آرمی چیف کی مدت کوتحفظ حاصل،چیف ڈیفنس فورسزکانوٹیفکیشن جلد جاری ہوگا،وفاقی حکومت

اسلام آباد:وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف دی ڈیفنس فورسز کے عہدے کا باضابطہ نوٹی فکیشن جلد جاری ہوجائے گا میرے اور آپ کے لیے پریشانی کی بات نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ آج کل لگتا ہے میڈیا کے پاس کوئی خبر ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرکاری پراسس کا حصہ ہے، وزیراعظم ملک میں نہیں ہیں، وزیر اعظم آجائیں گے تو سب کچھ ہوجانا چاہیے،ہوسکتا ہے فائل ورک ہوچکا ہو۔ وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ وزارت دفاع کو وزیراعظم ہائوس سے کوآرڈی نیشن کے بعد نوٹی فکیشن جاری کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کو پہلے ہی تحفظ حاصل ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت کو نومبر 2027ء تک قانونی تحفظ حاصل ہے، نئی ترمیم کے بعد اکٹھی تعیناتی کا نوٹی فکیشن آئے گا۔

دریں اثناء سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سرکاری گاڑیوں پر پارٹی جھنڈے لہرا کر اسلام آباد پر حملہ غیرآئینی ہے، ہم سب سے بہت غلطیاں ہوچکی ہیں، پاکستان چلے گا تو سیاسی جماعتیں سیاست کرسکیں گی۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وزیر اعظم نے بار بار مذاکرات کی بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے سے ایوان فتح نہیں ہوتے، یہ عوام کا مقدس ایوان ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گورنر راج آئین میں ہے یہ مارشل لا نہیں ہے، پاکستان چلے گا تو سیاسی جماعتیں سیاست کرسکیں گی، پاکستان چلے گا تو بانی پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار کی امید رہے گی۔

علاوہ ازیںقومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیاست کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ چڑھائی کرنے یا جلوس لے کر آنے سے ایوان فتح نہیں ہوتا، وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پی ٹی آئی کا ایوان چھوڑ کر جانے کا فیصلہ غلط تھا۔

انہوں نے کہاکہ سیاست اور فسطائیت میں ایک ہی فرق ہے، سیاست میں دلیل سے بات کی جاتی ہے جبکہ فسطائیت میں انسان کو طاقت کا غرور ہوتا ہے۔ وزیر قانون نے کہاکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، ملک رہے گا تو تمام جماعتیں سیاست کرسکیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو گئی لیکن اس کے باوجود لوگوں نے حدود میں رہ کر احتجاج کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہاکہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ پارلیمنٹ کو تحفظ دوں،ریاست کیخلاف باتیں کرنا غیر مناسب ہے۔اجلاس کے آغاز پر اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ کل ایک ممبر نے ایسی باتیں کیں جس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں،انہوں نے اپوزیشن لابی میں یہ کہا کہ وہ چیئر تک جائیں،انہوں نے شوق پورا کرنا ہے، ضرور کرلیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایک رکن نے بیان دیا کہ عوام کو استعمال کرکے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کارروائی کو چلنے نہیں دیں گے،یہ میری ذمہ داری کہ پارلیمنٹ کو تحفظ دوں ،ریاست کے خلاف یہ باتیں کرنا غیر مناسب ہے،اس کو ہم سب مل کے روکیں گے۔

اسپیکر نے 2014 ء کے دوران اپنی صدارت کے وقت پیش آئے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں چٹھی کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ5منٹ میں باہر نہ گئے تو ان کے کزن اور برادر اندر آ کر جانی نقصان پہنچائیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نہیں جائیں گے۔

حکومتی رکن شمائلہ رانا نے محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ ایوان ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دار بیانات کی مذمت کرتا ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہرخان نے کہا کہ اگر جمہوریت کا لحاظ نہ ہوتا تو وہ آج ایوان میں موجود نہ ہوتے،ایوانوں میں جھگڑے ہوتے رہتے ہیں مگر اختلافات کو بڑھانے کے بجائے تحمل سے حل کرنا چاہیے۔

بیرسٹرگوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی 30 سال سے جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور جنرل ضیا الحق کی آٹھویں ترمیم کو بھی انہوں نے چیلنج کیا تھا،انہوں نے کہا کہ ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ ہم نے ایوان میں حملہ آور نہیں ہونا تھاجو بھی ہوا وہ باہر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اوپر لوگ حملہ آور ہوگئے، حکومت کے کئی وزرا گورنر راج کی بات کرتے رہے،آپ کے آدھے سے زیادہ منسٹر کہہ رہے تھے وہاں گورنر راج لگانا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کو متحد رکھنے کی کوشش کریں اور تقسیم کو کم کریں۔

اسپیکر ایاز صادق نے بیرسٹرگوہر سے پوچھا کہ بطور اسپیکر ان کا کردار اب تک کیسا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان کے دروازے ہر وقت کھلے رہے اور وہ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ ایوان خوش اسلوبی سے چلے۔ اپوزیشن رکن کے جملے پر اسپیکر نے جواب دیا کہ ابھی تو بہت کچھ ہوگاتاہم اسپیکر نے زور دیا کہ کسی بھی دبائو میں آئے بغیر وہ پارلیمنٹ کا تقدس برقرار رکھیں گے۔