کبھی کبھی اعداد وشمار کاغذ پر نہیں آتے، وہی کسی غریب کے گھر کے دروازے پر دستک دیتے ہیں، کہیں وہ غریب کی موٹرسائیکل کی ٹینکی میں مہنگے پیٹرول کی صورت میں کھڑے ہوتے ہیں، کبھی بجلی کے بل میں چھپے ہوتے ہیں، کبھی بند کارخانے کے زنگ آلود دروازے پر لکھے ہوتے ہیں اور کبھی اس مزدور کی آنکھوں میں دکھائی دیتے ہیں، جس نے صبح سویرے سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے باندھے اور روزگار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اگر اس دن اسے روزگار، دیہاڑی نصیب ہوگئی تو اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت شخص تصور کرنے لگ جاتا ہے۔ پاکستان میں آئے روز پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح کا ذکر کیا کریں، جب غریب کی جیب میں چند روپے ہوتے ہیں تو اسی فکر میں ہوتا ہے کہ آٹا لے کر جاتا ہوں تو چینی کے پیسے نہیں اور چینی خرید لی تو پتی کے پیسے پورے نہیں پڑتے۔ غریب دودھ کی قربانی دیتا ہی رہتا ہے۔ اکثر خالی چائے پتی ہی پی لیتا ہے، کیونکہ اس کی جیب کی آمدن اتنی نہیں ہے۔ جبکہ اخراجات کہیں زیادہ جس کی وجہ سے وہ خسارے کا ہی شکار رہتا ہے، اس نے ایک اصول اپنا لیا ہے کہ کتنے ہی مشکل حالات ہوں نہ قرض لے گا نہ دوستوں کا سہارا لے گا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ غریب ہے تو کیا ہوا، خوددار تو ہے، عزت دار تو ہے، کسی کا غلام تو نہیں۔
پاکستان کی تجارت خارجہ بھی کچھ اسی گومگو کی صورت حال سے کئی عشروں سے دوچار ہے، آمدن کم اور اخراجات زیادہ، خسارے کا لامتناہی سلسلہ جاری وساری ہے، لیکن کچھ عرصہ ہوا اب یہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ جس رفتار سے آمدن بڑھتی ہے، تو اس سے دگنی اخراجات ہو جانے کے بعد خسارہ بھی تیز رفتاری سے بڑھنے لگتا ہے اور رواں مالی سال بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے جو دو ماہ کے اعداد وشمار چیخ کر بتا رہے ہیں۔ حکومت ان کی آواز سنے نہ سنے لیکن ہمارا کام ”روزنامہ اسلام” کے ان سطروں میں آواز اٹھانا ہے، تو ملاحظہ فرمائیں، مالی سال 2026-27کے پہلے دو ماہ یعنی جولائی اور اگست میں پاکستان نے 5.46ارب ڈالر کی برآمدات کیں۔ مگر اسی مدت میں 12.58ارب ڈالر کی درآمدات بھی کر ڈالیں۔ یوں صرف اور صرف دو ماہ میں 7.12ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوگیا۔ ذرا ٹھہریے! یعنی جتنی آمدنی اس سے دگنے سے زیادہ اخراجات، لہٰذا آمدن سے کہیں زیادہ تجارتی خسارہ۔ اب جائیں تو کدھر جائیں، یہ ہے پاکستان کی معیشت کی کہانی۔
ابھی گزشتہ مالی سال کے دوسرے مہینے کی بات ہے جب تجارتی خسارہ 6.03ارب ڈالر تھا۔ یعنی ایک ہی سال میں خسارہ 18.1فیصد بڑھ گیا۔ لیکن اصل صورت حال یہاں خراب ہوتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ برآمدات میں سال بہ سال اضافہ 7.04فیصد ہوا اور درآمدات 13.03فیصد بڑھ گئیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری معیشت درآمدات کی قیدی بن کر رہ گئی ہے۔ا پورے منظرنامے کو عام فہم انداز میں سمجھتے ہیں۔ پہلے دو ماہ میں پاکستان نے دنیا کو 5.46ارب ڈالر کی اشیاء فروخت کیں اور دنیا سے تقریباً 12.58ارب ڈالر کی اشیاء خریدیں۔ ذرا غور فرمائیں برآمدات کے مقابلے میں درآمدات تقریباً 2.3گنا ہیں اور سادہ الفاظ میں یوں بیان کرسکتے ہیں کہ 100ڈالر کی برآمد (آمدن) کے مقابلے میں ہم نے تقریباً 230ڈالر کی درآمد (خرچ) کر ڈالے۔
اب زیادہ پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے، اشیائے تعیشات، لگژری آئٹمز، وہ مہنگی درآمدات جن کا متبادل ملک میں بآسانی یا تھوڑی بہت کوشش سے تیار کی جاسکتی ہیں، یا پھر پیٹرولیم مصنوعات اور مہنگی مشینری وغیرہ۔ آج کل کے عالمی معاشی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو استعماری قوتوں نے وہ خطہ جہاں زیادہ خوش حال اسلامی ممالک ہیں، اس خطے کے حالات اتنے زیادہ کشیدہ کردیے گئے ہیں کہ ان ملکوں کی معیشت داؤ پر لگ چکی ہے اور اس کا سب سے متاثر ترین غریب ملک پاکستان ہے۔ جنگ کہیں اور ہو رہی ہے اور مہنگائی کی آگ پاکستان میں لگی ہوئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت اس حد تک عالمی منڈی میں بے یقینی کا شکار ہے کہ پاکستانی معیشت کا خانہ خراب کرنے کے لیے آئی ایم ایف نے فوراً مشورہ دیا اور پابند بھی کردیا کہ اب روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمت طے کرو اور لیوی میں خوب وصولی کرو۔ باہر سے آنے والوں کو کیا پتا کہ یہاں تو دیہاڑی لگانے والا مزدور پھیری لگانے، والا غریب سپلائی دینے والا ورکر، یہ سب لوگ روزانہ پیٹرول ڈالواتے ہیں اور اپنی اشیاء ضرورت کی کسی نہ کسی چیز کی قربانی دے کر بڑھتے ہوئے پیٹرول کی قیمت ادا کرتے ہیں۔
ہم اکثر درآمدات کو بندرگاہ پر اترتے ہوئے کنٹینر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ درآمدی معیشت ہماری زندگی کے اندر داخل ہوچکی ہے۔ یہ موجودہ حکومت کا کارنامہ بالکل ہی نہیں ہے۔ یہ کئی عشروں سے ہمارے پالیسی سازوں، آئی ایم ایف کے مشوروں سے جڑا ہوا ہے۔ اس وقت ہمارا ایک اہم مسئلہ پیٹرول کے بڑھتے ہوئے درآمدی بلوں کا ہے۔ حالانکہ ہمارے پاس بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں سے تیل گیس کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایران سے سستا خام تیل حاصل کر ریفائنریز لگاکر اسے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس طرف ہم نے توجہ نہ دی اور بہت سی ایسی باتیں ہوئیں کہ آج ہم درآمدی معیشت کے قیدی بن گئے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ ہی خیر فرمائے۔
