بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ آپ انہیں برسوں بلکہ عشرے گزر جانے کے باوجود بھی نہیں بھول پاتے۔ وہ ذہن میں نقش ہوجاتے اور آپ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ آج کے کالم میں ایسا ہی ایک واقعہ اور اس سے جڑی باتیں شیئرکرنا چاہ رہا ہوں۔ یہ میرے کالج کے زمانے کا واقعہ ہے، یعنی خاصا پرانا، لگ بھگ 35 سال پہلے۔ کالج سے واپسی کے راستے میں ایک 60، 65سالہ بزرگ سا آدمی چنے چاول جسے سرائیکی میں چھولے چاول کہتے ہیں کی ریڑھی لگاتا تھا۔ یہ بظاہرعام سی بات تھی۔ اس بابے میں مگرکوئی بات الگ تھی جو اسے دوسروں سے منفرد کرتی۔ ایک بار جس نے اس کی ریڑھی سے پلیٹ بنوائی تو پھر ہمیشہ کیلئے وہ اس کا گاہک ہی بن گیا۔ ان کے چنے اور چاول لذیذ تو تھے ہی، مگر برتن بھی صاف ستھرے ہوتے۔ فی پلیٹ نرخ وہی تھا جو دوسرے چنے چاول والے دیتے، مگر مقدار زیادہ ہوتی۔ دوسروں کے برعکس وہ چنے خاصی مقدار میں ڈالتے، چاول کے ساتھ ہری مرچ، ٹماٹر، پیاز کا سلاد، پودینے کی تیکھی چٹنی، پھر خود ہی گاہک کے مزاج کا اندازہ کر کے درمیان میں تھوڑے سے مزید چنے، چٹنی وغیرہ بغیر کہے ہی ڈال دیتے۔ ابھی یہ سطریں لکھتے ہوئے بھی ان چنے چاول کا ذائقہ گویا منہ میں اترآیا۔ ایک دن اتفاق سے وہ اکیلے ہی کھڑے تھے۔ میں نے پلیٹ بنوائی اور پھر یوں ہی گپ شپ شروع کر دی۔ وہ روہتکی سے ملتی جلتی زبان بولتے تھے، جسے ہمارے ہاں باگڑی کہا جاتا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا آپ کا سودا اس قدر اچھا اور منفرد ہے۔ پلیٹ بھی دوسروں سے ڈبل کے قریب بنا دیتے ہیں، مگر پیسے آپ کے نسبتاً کم ہیں۔ کیا اس سے نقصان نہیں ہو رہا۔ اگر آپ اپنا ریٹ کچھ بڑھادیں تو کمائی بڑھ جائے گی۔ انہوں نے اپنی چمکدار آنکھوں سے میری جانب بغور دیکھا، مسکرائے اور پھر کہنے لگے اللہ نے ہمیشہ میرا ہر مسئلہ بڑی خوش اسلوبی سے حل کیا ہے، مجھے کیا پڑی ہے کہ مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا ہوکر بچتیں کرتا پھروں۔
یہ بات ایک عام، ان پڑھ سے ریڑھی والے سے سن کر اچنبھا سا ہوا۔ میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا کہ آپ کا اللہ تعالیٰ پر اس قدر اعتماد کیسے بن گیا؟ وہ صاحب اپنے مخصوص باگڑی لہجے میں بولے، دیکھو میری 5بیٹیاں ہیں، سب کی سب شادی شدہ اور اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں، مگر چند سال پہلے تک ایسی صورت نہیں تھی۔ بچیاں جوان ہوچکی تھیں، میں ان کے مستقبل کے حوالے سے ہمیشہ پریشان رہتا کہ آخر ان کی شادیوں کا انتظام کیسے ہوگا۔ پریشانی اور الجھنوں نے مجھے چڑچڑا بنا دیا۔ ہر وقت ماتھے پر شکنیں پڑی رہتیں، گھر جاتا تو پریشانی اور بیزاری مزید بڑھ جاتی۔ زندگی عجب کٹھن اور تکلیف دہ انداز سے گزر رہی تھی۔ ایک روزایک مجذوب سا بابا میری ریڑھی کے قریب سے گزرا۔ اس نے ایک نظر میری ریڑھی پر ڈالی۔ مجھے اندازہ ہو گیا یہ بھوکا ہے، دوسرے فقیروں کے برعکس اس بابے نے بھیک کیلئے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا۔ میرے دل میں جانے کیا آئی کہ آواز دے کر اسے بلایا اور ایک اچھی سی پلیٹ بنا کر پیش کی۔ بابے نے خاموشی سے پلیٹ کھائی، پانی کا گلاس پیا اور جاتے جاتے میری جانب آیا، اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور نرمی سے سرائیکی میں بولا بیٹا !تو اپنے اوپر کیوں بوجھ لیے پھررہا ہے، جس کا کام ہے، اسے کرنے دے۔ اس قدر وزن کندھوں پر اٹھائے رکھے گا تو کمر ٹوٹ جائے گی۔ یہ بوجھ اوپر والے، اپنے مالک کے حوالے کر دے، جو تجھ سے ہو سکتا ہے کر لے، اس کے بعد سب کچھ اس ذات پر چھوڑ دے۔ سکون سے بیٹھ اور مزے سے سیٹیاں بجا۔ وہ خود ہی تیرے مسئلوں کا حل نکال دے گا۔
اس بابے کی بات سن کر میں ہل گیا۔ معلوم نہیں وہ کوئی روشن ضمیر درویش تھا، یا ویسے ہی اسے میری پریشان شکل دیکھ کر اندازہ ہوا اور اس نے اپنی عقل کے مطابق وہ مشورہ دیا۔ خیر اس رات گھر جا کر میں نے سونے سے پہلے یہی کام کیا۔ وضو کر کے نماز پڑھی، نفل پڑھے اور پھر سجدے میں پڑ کر خوب رویا، زاروقطار رویا۔ اپنی پوری کہانی رب کو سنائی۔ گلے شکوے بھی کیے، اپنی التجائیں رکھیں اور آخر میں درخواست کی، اللہ میاں! میری بس ہوگئی ہے، میں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر لی۔ آمدنی بڑھانے، وسائل پیدا کرنے اور اپنی پریشانی کا حل نکالنے کی ہر ممکن تدبیر کر چکا ہوں۔ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ جوان بیٹیوں کا پہاڑ سا بوجھ میں کب تک اٹھائے رکھوں؟ میں اب اپنے تمام ہتھیار پھینک کر یہ مسئلہ مولا آپ ہی کے حوالے کرتا ہوں۔ کوشش اور محنت میں پوری کروں گا، مگر آپ خود ہی مجھے کوئی راستہ دکھائیں۔ میرے لئے آسانی پیدا کریںاور اپنے غیب سے مسائل حل کریں۔
یہ بتاتے ہوئے وہ چنے چاول کی ریڑھی والے بزرگ عجیب سے انداز میں مسکرائے، ان کی آنکھوں میں شبنم اتر آئی تھی۔ چند لمحوں کے وقفے کے بعد کہنے لگے، مجھے یوں لگا جیسے میری دعا زمینوں اور آسمانوں کے مالک تک پہنچ گئی ہے۔ عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ اس واقعے کو مشکل سے ایک ہفتہ گزرا ہوگا کہ ہماری برادری ہی سے 2 رشتے آگئے۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہمیں کوئی جہیز چاہیے نہ ہی ہم بارات لے کر آئیں گے۔ 2، 4 بندے آئے اور ڈولی لے گئے۔ ہم سب ہکا بکا تھے کہ اچانک ہی یہ سب کیسے ہوگیا؟ اگلے چند مہینوں میں باقی تینوں بچیوں کے بھی رشتے آئے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کی طرح سب اپنے گھروں کو سدھار گئیں۔ ہم دونوں میاں بیوی اللہ کی قدرت، اس کی مہربانی اور کرم نوازی پر ششدر تھے۔ ایک کمزور، بے عمل غریب ریڑھی والے نے اپنا مسئلہ اللہ کے سپرد کیا تو اس میں ہمارا کیا کمال تھا، کمال تو اس عظیم ذات کا تھا، جس نے ہمارا بھرم رکھا اور وہ تمام بوجھ ہمارے کندھوں سے ہٹا لیا۔ اس دن کے بعد مستقبل کا ہر اندیشہ دل ودماغ سے نکل گیا ہے۔ محنت کے ساتھ رزق حلال کمانے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ آگے کا کبھی نہیں سوچا۔ جو پریشانی، مشکل آتی ہے، وہ اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ وہ بڑی عظمتوں والا ہے، اس کا کام ہے، وہی جانے، جو حل نکال دیتا ہے، اس پر خوش ہوجاتے ہیں۔ کبھی کوئی کام فورا ہوجاتا ہے، کبھی کچھ دیر بھی لگ جاتی ہے، مگر بعد میں ہمیں خود ہی اندازہ ہوجاتا ہے، اس میں دیر ہونا ہمارے لئے ہی بہتر تھا۔
