھا کہ کورٹیزول کو حد سے زیادہ کم کرنا بھی سنگین صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

