پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی عدم استحکام ایک مستقل مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سیاسی کشیدگی، احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ، باہمی محاذ آرائی اور اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی کشمکش نے نہ صرف ملکی نظامِ حکومت کو متاثر کیا ہے بلکہ معیشت، امن و امان، سرمایہ کاری، عوامی اعتماد اور قومی یکجہتی پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک باشعور اور محب وطن شہری کے لیے یہ صورتحال شدید تشویش کا باعث ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کا انحصار سب سے پہلے اس کے سیاسی استحکام پر ہوتا ہے۔دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جہاں سیاسی نظام مضبوط، ادارے مستحکم اور قومی قیادت بالغ نظری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اس کے برعکس جہاں مسلسل سیاسی کشمکش، احتجاجی سیاست اور اقتدار کی رسہ کشی جاری رہے، وہاں ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔ سرمایہ کار ایسے ممالک سے دور رہتے ہیں، معاشی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں اور عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستان آج اسی قسم کے نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات ہیں، دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر قومی اداروں کے حوالے سے بھی مختلف نوعیت کی کشیدگیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، بدامنی اور امن و امان کے مسائل نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب ایک مرتبہ پھر ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب بڑا مارچ کیا جا رہا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرزِ سیاست سے ملک کو کوئی مثبت راستہ ملے گا؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ماضی میں بھی متعدد لانگ مارچ، دھرنے اور احتجاجی تحریکیں چلائی گئیں۔ بعض مواقع پر افسوسناک جانی نقصان ہوا، قومی املاک کو نقصان پہنچا، معیشت متاثر ہوئی اور سیاسی تقسیم مزید گہری ہوئی، مگر ان میں سے اکثر تحریکیں مستقل اور دیرپا سیاسی حل فراہم نہ کر سکیں۔ اس تجربے سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ طاقت کے اظہار اور سڑکوں کی سیاست کے بجائے مذاکرات، آئینی طریقہ کار اور باہمی اعتماد ہی مسائل کے پائیدار حل کا راستہ ہیں۔
سیاسی اختلاف کسی بھی جمہوری معاشرے کا فطری حصہ ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے نظریات رکھتی ہیں، مگر جب معاملہ قومی سلامتی، معیشت اور عوامی مفاد کا ہو تو سب کو ایک میز پر بیٹھ کر اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے۔ دنیا کے کامیاب ممالک میں سیاسی جماعتیں قومی مفادات پر متحد نظر آتی ہیں، خواہ ان کے باہمی اختلافات کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں۔پاکستان کی اہمیت صرف ایک جغرافیائی ریاست کی نہیں بلکہ ایک بڑی اسلامی اور ایٹمی طاقت کی بھی ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں امت مسلمہ مختلف آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ فلسطین، غزہ، کشمیر اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر خطے مسلسل بحرانوں کا شکار ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ بہت سے اسلامی ممالک اور مسلمان عوام پاکستان کو ایک مضبوط اور باوقار ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جو امت کے اجتماعی مفادات کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
اگر پاکستان اندرونی انتشار، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحرانوں میں الجھا رہے گا تو اس کی بین الاقوامی حیثیت بھی متاثر ہوگی۔ ایک کمزور معیشت اور تقسیم شدہ سیاسی ماحول کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی اثرورسوخ کو محدود کر دیتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا استحکام صرف پاکستانی عوام کی ضرورت نہیں بلکہ وسیع تر اسلامی دنیا کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومی ترقی کسی ایک سیاسی جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔ ریاست کی مضبوطی تمام سیاسی قوتوں، ریاستی اداروں، کاروباری طبقے، علمائ، دانشوروں، میڈیا اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک سب فریق قومی مفاد کو ذاتی، جماعتی اور وقتی سیاسی مفادات پر ترجیح نہیں دیں گے، اس وقت تک دیرپا استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قیادت تحمل، برداشت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اختلافات کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ نفرت، اشتعال انگیزی اور تصادم کی سیاست سے اجتناب کیا جائے اور ایسی قومی فضا قائم کی جائے جس میں عوام کو روزگار، تعلیم، صحت، امن اور معاشی استحکام کی امید مل سکے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتا ہے۔پاکستان بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والی عظیم نعمت ہے۔ اس کی سلامتی، استحکام اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج اگر ہم نے سیاسی بصیرت، باہمی احترام اور قومی اتحاد کا راستہ اختیار نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تمام سیاسی و قومی قیادت، ریاستی ادارے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایک جامع قومی مکالمے کا آغاز کریں، اختلافات کو بات چیت سے حل کریں اور پاکستان کو سیاسی استحکام، معاشی خوشحالی اور قومی یکجہتی کی راہ پر گامزن کریں۔یاد رکھنا چاہیے کہ مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان ہی اس کے شہریوں کے روشن مستقبل، قومی سلامتی، معاشی ترقی اور عالمی سطح پر باوقار کردار کی ضمانت ہے۔ جب پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہوگا تو وہ نہ صرف اپنے عوام کی بہتر خدمت کر سکے گا بلکہ عالم اسلام میں بھی اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں ادا کرنے کے قابل ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو قومی ترقی، اتحاد اور روشن مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔
