جون ایلیا نے کہا تھا کہ
لوگ جوق در جوق چلے جاتے ہیں
نہیں معلوم تہِ خاک تماشا کیا ہے
لوگوں کے دنیا میں آنے اور زندگی کے تماشے میں اپنے حصے کا کھیل کھیلنے کے بعد آنکھیں موند کر تہ خاک چلے جانے کا سلسلہ تو ابتدائے آفرینش سے جاری ہے تاہم حالیہ چند مہینوں کے دوران اللہ کے نیک بندے جس تیزی کے ساتھ یکے بعد دیگرے دنیائے ہست و بود کو خیر باد کہہ کر عالم بالا کوچ کیے جا رہے ہیں، اس کو دیکھ کر تو کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ”نہیں معلوم سرِ افلاک تماشا کیا ہے۔” ایسا لگتا ہے جیسے موتیوں کی مالا ٹوٹ گئی ہے اور اس کا ایک ایک دُرّ فرید بچھڑکر فنا کی وسعتوں میں گم ہوتا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کے دم سے دنیا کی رونقیں قائم ہوتی ہیں، ان کے جانے کے بعد بزم جہاں کا رنگ ہی پھیکا محسوس ہوتا ہے اور اہل نظر یہ کہنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں کہ
دکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
ابھی جھنگ کی شان پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی جدائی کا غم تازہ تھا کہ کربوغہ کے بادشاہ پیر مختار الدین شاہ داغ مفارقت دے گئے۔ سالکین طریقت اس دوہرے صدمے کے اثرات سے نکلے نہیں تھے کہ لاہور کی زینت اور ہمارے انتہائی مہربان بزرگ حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی نے عالم رنگ و بو سے منہ موڑ کر عقیدت مندوں کو رلادیا۔ ابھی آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ بٹگرام میں شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف کی وفات حسرت آیات کی خبر آگئی۔ ابھی ہم صدموں کے اتنے تیر سہنے کے بعد پہلو سہلانے لگے تھے کہ ایک اور گھاؤ سینے پر لگا اور ہمارے انتہائی شفیق استاذ، مربی اور محسن حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب بھی مسافران آخرت کے ہمراہی ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت قاری مفتاح اللہ صاحب ہمارے ان اساتذہ اور بزرگوں میں سے تھے جن کی قابل رشک زندگی کے ہم عینی شاہد ہیں اور جن کے کردار و عمل کی بلندی کی ہم گواہی دے سکتے ہیں۔ ہم نے تیس برس سے زائد کا عرصہ حضرت کے زیر سایہ گزارا اور آپ کی شفقتوں اور مہربانیوں سے فیض یاب رہے۔ کسی بھی فرد بشر کو بشری کمزوریوں سے مبریٰ قرار دینا تو بہرحال مبالغہ ہوگا مگر نوع انسانی میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہوتی جن کی خوبیوں اور کمالات کا پلڑا کمزوریوں اور کوتاہیوں کے پلڑے کے مقابلے میں واضح طور پر جھکا ہوا سب کو دکھائی دیتا ہے اور اسی سے کسی بھی انسان کی عظمت و رفعت کی پیمائش ہوتی ہے۔ حضرت قاری صاحب اگلے زمانے کے اچھے لوگوں اور باعمل مسلمانوں کا ایک زندہ و جاوید نمونہ تھے۔
استاذ محترم 1952ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے گندف سے کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ قاری صاحب نے کھڈہ مارکیٹ کراچی کے مشہور تاریخی دارالعلوم سے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر 1965ء میں درس نظامی کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن (اس وقت کا جامعہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاون) میں داخلہ لیا اور نو سال کے بعد سند فراغت حاصل کی، آپ کا شمار بنوری ٹاون کے ممتاز اور پوزیشن ہولڈر طلبہ میں ہوتا تھا۔ 1976ء میں سہراب گوٹھ میں جامعہ بنوری ٹاون کی پہلی شاخ قائم ہوئی تو آپ کو اس کا نگران اور جامع مسجد گلشن عمر کا امام و خطیب مقرر کیا گیا۔ اگلے برس آپ کو جامعہ بنوی ٹاؤن میں تدریس کی ذمہ داری بھی دی گئی۔ آپ کے استاذ مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی نے خود آپ کی طرف سے درخواست لکھی اور حضرت بنوری سے منظور کروائی۔ حضرت قاری صاحب نے اپنے بزرگوں کے اس اعتماد کو اس خوبی کے ساتھ نبھایا کہ پچاس برس سے زائد عرصے تک تسلسل اور یکسوئی کے ساتھ جامعہ میں تدریس اور جامع مسجد گلشن عمر میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیے اور کیا خوب سرانجام دیے۔ ابھی دو برس قبل جامعہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی کی رحلت کے بعد آپ شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے۔ جامعہ بنوری ٹاون اور اس کی شاخوں کے 400سے زائد اساتذہ میں چند ایک کو چھوڑ کر سب آپ کے شاگرد ہیں۔ آپ کے بالواسطہ شاگردوں کی تعداد بلامبالغہ لاکھوں میں ہے۔
