غزہ اور مغربی کنارے میں صہیونی مظالم کی انتہا ، 5شہید،متعدد گرفتار

غزہ/تل ابیب/واشنگٹن:غزہ اور مغربی کنارے میں صہیونی مظالم کی انتہا ، 5شہید،متعدد گرفتار،آباد کاروں کے دھاوے،زرعی اراضی ،املاک تباہ کرڈالیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مشرقی غزہ کے علاقے النفق پراسرائیلی ڈرون کے حملے کے نتیجے میں شہری شہید اور دیگر کئی افراد زخمی ہو گئے۔خان یونس کے مغرب میں واقع مدینہ حمد کے علاقے میں قابض دشمن کی گولہ باری سے ایک بچی سمیت تین شہری زخمی ہو گئے۔

غزہ شہر کے حی الصبرہ میں مسجد الاستجابہ کے قریب قابض دشمن کی طرف سے ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک اورفلسطینی جامِ شہادت نوش کر گیا۔ مغرب میں واقع حرش السعادہ کے علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین فلسطینی نوجوان شہید ہو گئے۔

شہید ہونے والے نوجوانوں میں 22 سالہ قیس ابراہیم البیطاوی، 24 سالہ باسل محمد ترمان اور 22 سالہ مؤمن محمد جرادات شامل ہیں۔قابض فوج نے شہداء کے جسدِ خاکی کو تحویل میں لے کر ایمبولینس عملے کو ان تک پہنچنے اور انہیں منتقل کرنے سے روک دیا جس سے ان کے اہل خانہ کے دکھوں اور تکلیف میں مزید اضافہ ہوا اور تدفین کے انتظامات مکمل نہ ہو سکے۔

دریں اثناء قابض فوج اور غاصب آباد کاروں نے فلسطینیوں، ان کی املاک اور اراضی پر اپنے وحشیانہ حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔

جنین، رام اللہ، بیت لحم، نابلس اور بیت المقدس تک پھیلے ہوئے اس غاصبانہ منظر نامے میں قتل، فائرنگ، جسمانی تشدد، گرفتاریوں، زمینوں کی کھدائی اور درختوں کی کٹائی کے واقعات شامل ہیں جو کہ غزہ پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کر رہے ہیں۔

المغیرگاؤں میںقابض آباد کار فوجیوں کی سرپرستی میں مویشی چرانے کے ارادے سے گاؤں کے مغربی علاقے میں گھس آئے۔گاؤں کے غیور باسیوں نے آباد کاروں کا مقابلہ کرنے اور ان کی چوری کی کوشش کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی جبکہ دوسری طرف آباد کاروں نے بھیڑوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو بھیڑیں شدید زخمی ہو گئیں۔

تصادم کے دوران تین شہری بھی زخمی ہو گئے، جن میں ایک ایسا شہری بھی شامل ہے جو ان صہیونی فوجیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا جو آباد کاروں کو تحفظ فراہم کر رہے تھے۔

ادھر بیت لحم کے مغرب میں واقع گاؤں حوسان میں ایک شہری اور اس کے بیٹے کو آباد کاروں نے نشانہ بنایا جنہیں پستول اور بندوقوں کے ہتّوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد شدید چوٹیں اور زخم آئے۔

جنین کے جنوب مغرب میں واقع قصبے یعبد کے ماتحت خربة فراسن میں آباد کاروں نے تقریباً 650 پھل دار زیتون اور امرود کے درخت کاٹ کر تہس نہس کر دیے، اس کے علاوہ زرعی زمین کے اردگرد موجود آبپاشی کے سسٹمز اور باڑ کے حصوں کو بھی تباہ کر دیا۔

جنین کے جنوب میں واقع سہل عرابہ میں آباد کاروں نے انجیر کے درخت کاٹ ڈالے اور تقریباً چار دونم رقبے پر پھیلے ایک فارم میں آبپاشی کے نظام اور لوہے کی باڑ کو بھی مسمار کر دیا۔رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں برقا کے مشرقی حصے میں بھی درختوں اور فصلوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا اس کے علاوہ زرعی ساز و سامان اور فرنیچر بھی چوری کر لیا گیا۔

رام اللہ کے شمال میں واقع ترمسعا میں یہودی آباد کاروں نے قصبے کے مشرقی سمت میں زمین کی کھدائی کا سلسلہ جاری رکھا جس کا مقصد توسیع پسندی کو فروغ دینا اور قصبے کی زمینوں پر قابض ہو کر شلو نامی بستی اور اس کے اردگرد حال ہی میں قائم کی گئی غیر قانونی چوکیوں کو پھیلانا ہے۔

آباد کاروں نے نابلس کے مشرق میں واقع بیت فورک کی زمینوں سے متصل خربہ طانا جانے والے فلسطینیوں کو جمعہ کی نماز ادا کرنے سے زبردستی روک دیا۔نابلس کے جنوب میں واقع گاؤںعورتا میں آباد کاروں نے قابض فوج کی سرپرستی میں دھاوا بولا اور اسلامی مزارات پر جاکر تلمودی رسومات ادا کیں۔

اسی طرح تقریباً پچاس آباد کاروں نے بیت لحم کے مشرق میں واقع برہ زعترہ کے علاقے پر دھاوا بولا اور واد المعلق کے مقام پر ڈیرے ڈال لیے۔

دوسری جانب قابض افواج نے اپنی وحشیانہ گرفتاری کی کارروائیوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا نابلس کے جنوب مغرب میں واقع گاؤںتل سے حسام حسن عصیدہ نامی شہری کو گرفتار کر کے اس کی گاڑی بھی ضبط کر لی۔

اس کے علاوہ قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ پر چھاپے کے دوران ایک نوجوان کو بھی حراست میں لے لیا۔

ادھراسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں ایک سیل کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے جس میں حماس کے ایک رہنما شہید ہوگئے ۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد دونوں نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے انھیں مغربی کنارے میں اپنے اہم ترین رہنمائوں میں شامل قرار دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق جنین میں حملے کے دوران تین افراد مارے گئے جنھیں اس نے دہشت گرد قرار دیا۔فوج کے بیان میں کہا گیا کہ شہید ہونے والوں میں قیس البطاوی بھی شامل تھے جو جنین کیمپ میں حماس کی مقامی سرگرمیوں کے ذمہ دار تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کیمپ آپریشن آئرن وال کے دوران ختم کر دیا گیا تھا اور البطاوی متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے۔

دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے البطاوی کی شہادت پر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور انھیں اپنے ان رہنمائو ں میں شامل قرار دیا جنھوں نے جنین گورنری میں متعدد القسام کارروائیوں کی نگرانی اور انھیں انجام دینے میں کردار ادا کیا۔

ادھر اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے بھی البطاوی کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے انھیں مغربی کنارے میں القدس بریگیڈز کے اہم ترین رہنمائوں میں سے ایک قرار دیا۔

ادھرامریکی ذرائع نے بتایاہے کہ امریکا نے اسرائیل کو جنوبی لبنان کے ضلع النبطیہ میں واقع علی الطاہر کی پہاڑیوں پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کی اجازت نہیں دی تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ واشنگٹن خطے میں اسرائیل کی جانب سے سلامتی کے خطرے سے متعلق محدود کارروائی یا کشیدگی کو سمجھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق علی الطاہر کا معاملہ،سیکورٹی انتظامات اور تجرباتی علاقوں سے متعلق امور آئندہ روم مذاکرات میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی بات چیت کا اہم حصہ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن روم مذاکرات سے قبل اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کی منظوری نہیں دے گا۔