اس بات کو کتنے سال گزر گئے، من کہ عامر خاکوانی گریجویشن اور پھرایل ایل بی کرنے کے بعد صحافت کی دنیا میں داخل ہوا، 29، 30 سال ادھر بھی گزر چکے ہیں۔ وہ ریڑھی والا بابا یقینا اب دنیا سے رخصت ہوچکا ہوگا، مگر اس کا بتایا سبق ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گا۔
لاہور آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک صاحب عرفان بزرگ شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی، ان کی روحانیت پر لیکچرز میں شریک ہوتا رہا۔ بعد میں بہت سی نشستوں کا موقع بھی ملا۔ شاہ صاحب لیکچرز پر مشتمل 8 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جدید دور میں تصوف کے حوالے سے ایسی شاندار کتابیں کہیں اور نہیں دیکھیں۔ اتنے آسان، عام فہم انداز میں تصوف کے باریک نکات کو کھول کر بیان کیا گیا کہ حیرت ہوتی ہے۔ شاہ صاحب کی خوبیاں تو بے شمار ہیں۔ دو باتیں مجھے خاص طور سے پسند ہیں۔ ایک تو وہ اپنی شخصیت کے گرد لوگوں کو جمع کرنے کی بجائے اللہ سے تعلق بنانے پر زور دیتے ہیں۔ ہر ایک کو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ رب سے بات کریں، اسی سے مکالمہ کریں، محبت کریں اور قرب کا تعلق بنائیں۔ دوسرا انہیں میں نے کبھی آج تک پریشان، مضطرب نہیں دیکھا۔ ہمیشہ اطمینان، سکون اور طمانیت کی غیر معمولی صورت میں نظر آئے۔ ایک بات وہ اکثر کہا کرتے ہیں، بندے کو اپنے مسائل اور ان کے من پسند حل کے لیے پریشان ہونے کی بجائے اپنی پوری کوشش کے بعد ہر معاملہ رب کے سپرد کر دینا اور اس پر مکمل اعتماد کرنا چاہیے۔ رب تعالیٰ اس کا بہترین حل نکال دیں گے، ایسا حل جو اس کے شاید وہم وگمان میں بھی نہ ہو۔
میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی ہے، بہت سے دوستوں اور جاننے والوں کو بھی یہ بات بتائی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اپنے مسائل، تکالیف اور پریشانیوں کا بوجھ خود اٹھانے کی بجائے یہ گٹھڑی اتار پھینکتے ہیں، اللہ پر سب چھوڑ دیتے ہیں، خود اپنی سی بہترین کوشش کرتے ہیں اور پھر رب کریم جو نتیجہ نکالے، اس پر راضی ہوجاتے ہیں، تو اس سے بہتر صورت کوئی اور نہیں۔ آپ نہ صرف ریلیکس ہوجاتے ہیں بلکہ سچی بات یہ ہے کہ بہت سے پیچیدہ، الجھے ہوئے مسائل سلجھتے جاتے ہیں۔ اس تیزی کے ساتھ کہ آدمی ششدر رہ جاتا ہے۔
یہ نکتہ یاد رکھیں کہ اپنی طرف سے کوشش میں کوئی کسر نہ رکھی جائے، لیکن نتائج کی ذمہ داری اپنی عقل پر لینے کی بجائے یہ بوجھ اتار پھینکا جائے۔ اپنے رب، اپنے مالک، کائنات کے خالق پر اعتماد کرتے ہوئے نتیجہ ان پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ سمجھنے کی بات صرف ایک ہے کہ بعض اوقات کسی کام میں کسی خاص وجہ سے دیر ہو جاتی ہے اور پھر کچھ مشکلات، آزمائشیں بندے کی بہتری، اسے کندن بنانے کے لیے بھی وارد ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر اپنے رب کا ہاتھ تھاما جائے تو اس پر مکمل اعتماد بھی کرنا چاہیے، پھر نتیجہ جو بھی آئے، اسے خوشدلی سے قبول کیا جائے۔

