”ہم حرمین شریفین کو نشانہ بنائیں گے“ تعز کے حوثی مفتی کی بڑھکیں

 ابوصوفیہ چترالی
مکہ مکرمہ کی طرف ایک حوثی ڈرون کے بڑھنے اور سعودی دفاعی نظام کی جانب سے اسے مکہ کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیے جانے کے صرف ایک روز بعد حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا سے نشر ہونے والی ایک ویڈیو نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔

ویڈیو میں حوثی جماعت کی جانب سے تعز کا مفتی قرار دیا جانے والا علوی بن سہل بن عقیل نامی شخص ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں حرمین شریفین کو ”نشانہ بنانے“ کی دھمکی دیتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ ویڈیو حوثیوں کے اپنے ٹی وی چینل المسیرہ نے نشر کی ہے۔ عقیل نے خطاب میں کہا کہ ”ہم آج حرمین شریفین کو نشانہ بنائیں گے“ اور پھر ”نشانہ بنانے“ کی تعبیر کو حرمین کو مسلمانوں کے لیے آزاد اور عظمت و تعظیم کا مرکز بنانے کے مفہوم میں پیش کیا۔ تاہم اس کے الفاظ نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا اور متعدد یمنی صارفین نے اسے حوثی جماعت کے مذہبی خطاب میں مکہ و مدینہ کے حوالے سے ایک سنگین اِشارہ قرار دیا۔ اگرچہ حوثیوں کے حامی اس بیان کو کچھ اور رنگ دے کر کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ حرمین کو آل سعود سے اپنے قبضے میں لینا مراد ہے تو الجزیرہ کا کہنا ہے کہ پھر یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر ”ہدف بنانے“ سے مراد فوجی حملہ نہیں بلکہ تعظیم و تکریم تھی تو پھر ایسا لفظ کیوں استعمال کیا گیا جس کا عام عربی سیاسی و عسکری استعمال کسی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ہوتا ہے؟ ”نستھدف“ کا یہی معنی عرب بچہ بچہ جانتا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب سعودی عرب ایک روز پہلے ہی مکہ کی سمت آنے والے ایک حوثی ڈرون کو روکنے کا اعلان کرچکا تھا۔ اسی پس منظر نے ویڈیو کو مزید حساس بنا دیا۔
سعودی عرب کے سرکاری بیان کے مطابق 15 ستمبر کی شام 6 بج کر 50 منٹ پر سعودی فضائی دفاع نے ایک ”حوثی“ ڈرون کو مکہ کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے جنوبی مکہ کے قریب روک کر تباہ کیا۔ سعودی اتحادی افواج کے ترجمان جنرل ترکی المالکی نے اسے مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا اور کہا کہ پہلی کوشش 27 جولائی 2017ءکو ہوئی تھی۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی اسے مکہ کی طرف حوثی ڈرون حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرون مقدس شہر کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کردیا گیا۔ متعدد عرب اور اسلامی ممالک نے بھی اس واقعے کی مذمت کی لیکن دوسری طرف حوثیوں نے الزام مسترد کیا۔ حوثی سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے اسے ”صریح جھوٹ“ قرار دیا جبکہ حوثی قیادت کے دیگر ارکان نے بھی کہا کہ مکہ کو نشانہ بنانا ان کا مقصد نہیں تھا۔ حوثی بیانات کے مطابق ان کے حملے فوجی یا اقتصادی اہداف کے لیے تھے۔ یعنی تازہ ترین واقعے میں بھی بنیادی اختلاف یہی ہے: سعودی عرب اسے مکہ کی طرف حوثی حملہ قرار دیتا ہے جبکہ حوثی جماعت اس کی تردید کرتی ہے۔
مگر مکہ کا معاملہ نیا نہیں!
