خواتین کے ساتھ حسن سلوک سیرت طیبہ کی روشنی میں

میزبان کا مہمان کے ساتھ، تاجر کا گاہک کے ساتھ، ملازم کا افسر کے ساتھ اور ایک دوست کا دوسرے دوست کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا دشوار نہیں، ان لوگوں کے ساتھ بھی خوش اخلاقی کا ثبوت دینا آسان ہے، جن سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی ہو لیکن شوہر اور بیوی کا رشتہ ایسا رشتہ ہے، جس میں ہر وقت کا ساتھ ہے، خلوت میں اور جلوت میں، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں، صبح و شام اور شب و روز، اس ہمہ وقتی رفاقت میں خوشی کے لمحات بھی آتے ہیں، رنج و غم کی ساعتیں بھی آتی ہیں اور غصہ و ناراضی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں؛ اس لئے انسان دوسروں کے ساتھ تو مصنوعی خوش اخلاقی برت کر کام چلا سکتا ہے اور دو چہروں کے ساتھ زندگی گزارسکتا ہے، ایک اس کا مصنوعی چہرہ جس میں نرمی، خوش اخلاقی، شرافت اور اظہار محبت ہو، وہ باہر کی دنیا میں اسی چہرے سے اپنا تعارف کرائے، دوسرا چہرہ اس کا حقیقی چہرہ ہو، جس میں بد اخلاقی، سخت کلامی، غیظ و غضب اور درشتی و تند خوئی ہولیکن شوہر اور بیوی کا تعلق چوںکہ ہر سرد و گرم میں ہوتا ہے؛ اس لئے یہاں مصنوعی اخلاق کے ذریعے اپنی بداخلاقی کو چھپایا نہیں جا سکتا: اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہترین شخص اس کو قرار دیا، جس کے اخلاق اچھے ہوں، پھر فرمایا کہ تم میں بہتر شخص وہ ہے، جس کا رویہ اس کے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو، اور یہ کہ میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہوں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیاتِ طیبہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین نمونہ ہے!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ‘دعوت دین’ علوم نبوت کی اشاعت اور مختلف قبائل کی دل داری کے مقصد سے خصوصی طورپر چار سے زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی تھی، چنانچہ بحیثیت مجموعی گیارہ پاک بیویاں آپ کے نکاح میں رہیں: حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت عائشہ بنت ابی بکر، حضرت حفصہ بنت عمر، حضرت زینب بن خزیمہ، حضرت اُم سلمہ بنت ابی اُمیہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت جویریہ بنت حارثہ، حضرت اُم حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت صفیہ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہن۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنی ازواج کے ساتھ ہمیشہ اعلیٰ درجے کا سلوک رہا اور کیوں نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم فرمایا: وَعَاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ (النسائ) یعنی بیویوں کے ساتھ بہتر طریقہ پر زندگی گزارو، یہ ایک جامع تعبیر ہے، جس میں خوش اخلاقی، مروت اور پاس و لحاظ کی تمام صورتیں داخل ہیں اور حیاتِ طیبہ بیویوں کے ساتھ اس مثالی طرز عمل کی عملی شکل پیش کرتی ہے۔

خوبیوں کا اعتراف
بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں کا ذکر کیا جائے اور اس سے محبت کا اظہار ہو، یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اس کی تعریف کی جائے یا اس سے محبت کا اظہار کیا جائے تو اس کو خوشی ہوتی ہے لیکن خاص کر اگر شوہر اپنی بیوی کی تعریف کرے تو یہ اس کے لئے سب سے قیمتی سوغات ہوتی ہے، اس کو لگتا ہے کہ اس کی محنت وصول ہوگئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں کے لئے تعریفی کلمات بھی فرمایا کرتے تھے، چنانچہ حضرت عائشہ کے بارے میں فرمایا : جیسے تمام کھانوں میں ثرید عمدہ ہوتا ہے، اسی طرح حضرت عائشہ تمام عورتوں میں بہترین عورت ہے (بخاری) اُم المومنین حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بھی آپ ہمیشہ ان کا ذکر خیر فرماتے تھے؛ اسی لئے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حالاںکہ میں نے حضرت خدیجہ کو نہیں دیکھا لیکن مجھے ان ہی پر سب سے زیادہ رشک آتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کا بار بار تذکرہ فرماتے، بکرا ذبح کرتے تو خود سے اس کے ٹکڑے کرتے اور حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو بھیجتے، حضرت عائشہ نے ایک بار غلبہ رشک میں عرض کیا کہ گویا دنیا میں خدیجہ کے سوا کوئی عورت ہی نہیں تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے فرمایا: وہ بڑی خوبیوں کی مالک تھی، (بخاری) اور انہی سے مجھے اولاد حاصل ہوئی، ایک اور موقع پر آپ نے ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا : جب لوگوں نے انکار کیا، اس وقت وہ ایمان لائیں، جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، اس وقت انھوںنے میری تصدیق کی، جب لوگوں نے مجھے محروم کرنا چاہا، اس وقت انھوںنے اپنے مال سے میری غمگساری کی اور اللہ نے ان کے ذریعے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ (مسند احمد) اکثر جب کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہو جاتا ہے اور وہ دوسرا نکاح کرتا ہے تو اپنی پہلی بیوی کی خدمات اور اس کی قربانیوں کو فراموش کر دیتا ہے، آپ نے اپنے اس ارشاد سے اس بات کا سبق دیا کہ ایسا نہ ہونا چاہئے کہ نئے رشتے کی وجہ سے پرانے رشتے کو فراموش کر دیا جائے۔

