رپورٹ: علی ہلال
یمن میں عسکری صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ مختلف محاذوں پر حکومتی فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جبکہ اس کے انسانی اثرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ تعز میں مفرق الذکرہ اور الدمنہ و الراہدہ کے علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ حوثی گروپ نے گزشتہ ہفتے یمن کی مغربی ساحلی پٹی مکمل طور پر کنٹرول میں لی ہے تاہم اس وقت پریزیڈنٹل عبوری کونسل کے تحت لڑنے والے درع الوطن اور عمالقہ بریگیڈز نے ساحلی صوبہ تعز اور لحج میں مقبوضہ علاقوں کی واپسی کے لیے شدید کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے میگریشن کے مطابق جنگ کے باعث ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کرگئے ہیں جبکہ 2700 کے قریب انسان بحر احمر عبور کرکے جیبوٹی پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں طائف پر ڈرون حملوں کا تازہ واقعی رونما ہوا ہے جس کے ردعمل میں سعودی عرب کی زیر قیادت عرب اتحاد نے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔ یمنی وزارت خارجہ، قطر اور خلیج تعاون کونسل نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے صوبے الطائف کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی اور عرب میڈیا کے مطابق پاکستان نے حوثی گروپ کو سعودی عرب پر حملے روکنے کے لئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی گروپ کو پابند کریں۔عرب میڈیا نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف انصار اللہ (حوثی) تحریک کے حملوں کو روکنے کی کوشش کرے، اس سے پہلے کہ اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے دفاعی معاہدے کی مشترکہ دفاعی شق کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے لیے عملی اقدام کرنا پڑے۔ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاکستانی آرمی چیف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی متعدد مرتبہ ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں آخری رابطہ گزشتہ جمعرات کو ہوا۔
عرب میڈیا کے مطابق مذاکرات سے باخبر دو ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر نے ایرانی قیادت سے متعدد مرتبہ کہا کہ وہ سعودی عرب اور اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف حوثیوں کے حملے رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کی، تاہم کسی مخصوص کارروائی یا دھمکی کا ذکر نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن میں سرگرم حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا مسلسل سامنا رہا ہے۔ ان حملوں میں سعودی عرب کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا اور توانائی کے شعبے کی اہم تنصیبات متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں گزشتہ مئی کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اب تک سعودی عرب نے عوامی سطح پر پاکستان یا ترکی سے فوجی مدد طلب نہیں کی۔ ترکی اس مشترکہ دفاعی معاہدے میں تیسرا فریق ہے، تاہم سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی جریدے کے مطابق دوسری جانب ایرانی حکام کا موقف ہے کہ حوثی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور ایران کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے۔ تاہم فنانشل ٹائمز کے مطابق حوثیوں کے حملوں سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھانے کے تہران کے مقصد کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔اس پس منظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت سے واقف ایک ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ اسلام آباد اس وقت ”ایک مشکل صورتحال“ سے دوچار ہے۔
جریدے کے مطابق پاکستان نے گزشتہ اپریل میں سعودی عرب کے مشرقی حصے میں واقع ایک فضائی اڈے پر لڑاکا طیارے اور پائلٹ تعینات کیے تھے۔نیز پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران حوثیوں کے حملوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے اپنے دفاعی معاہدوں پر کاربند ہے“۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب نے خطے میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم بظاہر اسے اس سلسلے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور یمنی حکومت اب بھی حوثیوں کو بحیرہ احمر سے متصل ان علاقوں سے پسپائی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جن پر انہوں نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے۔