حرمین کے حوالے سے موجودہ تنازع کو سمجھنے کے لیے گزشتہ ایک دہائی کے واقعات کو دیکھنا ضروری ہے۔ اکتوبر 2016ءکو سعودی زیرقیادت اتحاد نے اعلان کیا کہ یمن سے حوثیوں کی جانب سے فائر کیا گیا بیلسٹک میزائل مکہ کی طرف بڑھ رہا تھا اور اسے مقدس شہر سے تقریباً 65 کلومیٹر دور تباہ کردیا گیا۔ حوثیوں نے میزائل فائر کیے جانے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ میزائل کا ہدف مکہ نہیں بلکہ جدہ کا کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ تھا۔ حالانکہ اس ایئرپورٹ سے بھی حجاج و معتمرین آتے جاتے ہیں۔ جولائی 2017ءکو حج سے کچھ ہفتے قبل ایک مرتبہ پھر سعودی اتحاد نے اعلان کیا کہ حوثیوں نے مکہ کی سمت بیلسٹک میزائل داغا، جسے طائف کے علاقے میں مکہ سے تقریباً 69 کلومیٹر دور روک لیا گیا۔ حوثیوں نے میزائل فائر کرنے کی ذمہ داری تو قبول کی لیکن کہا کہ ہدف طائف میں موجود کنگ فہد ایئربیس تھا، مکہ نہیں۔ سعودی حکام نے اسے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا اور اس وقت حرمین کے ائمہ و علما کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ سعودی سرکاری خبررساں ادارے نے اسے مکہ کی طرف حوثی میزائل حملے کی دوسری کوشش قرار دیا۔ پھر مئی 2019ءمیں سعودی عرب نے اعلان کیا کہ مکہ ریجن میں دو میزائلوں کو وکا گیا جن میں سے ایک کے بارے میں سعودی ذرائع نے کہا کہ وہ مکہ کی طرف جا رہا تھا۔ حوثیوں نے اس بار بھی مکہ کو ہدف بنانے کی تردید کی۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے دونوں میزائلوں کو مکہ ریجن میں روکے جانے کی تصدیق کی جبکہ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے الزام کو مسترد کیا۔
عبدالملک الحوثی کا جواب
2019 ءکے واقعے کے بعد حوثی رہنما عبد الملک الحوثی نے خود بھی مکہ اور مدینہ کے بارے میں گفتگو کی۔ المسیرہ سے نشر ہونے والی تقریر کے مطابق اس نے مکہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو ”افترا“ اور ”بہتان“ قرار دیا۔ تاہم اسی خطاب میں اس نے کہا کہ مقدس مقامات کو لاحق خطرے کا اصل ذریعہ اس کے نزدیک امریکا، اسرائیل اور ان کے حامی ہیں اور اس نے مکہ، مسجدالحرام اور مسجد نبوی کا حوالہ بھی دیا۔ یہ بیان اہم تھا کیونکہ اس سے حوثی قیادت کا اپنا موقف واضح ہوتا ہے، وہ مکہ کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد کرتے ہیں مگر اگلی سانس میں ہی مقدس مقامات کے بارے میں اپنی سیاسی تعبیر بھی پیش کرتے ہیں۔
” للبیت ربہ یحمیہ “
گزشتہ دنوں ایک اور حوثی رہنما حسین حازب کا بیان بھی سوشل میڈیا پر نمایاں ہوا۔ مکہ کے قریب ڈرون روکے جانے کے بعد اس نے بیان میں کہا: ”للبیت رب یحمیہ“ یعنی ”اس گھر کا ایک رب ہے جو اس کی حفاظت کرے گا۔“ رپورٹ شدہ بیان میں اس نے یہ بھی کہا کہ حرم مکی تمام مسلمانوں، بالخصوص حوثی جماعت کی حفاظت میں ہے۔ یہ جملہ بظاہر مکہ کی حفاظت کا اظہار ہے مگر جس وقت اور جس پس منظر میں سامنے آیا اُس نے سوشل میڈیا پر مزید سوالات کو جنم دیا۔ حرمین سے متعلق حوثی بیانات کے بعد سوشل میڈیا بھی میدانِ جنگ بن گیا ہے۔ تازہ واقعے میں یمنی صارفین نے علوی بن سہل بن عقیل کی ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی۔ بعض نے اسے حوثی مذہبی خطاب میں مکہ کے خلاف ہرزہ سرائی کی تازہ مثال قرار دیا جبکہ بعض نے اسے جماعت کے موقف کا ”صوتی و تصویری ثبوت“ قرار دینے کی کوشش کی۔ اسی دوران یمن کی حکومت کے وزارت اوقاف و ارشاد کے سرکاری اکاو¿نٹ نے بھی مذکورہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقدسات کو نشانہ بنانے کا جواز پیش کیا جائے تو یہ محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا۔
اصل سوال؟
مکہ کے حوالے سے حوثیوں کے خلاف عائد الزامات میں ایک مستقل پہلو ضرور موجود ہے: 2016ئ، 2017ءاور 2019ءمیں مکہ یا مکہ ریجن کی سمت آنے والے میزائلوں کے واقعات اور حالیہ مکہ کے قریب ڈرون کا واقعہ۔ مطلب یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اگرچہ اس ڈرون کی حوثیوں نے تردید کی ہے مگر پہلے زیادہ تباہ کن حملوں یعنی بلیسٹک میزائل حملوں کا وہ خود اعتراف کرچکے ہیں۔ موجودہ معاملے کو زیادہ حساس بنانے والی چیز صرف ڈرون نہیں بلکہ اس کے فوراً بعد سامنے آنے والی تعز کے حوثی مفتی علوی بن سہل بن عقیل کی ویڈیو ہے۔ حوثی میڈیا نے خود اس شخصیت کو اپنے زیر انتظام تعز کا مفتی متعارف کرایا اور اس کے ویڈیو بیان میں ”حرمین کو نشانہ بنانے“ کا جملہ نشر ہوا اور نشر بھی حوثی ترجمان چینل سے ہوا۔ چنانچہ اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ یہ ہے کہ حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات کے بارے میں کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے ترجمان کو ”استہداف“ جیسے ذو معنی لفظ اور اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مذہبی مرکز ہیں۔ ان کے بارے میں عسکری زبان، دھمکی آمیز تعبیر یا مبہم ”نشانہ بنانے“ کی اصطلاح کا استعمال معمولی بات نہیں ہے، بلکہ حوثی جماعت کے ماضی کے میزائل حملوں، موجودہ ڈرون واقعے اور اس مذہبی بیانیے کو ایک ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو رونگٹے کھڑے کر دینے والی نہایت خوفناک تصویر سامنے آتی ہے۔