پاکستان کی دستوری تاریخ کچھ زیادہ تابناک نہیں ہے۔ 14 اگست 1947 کے بعد معمولی ترمیمات کے ساتھ پاکستان کوگورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے مطابق چلایا جاتا رہا اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات جولائی 1947 میں منعقد ہوئے تھے۔ یہ نمائندے براہِ راست منتخب شدہ نہیں تھے بلکہ مشرقی بنگال مغربی پنجاب سندھ سرحد اور بلوچستان کے ارکانِ اسمبلی نے بالواسطہ طور پر 69افراد کو منتخب کیا تھا۔ پہلی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس قائداعظم محمد علی جناح کے زیرِ صدارت 10اگست 1947 کو کراچی میں سندھ اسمبلی کی عمارت میں منعقد ہوا۔ یہ اسمبلی 1947 سے 1954 تک کام کرتی رہی۔ تین سو ارکان پر مشتمل دوسری دستور ساز اسمبلی کے انتخابات 21جون 1955 کو منعقد ہوئے اور اس اسمبلی میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان مساوی نمائندگی کے اصول پر مبنی دستور 29فروری 1956 کو منظور ہوا۔ اس میں مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنا کر صوبے کا درجہ دے دیا گیا مگر اس دستور کے تحت انتخابات منعقد نہ ہو سکے حتی کہ 7اکتوبر 1958 کو فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان مارشل لا نافذ کر کے صدراور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر ملک پر مسلط ہو گئے۔
پھر 14فروری 1960 کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ریفرنڈم کے ذریعے اپنی صدارت کی توثیق کرا لی۔ اس کے بعد یکم مارچ 1962 کو بنیادی جمہوریتوں کے نظام پر مبنی دستور منظور ہوا اور 8جون کو مارشل لا ختم کرکے اس دستور کو مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا یہ دستور صدارتی نظام پر مبنی تھا۔ 1962 کے دستور کے تحت دوسرا انتخاب 2جنوری1965 کو ہوا اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صدرِ پاکستان منتخب ہو گئے مگر 25مارچ 1969 کو صدر ایوب خان نے اپنے ہی دستور کی نفی کرکے اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر کے سپرد کرنے کی بجائے کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے سپرد کر دیا اور وہ صدرِ پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر اقتدار پر قابض ہو گئے۔ پھر جنرل یحییٰ خان نے ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر 30مارچ 1970 کو قانونی ڈھانچے کا اعلان کیا اور 313ارکان پر مشتمل دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کا پروگرام بنایا۔ اس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کیلئے بالترتیب 169اور 144نشستیں مختص کیں اور جون 1970 میں انتخابات کا اعلان ہوا مگر مشرقی پاکستان میں سیلاب کے سبب ان انتخابات کو موخر کردیا گیا۔ پھر 7دسمبر 1970 کو قومی اسمبلی اور 17دسمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 169میں سے 167نشستیں حاصل کیں۔ عوامی لیگ کے علاوہ پی ڈی پی کے ٹکٹ پر صرف نورالامین اور آزاد امیدوار راجا تری دیو رائے ہی منتخب ہو سکے جبکہ مغربی پاکستان میں سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت ملی اور خواتین کی نشستوں کو ملا کر ان کے اراکین کی تعداد تقریباً 85تھی۔
جنرل یحییٰ خاں نے جمہوری روایات کے برعکس اقتدار شیخ مجیب الرحمن کو منتقل نہ کیا پھر وہاں بغاوت شروع ہو گئی اور آخرکار 16دسمبر 1971 کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ پھرجنرل یحییٰ خان نے بامرِ مجبوری جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کیا اور وہ پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر بن گئے۔ بعد ازاں17اپریل 1972 کو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے عبوری آئین نافذ کیا اور مارشل لا کو ختم کر کے خود صدرِ پاکستان کے منصب پر فائز ہو گئے۔ اس کے بعد 10اپریل 1973ء کو پارلیمانی نظام پر مبنی متفقہ دستور منظور ہوا۔ اس دستور پر بلوچستان سے نواب خیر بخش مری اور ڈاکٹر عبدالحی بلوچ اور پنجاب سے نظام الدین حیدر اور نور محمد ہاشمی کے علاوہ قومی اسمبلی کے تمام ارکان کے توثیقی دستخط ثبت ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک 53برسوں میں اس آئین میں 27ترمیمات ہو چکی ہیں، حالانکہ امریکی آئین میں ڈھائی سو سال کے عرصے میں صرف 27ترمیمات ہوئی ہیں۔ مقتدر ہ سے قربت رکھنے والے حلقے وقتا فوقتا یہ بشارت دیتے رہتے ہیں کہ پسِ پردہ آئین میں اٹھائیسویں ترمیم کی تیاریاں شروع ہیں اور اس کے مِن جملہ مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ردو بدل کر کے اسے متوازن بنایا جائے اور محاصل کے مرکزی پول سے صوبوں کا حصہ کم کر کے وفاق کے حصے کو بڑھایا جائے تاکہ وفاق کی مالی پوزیشن قدرے بہتر ہو کیونکہ اس کی مالی ذمہ داریوں میں دفاع اندرونی اور بیرونی قرضوں کی اقساط مع سود داخلی سلامتی کا تحفظ نیز علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنا بھی ہے اور موجودہ صورتحال میں اس پر بھاری اخراجات آ رہے ہیں۔ الغرض دلائل کے اعتبار سے وفاق کا موقف مضبوط ہے لیکن یہاں مفادات کا مسئلہ ہے۔
اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کو ناپسند ہے کیونکہ اس کے تحت کل وفاقی محاصل کا ساڑھے ستاون فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے اور وفاق کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ سود سمیت داخلی اور بیرونی قرضوں کی اقساط اور دفاع کے علاوہ وفاقی ڈھانچے کو چلانا مزید در مزید قرضوں کے بغیر عملا ناممکن ہے کیونکہ گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع کیلئے بھی وفاق ہی کو دینا پڑتا ہے۔ پس مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کی تشکیلِ نو مطلوب ہے۔ یہ بھی خواہش ہے کہ نئی انتظامی اکائیوں کو وفاق سے رقوم براہِ راست منتقل ہوں تاکہ صوبوں کی اجارہ داری ختم ہو جائے۔ الغرض سیاسی وانتظامی قوت مالیاتی وسائل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یعنی طاقت کا عدمِ ارتکاز مطلوب ہے۔ منصوبہ سازوں کے خیال میں اس سے وفاق مضبوط ہوگا اور نچلی سطح تک عوام کو قابلِ رسائی حکمرانی ملے گی۔ یہ پنڈورا باکس کھل چکا ہے یقینا پسِ پردہ اس کی تیاری ایک عرصے سے ہو رہی ہو گی مقدمہ مضبوط کرنے کیلئے اعداد وشمار بھی مرتب کر لیے گئے ہیں اور ان کی پہلی جھلک دکھا بھی دی گئی ہے۔
دستور کسی قوم کے متحد رہنے کیلئے حقوق وفرائض کا ایک ڈھانچہ فراہم کرتا ہے یہ آئین وقانون کے دائرے میں کسی قوم کے متحد رہنے کیلئے ایک میثاق ہوتا ہے آج کل اسے Social Contract سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں قومیتوں اور طبقات کو ایک میثاق پر جمع کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے لہٰذا حساس ذی شعور اور پابندِ آئین وقانون افراد کے نزدیک دستور کی حفاظت لازم ہے کیونکہ آئے دن اس کی قطع وبرید اور اس میں حذف و اضافہ دشواریوں کا باعث بنتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ دستور بازیچہ اطفال بن جاتا ہے۔ ہماری تاریخ میں دستور بارہا منسوخ ومعطل ہوا: پہلی بار 1958 دوسری بار 1969 تیسری بار 1977 اور چوتھی بار 1999 میں معطل ہوا۔ اس میں عدلیہ کی معاونت بھی شامل رہی اسے نظریہ ضرورت کا نام دیا گیا۔ جنرل یحیی خاں کے غیر آئینی اقدامات کو 1973 کے آئین میں تحفظ دیا گیا۔ جنرل محمد ضیا الحق کو اس وقت کے چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم کا اختیار دیا اور اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے آئین میں ترمیمات کیں اور پھر 1985 میں منتخب ہونے والی غیر جماعتی قومی اسمبلی نے آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو بن کر اقتدار پر قابض ہو گئے۔ انہیں جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین سال تک حکمران رہنے اور آئین میں ترمیم کا اختیار دیا اور ان کے تمام غیر آئینی اقدامات کو ایک بار پھر 2002 کی منتخب پارلیمنٹ نے سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا یعنی Validate کیا۔ ایسے ہی قانونی مسودوں کو Indemnity Bill سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پس ہر غیر آئینی اقدام کو ہر آنے والی اسمبلی یا پارلیمنٹ کو بامرِ مجبوری تحفظ دینا پڑا کیونکہ ان کی اپنی بقا بھی اس سے وابستہ تھی۔

