گزشتہ سے پیوستہ:
برطانوی مصنفہ کوسلیٹ کا ایک جملہ دیر تک ذہن میں اٹکا رہا کہ دوستی کا فن بڑی حد تک کچھ نہ کرنے کا فن ہے۔ امریکا کی یونیورسٹی آف کنساس کے پروفیسر جیفری ہال کی تحقیق کے مطابق کسی اجنبی کو عام دوست بننے کے لیے کم و بیش 50گھنٹے ساتھ گزارنے پڑتے ہیں جبکہ گہری دوستی کو 200گھنٹوں سے بھی زیادہ درکار ہیں۔ ہمارے ہاں یہ گھنٹے میچ کے بعد گراؤنڈ کے کنارے گپیں ہانکتے یا اسکول سے واپسی پر جان بوجھ کر لمبا راستہ اختیار کرتے گزرتے تھے۔ بزرگ اسے وقت کا ضیاع کہتے تھے، دوستیاں مگر انہی گھنٹوں میں بنتی، پکتی اور سنورتی تھیں۔
اب ذرا آج کے ایک عام شہری بچے کا دن دیکھیں۔ صبح اسکول، دوپہر کو ہوم ورک، شام کو اکیڈمی یا ٹیوشن، بیچ میں کہیں قاری صاحب کی آمد اور جو وقت بچا وہ اسکرین کے حوالے۔ ہم بچے کو ایک منٹ ضائع نہیں کرنے دیتے اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ اس کا کوئی پکا دوست کیوں نہیں؟ اوپر سے بوریت بھی ختم ہو گئی۔ ہمارے زمانے میں بور ہونے والا بچہ کسی کا دروازہ کھٹکھٹاتا تھا، ہم لوگ بوریت کی وجہ ہی سے ناول، کہانیاں، ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے۔ آج بچہ ذرا بور ہوا، اس نے فوری فون یا ٹیبلٹ اٹھا لیا۔یہاں تک پڑھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سارا فساد اس کم بخت مارے موبائل کا ہے۔ یہ آدھا سچ ہے۔ برطانوی رپورٹ نے بھی یوتھ کلبوں کی بندش، عوامی جگہوں کے سکڑنے اور کورونا کو برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ہمارے کلب تو گلی اور اسکول کا گراؤنڈ تھے۔ اب گلیاں گاڑیوں کے قبضے میں ہیں، کھلے پلاٹوں پر پلازے کھڑے ہوگئے اور پارکوں میں بچے کو اکیلا بھیجتے ڈر لگتا ہے۔ یہ خوف بے جا بھی نہیں، ہم خود اپنے چھوٹے بیٹے کو اسی وجہ سے باہر اکیلا نہیں بھیجتے۔ امریکی ماہر سماجی نفسیات جوناتھن ہائٹ نے اپنی مشہور کتاب دی اینکشس جنریشن میں لکھا ہے کہ ہم بچوں کو حقیقی دنیا میں حد سے زیادہ تحفظ دیتے ہیں اور ورچوئل دنیا میں تقریباً کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ پڑھ کر شرمندگی ہوئی، مگر بات سچ لگی۔ ہم بچے کو گلی تک اکیلا نہیں جانے دیتے مگر ٹیبلٹ پر گھنٹوں گیمز کھیلنے دیتے ہیں جہاں دنیا بھر کے لوگ اس کے ساتھ آن لائن موجود ہوتے ہیں۔ پھر اسی ٹیبلٹ پر ڈانٹتے بھی ہیں، حالانکہ اس بند زندگی میں وہی اس کی واحد کھڑکی ہے۔
ایک دیسی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم بچے کے دوستوں کو ان کے نمبروں اور خاندانی پس منظر سے تولنے لگتے ہیں۔ یہ فکر بے بنیاد نہیں۔ احتیاط ضرور کی جائے ۔ دوست کے انتخاب پر نظر رکھنا مگر ایک بات ہے، دوستی کا راستہ ہی بند کر دینا بالکل دوسری۔سب سے آسان حل یہ لگتا ہے کہ ٹیبلٹ چھین لیا جائے۔ متبادل دیے بغیر ایسا کرنا مگر بچے کو اسی کمرے میں اور زیادہ تنہا کر دے گا۔ بچے کو ترغیب دیں کہ دوستوں کو گھر بلائے۔ اس کے لیے سجا ہوا ڈرائنگ روم ضروری نہیں، ایک کپ چائے، کچھ بسکٹ اور تھوڑی سی پرائیویسی کافی ہے۔ ہفتے میں 2-1 شامیں ٹیوشن اور اکیڈمی سے خالی رکھیں۔ کزنز سے میل جول بحال کریں، ہمارے زمانے میں آدھی دوستیاں تو کزنز ہی سے شروع ہوتی تھیں۔ایسا کرتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ جب بچوں میں لڑائی ہو تو فوراً میدان میں مت کودیں، دوسرے بچے کی والدہ کو فون کرکے نیا محاذ مت کھولیں۔ کٹی ہونے دیں، صلح بھی وہ خود کرلیں گے۔آخری بات یہ کہ برطانیہ اور جاپان نے چند برس پہلے تنہائی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ انتظامی شعبے قائم کیے اور وزیر تک مقرر کیے۔ ہمارے ہاں ابھی خاندان اور محلے کی کچھ رمق باقی ہے۔ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں مگر وہاں پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔غالب نے کہا تھا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
ہمارے بچوں کے اردگرد نصیحت کرنے والوں کی کمی نہیں، شرمندگی سے اعتراف کر رہا ہوں کہ خاکسار خود بھی ایک ودھیا قسم کا فل ٹائم ناصح ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارے بچوں کی زندگی میں کمی اس ہم عمر کی ہے جس کے سامنے بچہ اپنی کوئی شرمندگی یا ناکامی بیان کر سکے۔اگلی بار بچے کا رزلٹ کارڈ ہاتھ میں آئے تو نمبروں کے ساتھ ہمیں خود سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ صاحبزادے کا کوئی ایسا دوست بھی ہے جس کے ساتھ وہ ہنستا ہے، لڑتا ہے اور پھر صلح کر لیتا ہے؟ کیا آپ کا بچہ دوست بنا بھی رہا ہے یا نہیں؟اللہ ہمارے بچوں کو ایسے سچے ، مخلص اور اچھے دوست نصیب کرے جو برسوں بعد بھی ان کے لنگوٹیا یار کہلائیں اور ہمیں ہمت دے کہ ہم ان کی دوستیوں کے راستے نہ بند کریں۔ آمین!

