بیجنگ:چین میں ایک عدالت نے وہاں کی ایک بڑی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کمپنی کے مالک کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
چینی کمپنی چائنا ایور گرینڈ گروپ کے بانی کے خلاف عدالت نے عمر قید کے ساتھ ساتھ ایک ارب 31 کروڑ ڈالرز جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
کمپنی کے مالک ہوئی کا یان کسی زمانے میں ایشیا کے امیر ترین شخص تھے اور انہوں نے اپریل2026 ء میں فنڈز کے غلط استعمال، فنڈ رائزنگ فراڈ، عوام سے غیر قانونی طور پر رقوم لینے اور رشوت سمیت8 الزامات میں اپنا جرم قبول کرلیا تھا۔
یہ کمپنی کسی زمانے میں چین کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کمپنی تھی اور 2023 ء میں دیوالیہ ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں چینی معیشت اور مالیاتی مارکیٹس کو شدید دھچکا بھی پہنچا تھا۔چین کے شہر شینزن کی عدالت نے ہوئی کا یان کو سزا سنائی جبکہ ان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔
ہوئی کا یان کو چینی انتظامیہ نے کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے بعد حراست میں لیا تھا۔عدالت کی جانب سے کمپنی کے5 اعلیٰ عہدیداروں کو بھی6 تا 18 سال قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی گئیں۔مجموعی طور پر کمپنی سے جڑے56 افراد کو عدالت کی جانب سے سزائیں سنائی گئیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس کمپنی اور اس کے بانی کے اقدامات سے بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے، معیشت کو بہت زیادہ مالی نقصانات کا سامنا ہوا جبکہ معاشرے کو بھی نقصان پہنچا۔