اظہارِ محبت
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ازواجِ مطہرات سے اپنی محبت کا اظہار بھی فرماتے تھے اور اس میں تکلف سے کام نہیں لیتے تھے، چنانچہ آپ نے حضرت خدیجہ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو ان کی محبت عطا فرمائی گئی ہے (مسلم) حضرت عمرو بن عاص نے ایک موقع پر دریافت فرمایا کہ آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ آپ انے فرمایا: عائشہ سے، (دیکھئے: اللؤ لؤ والمرجان) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص لوگوں کے درمیان اپنی بیوی سے محبت اظہار کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر آپ اپنے سلوک کے ذریعے بھی محبت کا احساس دلاتے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض دفعہ اپنی کم سن زوجہ مطہرہ کو پیار سے ”یا عائش” کہتے تھے (مسلم) اظہار محبت کی ایک تعبیر یہ ہے کہ آپ نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا: یہ جان لینے کے باوجود کہ جنت میں بھی تم میری بیوی رہوگی، مجھے موت کی پروا نہیں رہی۔ (کنز العمال) غور کیجئے کہ محبت کے اس بول نے حضرت عائشہ کو کس قدر شاد کام کیا ہوگا کہ اس میں جنت میں رفاقت نبوی کا مژدہ بھی ہے اور آپ سے محبت کا اظہار بھی، ایک موقع پر حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ آپ کی مجھ سے کیسی محبت ہے؟ یعنی آپ مجھ سے کس درجہ محبت فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رسی کی گرہ کی طرح، یعنی گرہ جیسی مضبوط ہوتی ہے اور کھولے نہیں کھلتی، اسی طرح تم سے میری محبت ہے، حضرت عائشہ نے استفسار کیا: یہ گرہ کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جیسی تھی ویسی ہی ہے، یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ (حلیہ العلمائ)

اظہار محبت کی ایک ادا وہ بھی تھی، جو حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے کا برتن ہاتھ میں لیتے اور قسم دیتے کہ میں اس میں سے کھاؤں، پھر آپ برتن لیتے اور جہاں سے میں نے منہ لگایا تھا، اسی جگہ سے تناول فرماتے (مسلم) اور ایسا بھی ہوتا کہ ہڈی والے گوشت میں سے جہاں سے حضرت عائشہ کھینچ کر تناول فرماتیں، آپ وہیں پر سے گوشت تناول فرماتے۔ (مسلم) رسول اللہۖ نے نہ صرف خود ازواج مطہرات کے ساتھ اس طرح محبت اور لگاؤ کا اظہار کیا؛ بلکہ اُمت کو بھی اس کی تلقین فرمائی؛ چنانچہ آپۖ نے ارشاد فرمایا: تم جو بھی خرچ کروگے، اس پر اجر پاؤگے، یہاں تک کہ جو لقمہ اپنی بیوی کے منھ میں رکھو گے، اس میں بھی اجر ہے (نسائی) اس میں یوں تو انفاق کی ترغیب دینا مقصود ہے؛ لیکن ایک لطیف اشارہ بیوی کے ساتھ اظہار محبت کا بھی ہے کہ شوہر اپنے ہاتھوں سے بیوی کو لقمہ کھلائے، یہ لقمہ محبت پیٹ ہی کی نہیں دل کی بھی غذا بن جاتا ہے۔ (جاری ہے)