اسلام آباد:جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس کی منظوری دیدی۔جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس چیف جسٹس اور کمیشن کے چیئرمین جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اعلیٰ عدلیہ میں مختلف اہم تقرریوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان شریک ہوئے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن اظہر رضوی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر،، جسٹس جمال خان مندوخیل اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سب سے پہلے سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقرری سے متعلق مشاورت کی گئی، 3 سینئر ججز کے ناموں کا جائزہ لیا گیا، تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیشن نے جسٹس ظفر راجپوت کو سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر نامزد کرنے کی منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق اس کے بعد اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، اس کے لیے بھی 3 سینئر ججز جسٹس کامران خان ملاخیل، جسٹس اقبال احمد کانسی اور جسٹس شوکت علی درخشانی کے ناموں پر غور کیا گیا اور کمیشن نے جسٹس کامران خان ملاخیل کے نام کی منظوری دے دی۔
جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی کے لیے بھی مشاورت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے نام کی منظوری دے دی گئی۔آئین کے مطابق اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں جوڈیشل کمیشن کی سفارش اور پارلیمانی کمیٹی کی توثیق سے مشروط ہوتی ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے نئے مستقل جج کی نامزدگیوں سے متعلق سفارشات صدرِ مملکت کو بھجوائی جائیں گی جس کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
دریں اثناء اجلاس کے جاری اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے رولز تشکیل دینے کیلئے اکثریتی رائے سے کمیٹی تشکیل دے دی، رولز کمیٹی پانچ ارکان پر مشتمل ہوگی، کمیٹی میں وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق نائیک شامل ہیں،کمیٹی میں سینیٹر علی ظفر، احسن بھون شامل ہوں گے۔

