اجتہاد کا مسیحی دنیا سے مستعار تصور

ہمارے شریعت کے دلائل میں قرآن پاک، سنت و حدیث، تیسرا نمبر اجماع کا ہے اور اس کے بعد قیاس اور اجتہاد۔ چوتھے نمبر پر کیا ہے؟ اجتہاد اور قیاس ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ قیاس ہم کہتے ہیں، اجتہاد کے نتیجے میں ہوتا ہے وہ۔ یہ اجتہاد کیا چیز ہے؟ اجتہاد کے پہلو کون کون سے ہیں؟ اور ہمارا آج کی دنیا کے ساتھ اجتہاد کے حوالے سے کیا تنازع ہے اور کیا اختلاف ہے؟ مختلف حلقوں کا اجتہاد کے حوالے سے نقطہ نظر کیا ہے؟ ہمارا نقطہ نظر کیا ہے؟ فرق کیا ہے؟ ہماری اپنی ترجیح کیا ہے؟ یہی باتیں ہوں گی۔اجتہاد کا ایک دائرہ تو وہ ہے جو ہمارا فقہی دائرہ ہے۔ جس میں اجتہاد کی اہمیت پر، مجتہدین کی خدمات پر، اجتہادی مسائل کے درجات پر، ہم بحث کرتے ہیں۔ اس پر میں بحث نہیں کروں گا، اس لیے کہ یہ ہوتی رہتی ہے، پڑھتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں، کسی دوست نے آپ سے بات کی بھی ہو گی۔ میں دوسرے پہلو سے بات کرنا چاہوں گا کہ آج کی دنیا کا ہم سے اجتہاد کا تقاضا کیا ہے۔ ہم پر الزام ہے کہ اجتہاد کرتے نہیں ہیں۔ تقاضا یہ ہے کہ اجتہاد کریں۔ آج کی جدید دنیا ہم سے یہ تقاضا رکھتی ہے کہ ہم اجتہاد کریں۔ اور ہم پر اعتراض یہ ہے کہ اجتہاد کرتے نہیں، جامد ہو گئے ہیں یہ۔ اور پھر اجتہاد کے مختلف فارمولے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ میں آج کی نشست میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کی جدید دنیا کے ساتھ اجتہاد کے مسئلے پر ہماری کشمکش کیا ہے۔

اجتہاد کا ایک دائرہ تو وہ ہے جو ہمارا اپنا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت پر ہماری بنیاد ہے۔ اور جس مسئلے میں قرآن پاک میں صراحت نہ ہو، حدیث میں صراحت نہ ہو، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ‘اجتہد رایی ولا آلو ‘۔ جہاں قرآن پاک سے رہنمائی نہیں ملے گی، حدیث سے رہنمائی نہیں ملے گی، تو وہاں میں کیا کروں گا؟ ‘ اجتہد رایی ولا آلو ‘۔ پوری کوشش کروں گا، کوئی کوتاہی روا نہیں رکھوں گا، اور اجتہاد کروں گا۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق اور توثیق فرمائی تھی کہ تیسرا درجہ یہی ہے پھر۔آج بہت سے لوگوں کا، بالخصوص جن کو ہم متجددین کہتے ہیں یا جدید دانشور کہتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ علمائے کرام اجتہاد نہیں کر رہے۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ ہم کیا کہتے ہیں؟

پہلی بات تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا، ان کے ذہنوں میں اجتہاد کا تصور بالکل مختلف ہے، ہمارے ذہنوں میں اجتہاد کا تصور بالکل مختلف ہے۔ ہم جب اجتہاد کی بات کرتے ہیں تو اس کا دائرہ ہوتا ہے اصولِ فقہ۔ اصولِ فقہ میں ہمیں اجتہاد، قیاس پڑھایا جاتا ہے، پڑھتے ہیں ہم، اس پر عمل بھی ہوتا ہے، اسی کے مطابق مفتیان کرام، مجتہدین، اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ تقاضا کرنے والوں کے ذہن میں اجتہاد کا یہ تصور نہیں ہے۔ ہم اس لیے کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں اجتہاد کرو۔ ہم کہتے ہیں، کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں نہیں کرتے لیکن ان کے ذہن میں اجتہاد کا تصور اور ہوتا ہے، ہمارے ذہن میں اجتہاد کا تصور اور ہے۔ کنفیوژن ہو جاتی ہے، نہ وہ ہماری بات سمجھ پاتے ہیں، نہ ہم ان کی بات سمجھ پاتے ہیں۔ ہم اپنے دائرے میں اجتہاد کے مسائل کا جواب دیتے ہیں، وہ اپنے دائرے میں پوچھتے ہیں۔ جب تک یہ دائرے واضح نہیں ہوں گے کہ اجتہاد کا تصور ان کے ہاں کیا ہے، ہم سے کون سے اجتہاد کا، یا اجتہاد کے نام پر کس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ یہ بات طے ہے کہ وہ جب مطالبہ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں اصول الشاشی والا اجتہاد نہیں ہوتا، نور الانوار والا نہیں ہوتا، حُسامی والا نہیں ہوتا، توضیح تلویح والا نہیں ہوتا۔ ان کے ذہن میں اجتہاد کا تصور اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے، ہم سے وہ اْس کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہم اِس کے دائرے میں جواب دیتے ہیں اور سننے والا کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے، یہ کیا کہہ رہے ہیں، وہ کیا کہہ رہا ہے؟

