ارشد ندیم جیولن تھرو کے عالمی مقابلے میں نیزہ پھینک رہے ہیں

پاکستان شطرنج کے عالمی مقابلے میں کامیاب، نیزہ بازی میں ناکام

قومی کھیل کے میدانوں سے ایک ہی روز میں خوشی اور غم کی ملی جلی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایک طرف جہاں پاکستان نے عالمی شطرنج اولمپیاڈ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا، وہیں دوسری طرف اولمپک چیمپئن ارشد ندیم ایشین گیمز کے نیزہ بازی (جیولن تھرو) مقابلے میں میڈل جیتنے میں ناکام رہے۔

ازبکستان کے شہر سمرقند میں کھیلے گئے ورلڈ چیس اولمپیاڈ 2026 میں پاکستانی شطرنج ٹیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی کیٹیگری (کیٹیگری ڈی) میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل جیت لیا۔ صدر چیس فیڈریشن پاکستان ذیشان نقوی نے اختتامی تقریب میں شرکت کی، جبکہ پاکستانی اوپن ٹیم نے 12 میچ پوائنٹس اور 162 گیم پوائنٹس حاصل کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔

اس کے برعکس، ایشین گیمز کے نیزہ بازی کے فائنل میں اولمپک چیمپئن ارشد ندیم اور یاسر سلطان نے پاکستان کی نمائندگی کی، تاہم ارشد ندیم 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے اور ان کی آخری تینوں تھروز فاؤل ہو گئیں۔ اس طرح جہاں شطرنج کے کھلاڑیوں نے فتح کا تاج سر پر سجایا، وہیں ایتھلیٹکس میں قومی ہیرو کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