تیسری و آخری قسط:
میر ے نزدیک مفتی عبد الرحیم صاحب کی شخصیت کا مطالعہ بھی اسی زاویے سے ہونا چاہیے۔ مفتی صاحب نے وقت سے پہلے مدارس کی اصلاح کے حوالے سے وہ اقدامات کیے جو اُن کے ہم عصر محسوس نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے وقت سے پہلے مدارس کے بارے میں یہ سوچ پیدا کی کہ انہیں صرف اپنے وجود کا دفاع نہیں کرنا بلکہ اقدام کرتے ہوئے اپنے نظام کو اتنا مؤثر بنانا ہے تاکہ وہ آنے والے زمانے کے تقاضوں کا جواب دے سکیں۔ انہوں نے مدارس کے فضلاء کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کی، جدید دنیا کے ساتھ رابطے استوار کیے، تخصصات کو مؤثر بنانے کی جدوجہد کی اور مدارس کے مثبت تشخص کو معاشرے میں اجاگر کرنے کے لیے مسلسل کام کیا۔ ان تمام اقدامات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی تفصیلات پر بحث ہو سکتی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ انہوں نے کوئی عملی جدوجہد نہیں کی۔
ان تمام حقائق کو سامنے رکھ کر اگر اس پورے معاملے پر غورکیا جائے تو دل میں ایک درد اور ایک احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے مفتی صاحب کی صورت میں ایک مضطرب دل، ایک فکر، ایک وژن اور ایک تحریک کو خوداپنے ہاتھوں سے اپنے سے دور کیاہے۔ اگر مفتی صاحب مجمع کی صورت میں اپنا راستہ الگ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نے بھی انہیں خود سے دور دھکیلنے میں بھرپور محنت کی ہے۔ اس لیے صرف مفتی صاحب کی طرف انگلی اٹھانے کے بجائے ہمیں خود بھی اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم نے ان کی اصلاحی تجاویز اور ان کے تجربات کو سنجیدگی سے لیا؟ کیا ہم نے ان کے درد کو اپنا درد سمجھا؟ یا پھر ہم نے اپنے جمود اور اپنی مزاحمتی سوچ کے ذریعے انہیں آہستہ آہستہ اس مقام تک پہنچا یا جہاں ان کے پاس الگ راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا؟ مفتی صاحب جیسے لوگ وقت سے پہلے وہ چیزیں محسوس کرلیتے ہیں جنہیں ان کے ہم عصر برسوں بعد دیکھ پاتے ہیں۔ ایسے لوگ زمانے کی آہٹ سن کر پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں جبکہ باقی لوگ حال کے حصار میں قید رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے عہد میں داد کم اور مخالفت زیادہ ملتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہی کی فکر راستہ بن جاتی ہے۔ جب کوئی انسان خالصتاًلوجہ اللہ اور اُمت کے درد و اضطراب کو اپنے سینے میں لیے میدان میں اترتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی بصیرت عطا فرماتے ہیں جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ وہ ایسے امکانات دیکھ لیتا ہے جنہیں عام نگاہ محسوس نہیں کر سکتی اور وہ ایسے فیصلے کرنے کی بصیرت حاصل کرلیتا ہے جن سے لوگ ابتدا میں خوف زدہ ہوتے ہیں۔
میری یہ خواہش ہے اور یقینا بہت سے دیگر احباب کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ دینی مدارس کے اندر پیدا ہونے والی یہ دوریاں ختم ہوں۔ اختلاف کی فضا ختم ہو اور وہ تمام شخصیات جو مدارس کی بہتری کے لیے سوچتی ہیں دوبارہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ لیکن یہ اتحاد صرف جذباتی نعروں سے پیدا نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے فکری وسعت، ادارہ جاتی لچک اور اصلاحات کو قبول کرنے کا حوصلہ درکار ہوگا۔ اگر واقعی اجتماعیت کو مضبوط کرنا مقصود ہے تو پھر اصلاحات کو بھی اسی اجتماعیت کا حصہ بنانا ہوگا۔ مفتی صاحب کی جدوجہد کے نتیجے میں مدارس کی دنیا میں جو مثبت تجربات سامنے آ چکے ہیں ان کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینا ہوگا اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدارس کے مستقبل کے حوالے سے فیصلے کرنے ہوں گے۔
مدارس، مذہبی فکر اور دینی جماعتوں کے ہر خیرخواہ کی یہی خواہش ہے کہ مفتی عبد الرحیم صاحب دوبارہ وفاق المدارس کا حصہ بنیں۔ لیکن اس کی صورت یہ نہیں ہو سکتی کہ مفتی صاحب سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ اپنی تمام اصلاحات، اپنے اقدامی فیصلوں اور اپنی اصلاحی فکر سے دستبردار ہو کر پیچھے آ جائیں۔ یہ نہ حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے اور نہ ہی انصاف پر مبنی۔ اگر کسی کو آگے بڑھنا ہے تو وہ وفاق المدارس اور اس کے ذمہ داران ہیں۔ اصل ذمہ داری وفاق کی ہے مفتی صاحب کی نہیں۔ کیونکہ وفاق کو آگے بڑھ کر ان اصلاحات کو قبول کرنا ہوگا جو مفتی صاحب نے مدارس کے نصاب، نظام اور طلبہ کے مستقبل کے لیے متعارف کروائی ہیں۔ اگر اجتماعیت کو بحال کرنا مقصود ہے تو راستہ یہ نہیں کہ ایک مصلح اپنے قدم پیچھے ہٹائے بلکہ راستہ یہ ہے کہ پیچھے رہ جانے والے آگے بڑھیں، وفاق آگے بڑھے، مفتی صاحب جو اصلاحات اور مثبت تبدیلیاں لا چکے ہیں ان کو قبول کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ کبھی رکتا نہیں بلکہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے۔ ہر دور اپنے ساتھ نئے تقاضے، نئے چیلنجز اور نئی ضروریات لے کر آتا ہے اور جو ادارے ان تبدیلیوں کو بروقت سمجھ کر خود کو ان کے مطابق ڈھال لیتے ہیں وہی اپنی افادیت اور اثر برقرار رکھ پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو ادارے صرف ماضی کی کامیابیوں پر اطمینان کر لیتے ہیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات سے گریز کرتے ہیں وہ رفتہ رفتہ اپنے دائرہ اثر کو محدود کر لیتے ہیں۔ دینی مدارس کا نظام بھی اس حقیقت سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر مدارس کو آئندہ نسلوں کے لیے زیادہ مؤثر، فعال اور باوقار بنانا ہے تو انہیں ایسی اصلاحات کو قبول کرنا ہوگا جو ان کے دینی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے فضلا کے مستقبل کو بھی محفوظ بنائیں۔ مستقبل انہی افراد، اداروں اور تعلیمی بورڈز کا ہوگا جو مدارس کے طلبہ کو صرف دینی تعلیم ہی نہیں دیں گے بلکہ انہیں نفسیاتی اطمینان، تعلیمی وقار اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع بھی فراہم کریں گے۔ مستقبل میں ایسے بورڈز ہی قابلِ قبول اور پائیدار ثابت ہوں گے جو طلبہ کے لیے روزگار کے نئے امکانات پیدا کریں گے۔ انہیں ریاستی، تعلیمی، تحقیقی اور سماجی اداروں میں باوقار نمائندگی کا موقع دیں گے اور معاشرے میں اُن کے اثر و رسوخ اور مثبت نفوذ کو بڑھانے کا ذریعہ بنیں گے اور میرا خیال ہے کہ وفاق اور اس اس کے ذمہ داران جتنی جلدی اس حقیقت کو سمجھ لیں گے اتنی جلدی وفاق اور مجمع میں اجتماعیت کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔

