معیشت کے سنگین مسائل پر حکومت شرمندہ ہے، صدر پیزشکیان

تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کو درپیش موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت معاشی، فوجی اور سکیورٹی محاذ پر شدید دبا کا سامنا کر رہا ہے۔ٹیلی ویژن خطاب میں پیزشکیان نے کہا کہ ہم مکمل معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ میں ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کی معیشت میں موجود نمایاں مسائل پر حکومت کو شرمندگی ہے۔

ایرانی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی اور سخت پابندیوں کی دھمکیوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ آسانی سے یہ کہتے ہیں کہ امریکا ایران پر سب سے تباہ کن یا بدترین پابندیاں عائد کرے گا۔پیزشکیان نے کہا کہ ایران اس غیر مساوی جنگ کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے اور عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بیان میں معاشی مشکلات اور جنگ کے اثرات پر خاص توجہ دکھائی دی۔

حالیہ دنوں میں ایران پر امریکی معاشی دبا میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور جنگ کے باعث شدید دبا میں ہے۔ آبنائیہرمز

دوسری جانب پیزشکیان نے حالیہ دنوں میں جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سے ختم کرنا بہتر ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