آج کی دنیا کے سامنے اجتہاد کے جو دو تصور ہیں، دونوں لیے گئے ہیں مسیحی دنیا سے۔ میں اصول الشاشی والے اجتہاد کی بات نہیں کر رہا، آج کی دنیا کے اجتہاد کی بات کر رہا ہوں۔ دو الگ الگ ان کے نقطہ نظر ہیں اجتہاد کے بارے میں۔ اور دونوں کہاں سے لیے گئے ہیں؟ مسیحی دنیا سے۔ آج سے دو سو برس پہلے، تین سو برس پہلے، مسیحی دنیا میں جو انقلاب آیا تھا علمی اور فکری، اور مسیحی دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی، اور ان کے ہاں تبدیلی آئی تھی، جس کو وہ ری کنسٹرکشن کہتے ہیں، شریعت کے احکام کی تشکیلِ نو کہتے ہیں۔ مسیحی دنیا میں اس کی اصطلاح کیا ہے؟ الٰہیاتِ اسلامیہ کی ری کنسٹرکشن۔ آسمانی تعلیمات کی تشکیلِ نو۔ یہ مسیحی دنیا کی اصطلاح ہے۔ تھوڑا سا پس منظر عرض کر دیتا ہوں۔

ہوا یوں، تین چار سو سال یورپ نے اس کیفیت میں گزارے ہیں کہ مذہب ہی حکمران تھا۔ ریاستوں کی بنیاد مذہب پر ہوتی تھی، ریاستوں کی تشکیل اور حکومتوں کا قیام مذہبی رہنماؤں کی صوابدید پر ہوتا تھا۔ سب سے بڑے مذہبی پیشوا پاپائے روم تھے۔ آج بھی ہیں۔ مسیحی دنیا کے تین بڑے فرقے ہیں۔ اْس وقت ایک ہی تھا۔ ایک کیتھولک، جس کے سربراہ پاپائے روم ہیں۔ دوسرا پروٹسٹنٹ، اس کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری کہلاتے ہیں، برطانیہ میں بیٹھتے ہیں۔ اور پاپائے روم پوپ ہیں۔ اور تیسرا آرتھوڈکس، مشرقی یورپ کا چرچ کہلاتا ہے، یونان کا جو بڑا پادری ہو، وہ اْس کا سربراہ ہوتا ہے۔ کیتھولک، پروٹسٹنٹ، آرتھوڈکس۔ یہ تین بڑے دائرے ہیں آج کی مسیحی دنیا کے۔

کیتھولک دنیا میں پاپائے روم کو اور پاپائے روم کی کونسل کو دین کی تعبیر و تشریح میں مکمل اتھارٹی کا درجہ حاصل ہے، آخری اتھارٹی۔ اور دلیل کی بنیاد پر نہیں، صوابدید کی بنیاد پر۔ پاپائے روم جو بائبل کی تشریح کر دیں، جو تعبیر کر دیں، بس ختم۔ حلال، حرام، جائز، ناجائز میں فائنل اتھارٹی کیا ہے؟ پاپائے روم اور پاپائے روم کی کونسل۔ صدیوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ جو کہہ دیں، ٹھیک ہے، جو فیصلہ کر دیں، آخری ہے۔ کوئی چیلنج نہیں ہے، کوئی اپیل نہیں ہے، کوئی دلیل مانگنا نہیں ہے۔ اتھارٹی ہیں وہ۔ اس کو کہتے ہیں صوابدیدی اتھارٹی۔ ہمارے ہاں بھی علماء اور مجتہدین کو یہ اتھارٹی حاصل ہے لیکن وہ استدلالی ہے۔ یہ میں فرق واضح کرنا چاہوں گا۔ ہمارے ہاں بھی دین کی تعبیر اور تشریح کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ اہلِ علم کو، لیکن یہ صوابدیدی نہیں ہے۔ یہ کیا ہے؟ استدلالی، استنباطی۔ کیتھولک عیسائیوں میں بھی دین کی تعبیر اور تشریح، اس میں اتھارٹی علماء ہیں اْن کے، لیکن استدلالی نہیں، صوابدیدی۔ یہ شروع سے چلا آ رہا ہے۔

بخاری شریف کی روایت ہے، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہوئے ہیں، عیسائی تھے، عیسائی قبیلے کے سردار تھے، اسلام قبول کیا، صحابی بنے۔ قرآن پاک پڑھا، قرآن پاک میں ایک آیت میں الجھن کا شکار ہو گئے۔ قرآن پاک پڑھتے پڑھتے ایک آیت کے بارے میں الجھن کا شکار ہو گئے، اشکال پیدا ہو گیا۔ کس کو؟ عدی بن حاتم کو، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ بخاری کی روایت ہے۔ قرآن پاک میں ہے ‘اتخذوا احبارھم و رہبانھم ارباباً من دون اللہ والمسیح ابن مریم ومآ امروا الا لیعبدوا الٰہا واحدا’ (التوبہ)۔ ان عیسائیوں نے مسیح بن مریم کو تو اللہ کے وَرے خداوند بنا ہی لیا تھا، اپنے احبار اور رہبان کو بھی ‘اربابا من دون اللہ’ بنا لیا تھا۔ انہوں نے علماء و مشائخ کو ‘اربابا من دون اللہ’ بنا لیا تھا اور مسیح بن مریم کو تو بنا ہی لیا تھا، وہ آج تک خداوند یسوع مسیح ہیں۔ یہ آیت جب پڑھی عدی بن حاتم نے تو بڑے عیسائی تھے، اسلام قبول کرنے سے پہلے عیسائی سرداروں میں تھے، کہنے لگے، نہیں بھئی، ہم تو نہیں کہتے تھے۔ ہم احبار اور رہبان کو ‘اربابا من دون اللہ’ کا درجہ نہیں دیتے تھے، یہ قرآن پاک نے ہمارے کھاتے میں کیا بات ڈال دی ہے؟ الجھن ہوئی، اشکال ہوا۔ (جاری ہے)