استاذ گرامی حضرت قاری مفتاح اللہ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی ایسی صفات وکمالات سے نوازا تھا جن کی مثال آج کے دور میں کم ہی ملتی ہے۔ استاذ گرامی ایک جید عالم دین، صاحب طرز خطیب، بہترین مدرس اور شیخ الحدیث تھے لیکن آپ کی عرفیت ”قاری صاحب” کے نام سے ہی تھی، اس کی وجہ آپ کا قرآن کے ساتھ گہرا شغف تھا، آپ قرآن مجید کے بہترین قاری بھی تھے، مفسر بھی تھے اور مدرس بھی۔ دور طالب علمی میں بھی جامعہ بنوری ٹاون میں کوئی بھی تقریب ہوتی، ملکی و غیر ملکی مہمان آتے تو ان کے سامنے تلاوت کی سعادت آپ ہی کے حصے میں آتی۔ ہمیں زندگی کی بیشتر نمازیں آپ ہی کے پیچھے پڑھنے کی سعادت حاصل ہے اور سچی بات یہ ہے کہ نماز میں تلاوت کا جو مزہ آپ کی اقتدا میں محسوس ہوتا تھا کہیں اور کم کم ہی محسوس ہوا۔ کبھی کبھی آپ پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تو سماں بندھ جاتا۔ قاری صاحب روزانہ فجر کے بعد قرآن مجید کا درس دیتے اور یہ عمل آپ نے زندگی بھر جاری رکھا۔ بیسیوں مرتبہ ترجمہ و تفسیر قرآن کا ختم کیا۔ جوانی کے دنوں میں شعبان رمضان میں دورہ تفسیر بھی پورے اہتمام کے ساتھ پڑھاتے رہے۔ رمضان میں آپ پورا قرآن کریم خود سناتے تھے۔ رمضان کے علاوہ بھی پورے سال پارہ سنانا آپ کا معمول رہا۔ ہمارے حلقے میں معلوم تھا کہ آپ روزانہ پانچ پاروں کی تلاوت فرماتے ہیں۔ خاندانی ذرائع سے پتا چلا کہ آخری ایام میں اس میں اضافہ ہوگیا تھا اور جب کہیں کوئی مصروفیت نہ ہوتی تو پندرہ پارے دن میں اور پندرہ پارے رات میں پڑھنے تک بھی آپ کا عمل رہا۔ قاری صاحب نے کئی برسوں تک ریڈیو پاکستان میں بھی تلاوت کی۔ دوپہر میں قومی نشریاتی رابطے پر نشریات کا آغاز آپ کی تلاوت اور ترجمے سے ہوتا۔ ابھی چار پانچ سال پہلے ریڈیو پاکستان والوں نے آپ سے مشہور پروگرام ”حی علی الفلاح” میں درس حدیث کا سلسلہ شروع کرنے کی درخواست کی تو استاذ گرامی نے اپنے عوارض کی بنا پر معذرت کی تاہم ازراہ عنایت راقم کو ان کے سامنے پیش کر دیا۔ الحمد للہ قاری صاحب کی نیابت میں یہ سلسلہ جاری ہے۔
حضرت قاری صاحب کو تدریس کا بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ آپ نے شیخ الحدیث کے منصب تک پہنچنے سے قبل فنون کی بیشتر کتابیں پڑھائیں۔ ہم نے قاری صاحب سے شرح جامی، مختصر المعانی اور ہدایہ ثالث پڑھی۔ آپ کا درس نہایت جامع اور مربوط ہوتا۔ آپ کا سبق نہ زیادہ تطویل کا شکار ہوتا نہ بہت زیادہ اختصار کا۔ حسب موقع مثالوں، لطائف، اشعار اور واقعات سے آپ طلبہ کو سبق کے ساتھ حاضر باش رکھتے۔ قاری صاحب میں جلال وجمال کا حسین امتزاج تھا۔ جتنی جلدی ناراض ہوتے اور برا بھلا کہتے، اتنی ہی جلدی راضی ہو جاتے اور طلبہ کی دلجوئی کی کوشش کرتے۔ جس نے بھی آپ سے ڈانٹ یا مار کھائی، اس نے پھر آپ سے چائے ضرور پی۔
قاری صاحب کا خطابت کا اپنا طرز اور انداز تھا۔ آپ کی تقریر میں قرآن مجید، بخاری شریف اور مثنوی مولانا روم کے حوالے سب سے زیادہ ہوتے۔ عربی، فارسی، اردو اور پشتو کے ہزاروں اشعار آپ کے نوک زبان تھے اور آپ جب ترنم کے ساتھ آیات، احادیث اور اشعار پڑھتے تو مجمع سر دھنتا رہ جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ چند سالوں میں دینی مدارس کی سالانہ تقریبات اور ختم بخاری کے لیے لوگ آپ کے پیچھے لگے رہتے۔ ایک ایک دن میں کئی کئی تقریبات میں خطاب کرنا ہوتا۔ قاری صاحب مثنوی مولانا روم کے زبردست شارح بھی تھے۔ مثنوی کے سینکڑوں اشعار آپ کو ازبر تھے اور آپ حسب موقع ان کو مخصوص آہنگ میں پڑھتے اور پھر دل نشیں تشریح فرماتے۔ قاری صاحب کا ایک اور قابل تقلید وصف وقت کی پابندی تھی۔ آپ سبق شروع ہونے کے ٹھیک وقت پر تشریف لاتے اور آخر تک کلاس میں تشریف رکھتے۔ ناغہ کرنے کا تصور نہیں تھا۔ یہی حال نمازوں کا تھا۔ میں نے تیس برس کے عرصے میں کبھی نہیں دیکھا کہ نماز کا وقت ایک منٹ اوپر ہوگیا ہو اور آپ تشریف نہ لائے ہوں۔ عید کی نماز میں بھی آٹھ بجے وقت کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ ٹھیک آٹھ بجے آپ نے اللہ اکبر کہنا ہے۔ قاری صاحب کی رحلت سے محبت، خلوص، وفا کا ایک باب بند ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور ہم پسماندگان کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

